کچھ عباس تابش کے بارے میں۔۔۔

(گزشتہ سے پیوستہ )

جیسا کہ میں نے کالم کے شروع میں کہا تھا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں، میں نے اپنے علاج کے لئے جو ادبی ٹوٹکے استعمال کئے ان سے افاقہ تو ہوا ، مگر طبیعت کی بحالی میں ابھی وقت لگے گا ۔ چنانچہ بہت کچھ جو ابھی میں کہنا چاہ رہا تھا وہ سب آئندہ پر چھوڑتے ہوئے ، آخر میں عباس تابش کی وہ غزلیں آپ کو سناتا ہوں جو مجھے ’’معاصر‘‘ کے دفتر میں ان سے سننے کو ملیں۔ اب مجھے اجازت دیں:

یہ دوپہر ہے اسے میکدے کی شام کریں

ملو کہ مل کے اداسی کو غرق جام کریں

میرے لئے وہی سقراط کا پیالہ کیوں

یہ پی چکا ہوں کوئی اور انتظام کریں

کلیجہ منہ کو بھی آئے تو یہ نہیں ممکن

تو ہم کلام نہ ہو اور ہم کلام کریں

انہیں کہو کہ میرا جرم صرف میرا ہے

انہیں کہو میرے سجدے کا احترام کریں

تو اپنا ہاتھ بڑھا میں بڑھائوں اپنا ہاتھ

دیا دیے سے جلانے کا اہتمام کریں

میں باقی عمر پرندوں میں رہنا چاہتا ہوں

میرے لئے کسی پنجرے کا انتظام کریں

یہاں تو کچھ نہیں غرفے کی جالیوں جیسا

ہمارے گھر میں کبوتر کہاں قیام کریں

«««««

بچوں کی طرح وقت بِتانے میں لگے ہیں

دیوار پہ ہم پھول بنانے میں لگے ہیں

دھونے سے بھی جاتی نہیں اس ہاتھ کی خوشبو

ہم ہاتھ چھڑا کر بھی چھڑانے میں لگے ہیں

لگتا ہے وہی دن ہی گزارے ہیں تیرے ساتھ

وہ دن جو تجھے اپنا بنانے میں لگے ہیں

لوری جو سنی تھی وہی بچوں کو سنا کر

ہم دیکھے ہوئے خواب دکھانے میں لگے ہیں

دیوار کے اس پار نہیں دیکھ رہےکیا؟

یہ لوگ جو دیوار گرانے میں لگے ہیں

ہر لقمہ تر خون میں تر ہے تو عجب کیا

ہم رزق نہیں ظلم کمانے میں لگے ہیں

افسوس کہ یہ شہر جنہیں پال رہا ہے

دیمک کی طرح شہر کو کھانے میں لگے ہیں

«««««

زخم سے پھول اُگے پھول سے خوشبو آئے

تجھ سے وہ بات کرے جس کو یہ جادو آئے

تیرے ہونٹوں پہ کسی اور کی باتیں آئیں

میری آنکھوں میں کسی اور کے آنسو آئیں

اتنا آسان نہیں ملاح کا بیٹا ہونا

نائو ڈوبی تو میرے ہاتھ میں چپو آئے

یہ جو ہر پھول کی مٹھی سے نکل جاتی ہے

عین ممکن ہے کبھی یہ میرے قابو آئے

اس نے مجھ میں گل امید کھِلا رکھا ہے

تاکہ مجھ سے نہ کسی اور کی خوشبو آئے

چاند چہرے مجھے اچھے تو بہت لگتے ہیں

عشق میں اس سے کروں گا جسے اردو آئے

«««««

تمہاری رائے میں جو معتبر زیادہ ہے

زیادہ کیوں نہیں لگتا اگر زیادہ ہے

نہ جانے کون سا درجہ ہے یہ فقیری کا

کہ مجھ میں آدمی کم اور شجر زیادہ ہے

تو مان لیجئے میں مستحق زیادہ ہوں

تمہارے پاس محبت اگر زیادہ ہے

اسے سمیٹنا آنکھوں کے بس کی بات نہیں

کہ تیرے شہر میں رزق نظر زیادہ ہے

تو اپنے بخت کا مجھ سے مقابلہ مت کر

کہ میرے پاس یہ کشکول بھر زیادہ ہے

کہ اس لئے بھی زیادہ قریب ہیں ہم تم

کہ اگلی بار نہ ملنے کا ڈر زیادہ ہے

میں اس لئے بھی وطن لوٹ کر نہیں جاتا

کہ مجھ غریب کی عزت ادھر زیادہ ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *