’22 سالہ پولیس سروس میں اس سے زیادہ المناک واقعہ رونما ہوتے نہیں دیکھا

’میری زندگی میں خوشی کے جو بڑے لمحات آئے ہیں ان میں سے ایک لمحہ وہ تھا جب موت کو چکمہ دینے والی ایک بچی نہ صرف اپنے پیروں پر میرے سامنے کھڑی تھی بلکہ مجھے ہار بھی پہنا رہی تھی۔ یہ خوشی اتنی بڑی تھی کہ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے۔‘

یہ کہنا تھا کہ کوئٹہ کے نیو سریاب پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی کا جنھوں نے ایک واقعے میں شدید زخمی ہونے والی سات سالہ بچی کو نہ صرف ہسپتال پہنچایا بلکہ اس کی جان بچانے کے لیے اپنا خون بھی عطیہ کیا۔

بچی اور اس کے بہن بھائیوں کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

سات سالہ بچی کوئٹہ شہر کے علاقے کلی مینگل آباد کی رہائشی اور مقامی سیاسی کارکن کی صاحبزادی ہیں۔ وہ اپنے چار بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔

15 مارچ کو ان کے والدین کی عدم موجودگی میں ایک شخص اُن کے گھر میں داخل ہوا اور چاروں بہن بھائیوں کا گلا بظاہر یہ سوچ کر کاٹا کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ پائے۔

اس واقعے میں دیگر تین بہن بھائی ہلاک ہو گئے لیکن سات سالہ بچی شدید زخمی ہونے کے باوجود بچ گئیں۔

ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی کو اس واقعے کی اطلاعکیسے ملی؟

ملزم

نیو سریاب پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ انھیں جس وقت اس دلخراش واقعے کی اطلاع ملی تو وہ معمول کے گشت پر تھے۔

انھوں نے بتایا کہ تقریباً شام پانچ بجے کا وقت تھا جب انھیں اطلاع ملی کہ چار چھوٹے بچوں کا گلا کاٹ کر ان کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

’میں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچا تو وہاں جو منظر دیکھا وہ انتہائی دلخراش تھا۔‘

’میں نے اپنی پولیس کی 22 سالہ ملازمت کے دوران بہت سارے جرائم دیکھے ہیں لیکن یہ واقعہ سب سے زیادہ المناک تھا کیونکہ اس واقعے کا شکار بننے والے تمام معصوم اور کمسن بچے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ چاروں بچے خون میں لت پت تھے جن میں سے تین موقع پر ہی ہلاک ہو چکے تھے۔

عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک بچی کا گلا کٹا ہوا تھا لیکن اس کی سانس چل رہی تھی۔

’ہم نے فوراً یہ فیصلہ کیا کہ بچی کی زندگی کو بچایا جائے۔ چونکہ شیخ زید ہسپتال بچی کے گھر کے قریب تھا اس لیے بچی کو پہلے وہاں پہنچایا جائے۔‘

انھوں نے بتایا کہ بچی کا خون زیادہ بہنے کے باعث انھیں جلد سے جلد ہسپتال پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔

ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی کے مطابق ہسپتال پہنچانے پر ڈیوٹی ڈاکٹر نے بچی کو دیکھا تو کہا کہ اگر خون کا فوراً انتظام ہو جائے تو بچی کی زندگی بچ سکتی ہے۔

خوش قسمتی تھی کہ خون میچ کر گیا

سریاب
،تصویر کا کیپشنعبد الحئی بنگلزئی

عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ چونکہ بچی کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا اور اس وقت فوری طور پر کہیں اور سے خون کا انتظام کرنا مشکل تھا اس لیے خون دینے کے لیے سب سے پہلے انھوں نے خود کو پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ان کا خون بچی کے خون سے میچ کر گیا جس پر انھوں نے خون کی ایک تھیلی عطیہ کی لیکن چونکہ یہ ناکافی تھا، اس لیے دو اضافی خون کے بیگز ان کے دو گن مینوں نے بھی دیے۔

عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ خون لگنے اور ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد ہی بچی کو شیخ زید ہسپتال سے سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ بعد میں بچی صحت یابی تک سول ہسپتال ہی میں رہیں جہاں وہ خود اس کی مزاج پرسی کے لیے جاتے رہے۔

گھر جانے سے پہلے بچی کی پولیس اہلکاروں کے پاس جانے کے لیے اصرار

ایس ایچ او پولیس نے بتایا کہ ان کے لیے سب سے حیرانی کی بات یہ تھی جب تھانے کے ایک اہلکار نے انھیں بتایا کہ بچی اپنے والد کے ساتھ تھانے ان سے ملنے آئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنے دفتر سے باہر نکلے تواس وقت ان کی خوشی کی انتہا نہیں رہی جب انھوں نے دیکھا کہ نہ صرف بچی صحت یاب ہے بلکہ اپنے پاﺅں پر بھی کھڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچی کے والد نے بتایا کہ جب انھیں ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تو انھوں نے اصرار کیا کہ انھیں پہلے پولیس اہلکاروں کے پاس لے جایا جائے۔

’وہ ہمارے لیے پھولوں کے ہار کے علاوہ مٹھائی بھی لائی تھی۔ بچی خود مجھے اور دوسرے پولیس اہلکاروں کو ہار پہنانا چاہتی تھی اس لیے انھیں ایک کرسی پر کھڑا کیا گیا جس کے بعد انھوں نے مجھے اور خون دینے والے دیگر اہلکاروں کو نہ صرف ہار پہنایا بلکہ اپنے ہاتھوں سے مٹھائی بھی کھلائی۔‘

اس موقع پر ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ وہ اپنے آنسوؤں کو نہیں روک سکے۔

بچی کی ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کو ہار پہنانے اور مٹھائی کھلانے کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی تھی اس میں ایس ایچ او اپنے آنکھوں سے آنسو صاف کرتا دکھائی دے رہے تھے۔

جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بھی بچیوں والے ہیں اور یہ بھی ہماری بچیوں کی طرح ہے۔‘

’وہ صحت مند ہو گئی ہے لیکن ابھی تک بول نہیں سکتی۔ وہ الفاظ کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار تو نہیں کر سکتی تھی لیکن جب ہار پہنانے کے بعد میں نے بچی کے چہرے کو دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ان کو دیکھ کر خوشی سے میرے آنسو بھی نکل آئے۔‘

عبد الحئی بنگلزئی کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات پر اللہ تعالی کے شکرگزار ہیں کہ ہمارے ہاتھوں سے ایک بچی کی زندگی بچ گئی۔‘

’ظاہر ہے کہ بچی کے تین بہن بھائیوں کی ہلاکت سے ان کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد کو انتہائی گہرا دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی تو ممکن نہیں لیکن ہمیں بہت خوشی ہے کہ وہ صحت مند ہوکر اپنے والدین کے پاس آ گئی ہے۔‘

ایس ایچ او نے بتایا کہ انھیں اس بات پر بھی خوشی ہے کہ علاج کے دوران ہی بچی کی نشاندہی کے باعث ملزم کی گرفتاری بھی جلد ممکن ہوئی۔

قتل کرنے والا ملزم کون تھا اور اسے کیسے پکڑا گیا؟

بچی قتل

یہ کیس کوئٹہ پولیس کے لیے بڑا چیلنج تھا۔ کمسن بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے باعث لوگوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی کیونکہ کوئٹہ شہر میں رواں سال دو ماہ کے مختصر عرصے میں گلے کاٹنے کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔

اس سے قبل کینٹ پولیس سٹیشن کی حدود میں دو بچیوں اور ان کے والد کی ہلاکت گلا کاٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری میں انھیں دیگر پولیس افسران اور اداروں کی مکمل معاونت اور مدد حاصل رہی بلکہ خود ایس پی سریاب نے سبی سے ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم کی قیادت بھی کی۔

چار بہن بھائیوں کے ساتھ ہونے والے واقعے میں ملزم کے حوالے سے فوری طور پر ٹھوس شواہد نہیں تھے اور ملزم کو گھر میں آتے اور جاتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تھا جس کی وجہ سے ملزم کی نشاندہی اور گرفتاری ایک بڑا چیلنج تھا۔

ملزم کی گرفتاری کے بعد ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس اظہر اکرام نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے واقعے کے بعد گھر کا جائزہ لیا تھا اور گھر کی اونچی دیواریں دیکھ کر یہ اندازہ لگایا تھا کہ ملزم گھر کے اندر دروازے سے ہی داخل ہوا ہو گا کیونکہ ان اونچی دیواروں کو پھلانگنا آسان نہیں تھا۔

بعد ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس اظہر اکرام نے بتایا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تو بچوں کے والدین اور ان کی ملازمہ گھر سے باہر تھیں جس سے یہ اندازہ ہوا تھا کہ بچوں نے دروازہ کسی واقف شخص کے لیے ہی کھولا ہو گا۔

ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کی روشنی میں بعض افراد کی تصاویر جب بچی کو دکھائی گئیں تو وہ زخمی ہونے کی وجہ سے بول نہیں سکتی تھیں لیکن جب انھوں نے ملزم محمد اقبال کی تصویر دیکھی تو اشارے سے بتایا کہ انھوں نے ان کے گلے کاٹے تھے۔

ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ نوجوان ملزم کا تعلق سبی شہر سے ہے اور بچی کی جانب سے نشاندہی کے بعد جب اسے گرفتار کیا تو اس نے اعتراف جرم کر لیا۔

ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ ملزم کو جب مجسٹریٹ کی موجودگی میں شناخت پریڈ کے لیے سول ہسپتال میں بچی کے پاس لے جایا گیا تو وہاں بچی نے ان کو پہچان لیا۔

والدین کی ملزم سے پہلے سے شناسائی تھی

والدین سے ابتدائی معلومات اور دیگر شواہد کی روشنی میں نیوسریاب پولیس کی ایک ٹیم نے ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے کوئٹہ سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور سبی شہر میں چھاپہ بھی مارا تھا لیکن اس وقت بھی شک گرفتار ملزم پر ہی تھا جن کا اس گھر میں آنا جانا تھا۔

ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ ملزم کی عمر 27 سال ہے اور وہ ٹیکسی چلاتا تھا۔ بچے اور ان کے والدین کو پک اینڈ ڈراپ دینے کے باعث فیملی کی ان سے واقفیت ہو گئی تھی۔

ایس ایچ او کے مطابق چونکہ ملزم کی بچوں کے والدین سے شناسائی بہت زیادہ تھی اس کی وجہ سے بچے ملزم کو ماموں کہہ کر پکارتے تھے اور انھوں نے بتایا کہ ’ملزم کی منگنی بھی بچوں کی والدہ نے ہی کرائی تھی۔‘

ایس ایچ او نے بتایا کہ کسی وجہ سے ملزم کی بچوں کے والدین سے چپقلش ہو گئی جس کی وجہ سے ملزم کو جو پیسے ملتے تھے وہ دینے بند کر دیے گئے جس پر وہ مبینہ طور پر اشتعال میں آ گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم مبینہ طورپر بچوں کی والدہ کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔

تصویر
،تصویر کا کیپشنملزم پہلے بچوں کی والدہ کو مارنے کے لیے بازار گیا تھا تاہم وہاں خاتون کے نہ ملنے کے بعد وہ انھیں مارنے کے ان کے مکان چلا گیا

ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم پہلے بچوں کی والدہ کو مارنے کے لیے بازار گیا تھا تاہم وہاں خاتون کے نہ ملنے کے بعد وہ انھیں مارنے کے ان کے مکان چلا گیا۔

بچوں کی والدہ کے گھر پر موجود نہ ہونے پر مبینہ ملزم نے چاروں بچوں کے گلے کاٹ دیے اور وہاں سے فرار ہو گیا۔

15 مارچ کی شام کو پیش آنے والے واقعے کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ عمومی طور پر والدین جب بھی گھر سے باہر نکلتے تھے تو بچوں کو ملازمہ کے ساتھ چھوڑتے تھے لیکن اس روز ملازمہ بھی گھر پر موجود نہیں تھی بلکہ وہ تھوڑی دیر پہلے کسی کام سے باہر نکل گئی تھی۔

ابتدائی طور پر وقوعہ کے وقت گھر میں موجود نہ ہونے پر ملازمہ پر بھی اس واقعے میں ملوث ہونے کے حوالے سے شبہ ظاہر کیا گیا تھا لیکن ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملازمہ اس میں ملوث نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: