22 ماہ بعد ملکی برآمدات میں 24 فیصد کی نمایاں کمی

معیشت کے کووڈ کے اثرات سے باہر نکلنے کے بعد ملک سے تجارتی سامان کی برآمدات جولائی میں 22 ماہ کے بعد منفی نمو میں داخل ہوئیں اور ان میں 24 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔

 رپورٹ کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں برآمدات 5.17 فیصد کم ہوکر 2.21 ارب ڈالر ہوگئیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 2.34 ارب ڈالر تھیں۔

ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں 23.95 فیصد کمی واقع ہوئی جو برآمدی شعبے میں کمی کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے، اس سے قبل اگست 2020 میں برآمدات میں 14.75 فیصد کی کمی ہوئی تھی۔

مالی سال 22 میں پہلی بار نہ صرف برآمدی ہدف حاصل کیا گیا بلکہ یہ 30 ارب ڈالر کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گیا تھا حالانکہ پاکستان کی برآمدات گزشتہ ایک دہائی سے اس سطح سے نیچے رہی ہیں۔

گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی برآمدات 26.6 فیصد بڑھ کر 31.845 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اس سے ایک سال قبل 25.160 ارب ڈالر تھیں، جون میں برآمدات 6.48 فیصد بڑھ کر 2.89 ارب ڈالر ہو گئیں جو پچھلے سال کے 2.72 ارب ڈالر کے مقابلے میں زیادہ تھیں۔

ٹیکسٹائل کے شعبے نے پہلے ہی روپے کی قدر میں بڑے پیمانے پر کمی کی وجہ سے توانائی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی شکایت کی ہے، مزید برآں برآمد کنندگان نے ریفنڈز کے بارے میں بھی شکایت کی ہے جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس پھنسے ہوئے ہیں۔

امپورٹ بل کم ہو رہا ہے

درآمدی بل بھی جولائی میں 12.81 فیصد کم ہو کر 4.86 ارب ڈالر رہ گیا جہاں گزشتہ سال کے اسی مہینے یہ بل 5.57 ارب ڈالر تھا، ماہانہ بنیادوں پر درآمدی بل میں 38.31 فیصد کمی گھر ر ہوئی۔

صرف جون میں درآمدی بل پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 6.28 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7.74 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا جو 23.26 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جولائی میں کمی روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ پر دباؤ کو کم کرے گی۔

مالی سال 22-2021 کے دوران درآمدی بل 43.45 فیصد بڑھ کر 80.51 ارب ڈالر ہو گیا جو ایک سال پہلے 56.12 ارب ڈالر تھا۔

ٹوئٹر پر وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل نے کہا کہ درآمدات کو کم کرنے کی ہماری کوششوں کا بالآخر نتیجہ نکل آیا۔

پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں درآمدات جون میں 7.7 ارب ڈالر کے مقابلے میں صرف 4.86 ارب ڈالر تھیں، انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ہم نے پاکستان کو دیوالیہ پن کے دہانے سے واپس کھینچ لیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت پی ٹی آئی کے چھوڑے گئے بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

خیال رہے کہ حکومت نے 19 مئی کو تقریباً 800 لگژری اور غیر ضروری اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی، تاہم گزشتہ ہفتے حکومت نے آٹوموبائل اور موبائل فون کے علاوہ تمام اشیا سے پابندی ہٹانے کا اعلان کردیا تھا۔

پاکستان اقتصادی سروے 22-2021 کے مطابق تمام بڑے گروپوں میں درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، زیر جائزہ مدت کے دوران درآمدات میں زبردست اضافے میں متعدد عوامل نے کردار ادا کیا، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اجناس کی قیمتوں نے بڑھتے ہوئے درآمدی حجم میں نمایاں کردار ادا کیا۔

درآمدات پر متفرق اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ توانائی درآمدات میں اضافے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جو اس عرصے کے دوران درآمدات میں سالانہ اضافے کا ایک تہائی حصہ ہے۔

اسی طرح پاکستان کی جانب سے توانائی کے علاوہ درآمد کی جانے والی اشیا جیسے خوردنی تیل (کھجور اور سویا بین)، چینی، چائے، کھاد اور اسٹیل کی قیمتوں کی وجہ سے بھی دباؤ دیکھا گیا، اسی دوران کپاس، اسٹیل اور کیپٹل گڈز جیسے درآمد شدہ خام مال کی مقامی سطح پر مانگ میں بھی اضافہ ہوا۔

یوں پاکستان کا تجارتی خسارہ جولائی میں 18.33 فیصد کم ہو کر 2.64 ارب ڈالر رہ گیا جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 3.23 ارب ڈالر تھا، تجارتی خسارے میں ماہانہ بنیاد پر 46.76 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

مالی سال 22 میں تجارتی خسارہ ایک سال قبل کے 30.96 ارب ڈالر سے بڑھ کر 48.66 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جو کہ توقع سے زیادہ درآمدات کی وجہ سے 57 فیصد کے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

error: