روحانیت کی کڑی شرائط

میں جب بھی روحانیت کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں تو کچھ مشکلات آڑے آ جاتی ہیں، مثلاً ایک مشکل تو یہ ہے کہ روحانیت کے بارے میں سوال پوچھنے کو ہی بدنیتی سمجھا جاتا ہے، جو لوگ اس راہ کے مسافر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ سوالات کا جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کرنے والے کا ہی تمسخر اڑانا شروع کر دیتے ہیں، اُن کی رائے میں کسی کو سرے سے یہ حق ہی حاصل نہیں کہ وہ روحانیت کے بارے میں کسی بھی قسم کا سوال اٹھائے، وہ کہتے ہیں کہ راہ سلوک ایک کٹھن راستہ ہے، بعض اوقات تمام عمر بھی اس پر چلتے رہو تو نظر کرم نہیں ہوتی اور بعض دفعہ ایسی قلبی واردات ہوتی ہے کہ صدیوں کا سفر منٹوں میں طے ہو جاتا ہے، یہ باتیں چونکہ عام انسانی ذہن سے ماورا ہیں سو لامحالہ دماغ میں سوال اٹھتے ہیں مگر روحانیت کا کوئی دعویدار بھی ان سوالوں کا جواب دینا نہیں جانتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص روحانی تجربات کا عقلی ثبوت مانگے یا مبہم باتوں کی تشریح پوچھ بیٹھے تو یہ کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ دنیا دار لوگوں کو ان باتوں کی سمجھ کبھی آ ہی نہیں سکتی، یہ لوگ مادہ پرستی میں ڈوبے ہیں، یہ روحانی تجربات کیا جانیں، ان کے پاس تو دیدہ بینا ہی نہیں، خدا نے انہیں وہ آنکھ ہی نہیں دی جو دوسری دنیا میں جھانک سکے، یہ بیچارے پردے کے اُس پار دیکھ ہی نہیں سکتے تو انہیں کیسے سمجھایا جائے سو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے کہ یہ عقل کے پجاری اپنی لاعلمی میں روحانیت کا تمسخر اڑاتے ہیں، یہ کیا جانیں اللہ کے قرب میں کیا لطف ہے! ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اگر کوئی اللہ کا بندہ خلوص نیت سے راہ سلوک کا مسافر بننے کی درخواست دے ہی ڈالے تو اس کے ساتھ بھی عجیب و غریب شرائط نتھی کر دی جاتی ہیں جنہیں پورا کرنا کسی کے بس کا کام نہیں، مثلاً پہلے اپنی روح کو پاکیزہ کرو، دل کی تطہیر کرو، باطن کی صفائی کرو۔۔۔یہ وہ باتیں ہیں جو ایک عام انسان کے لئے قریباً ناممکن ہیں، اسی لئے تو وہ آپ کے پاس آتا ہے کہ آپ اسے بتائیں کہ یہ سب کیسے کیا جائے مگر آپ اسے دنیا کا کتا کہہ کر بھگا دیتے ہیں، بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کا روحانیت پر ایمان ہی نہیں،اب وہ بیچارہ جائے تو کہاں جائے، کرے تو کیا کرے۔روحانیت سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں، روحانیت تو محبت کا دوسرا نام ہے، روحانیت تواحترام انسانیت ہے، یہ دلوں کو جوڑتی ہے، انسان کو سیدھی راہ پر ڈالتی ہے، مرشد اعظم داتا علی ہجویری کے الفاظ میں روحانیت کا سبق سادہ ہے کہ شریعت پر عمل ہو، نیک طبیعت ہو، ظاہر اور باطن میں فرق نہ ہو، منافقت نہ ہو، جھوٹ، بغض اور کینہ نہ ہو، شہرت اور دولت کی طمع نہ ہو، اقتدار کی ہوس نہ ہو۔۔۔۔ بس اور کیا! لیکن روحانیت کے چند خودساختہ دعویداروں سے مجھے ضرور مسئلہ ہے اور وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ وہ دبے الفاظ میں اپنے ولی ہونے کا اظہار تو فرماتے رہتے ہیں مگر ولیوں جیسی کوئی بات اُن میں نظر نہیں آتی اور جب اس بابت کچھ پوچھو تو وہی گھڑا گھڑایا جواب کہ تم دنیادار لوگ کیا جانو اس روحانی دنیا کا لطف، جاؤ جا کر پہلے اپنے گناہوں کو دھو کر آؤ، پہلے اپنے دل سے نفرت نکال کر آؤ پھر بات کرنا، مگر گارنٹی پھر بھی نہیں کہ تمہیں ہم اس راہ سلوک کا مسافر بنا دیں کیونکہ یہ سفر تو کئی دہائیوں کی مسافت پر محیط ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم۔ اب کیا کیجئے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ البتہ میرے ذہن میں ہے اور وہ یہ کہ آج کل کے ولایت کے دعویداروں کو اسی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لیتے ہیں کہ کیا وہ خود اُن کڑی شرائط پر پورا اترتے ہیں جن کا پرچار وہ دن رات کرتے ہیں !

پہلی بات تو وہی جو حضرت داتا گنج بخش فرما گئے کہ طریقت کے لئے شریعت کا پابند ہونا ضروری ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ خود کو پیر، فقیر، بابا، ولی یا صوفی کہنے والا دین اسلام کے بنیادی ارکان سے ہی ماورا ہو، ولایت کی گٹھڑی کسی شرابی کے سر پر نہیں رکھی جا سکتی، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کا پابند ہونا لازمی ہے، اس کی کوئی معافی ہے اور نہ کسی بھی صورت میں کوئی استثنیٰ۔ بظاہر یوں لگتاہے کہ یہ باتیں تو بیان کرنا بھی ضروری نہیں کہ لامحالہ ایسا ہی ہونا چاہیے مگر اس بات کا کیا کیجئے کہ خود کو ولی کہنے والے بعض لوگ ہماری آنکھوں کے سامنے خلاف شریعت عمل کرتے ہیں اور ہم آنکھیں بند کرکے انہیں مان لیتے ہیں۔ صوفی ہونے کے دعویداروں کیلئے دوسری کڑی شرط یہ ہے کہ شریعت پر عمل کرنے کے علاوہ وہ تمام آلائشوں سے بھی پاک ہوں، یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ نماز روزہ تو کریں مگر روزمرہ معاملات میں جھوٹ بولیں۔ اسی طرح ان کے دل بغض اور کینے سے پاک ہونے چاہئیں، کوئی سوال پوچھے تو جواب میں تمسخرانہ یا متکبرانہ رویہ نہ ہو، ظاہر اور باطن میں کوئی فرق نہ ہو، ولی وہ نہیں ہوتا جو ایک لمحے کوئی بات کرے اور دوسرے ہی لمحے اُس کی کوئی تاویل گھڑ کے بالکل الٹ بات کردے، مثلاً آج کل کے روحانیت کے پرچارک کہتے ہیں کہ تصوف شعبدے بازی کا نام نہیں، بالکل درست کہتے ہیں، مگر اگلی ہی سانس میں وہ تمام قصے سناتے ہیں جنہیں سن کر بندہ سوچتا ہے کہ یہ راہ سلوک کا کیسا مسافر ہے جو اپنی پوسٹنگ ٹرانسفر کروانے والے کو مرشد کہتا ہے اور جو اقتدار کیلئے چلہ کاٹنے والے کو صوفی کہتا ہے! اسی طرح روحانیت کے علم برداروں کو یہ بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ دنیاوی شہرت کے پیچھے بھاگیں، ہاں لوگ ان کے در پر کھنچے چلیں آئیں وہ اور بات ہے مگر اُن کے کسی فعل سے دنیا کی طلب ظاہر نہیں ہونی چاہئے، اقتدار اور اختیار کی خواہش تو سرے سے ہی قابل قبول نہیں، وہ صوفی ہی کیا جس کے من میں میل ہو، جو دل میں کدورت رکھے، جو لوگوں سے نفرت کرے، خود کو عام آدمی سے برتر سمجھے، دنیا والوں کو یک جنبش قلم گناہ گار اور خود کو پارسا کہے۔یہ رویہ کسی صوفی تو کیا عام انسان کو بھی زیب نہیں دیتا۔ ان کڑی شرائط کی روشنی میں اگر کسی کے علم میں ہو کہ ایک اللہ کا ولی ان پر پورا اترتا ہے تو میں اُس کے در دولت پر حاضری دینے کو نہ صرف تیار ہوں بلکہ خود کو بدلنے پر بھی راضی ہوں، لیکن اگر کسی میں یہ خصوصیات ہی نہ ہوں اور ساتھ ہی وہ روحانیت کے دعوے بھی طمطراق سے کرے تو ایسی صورت میں جان لیں کہ وہ شخص دین کو صرف سیڑھی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اس کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ روحانیت پاکیزگی کا نام ہے، اس کا دعویٰ کرنے والوں کے من میں سفلی جذبات نہیں ہوتے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *