پانچواں درویش۔۔۔ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی

سروسز اسپتال کے بلاک سی کمرہ نمبر 1(سیکنڈ فلور) ،30؍ ستمبر اور یکم اکتوبر کی درمیانی رات تقریباً ساڑھے 4بجے صبح جیو نیوز کا ایک ٹکر چل رہا تھا۔ ’’جنگ اور جیو گروپ کے سینئر جرنلسٹ جواد نظیر انتقال کر گئے‘‘۔

30؍ ستمبر اور یکم اکتوبر کی یہ درمیانی رات، اذانوں کے قریب کا وقت، صاحب فراش خاکسار، صدیوں کے تنہا لمحوں کا بولتا سناٹا، آسمان کی پنہائیوں سے اترتی سویر، صاحب فراش کردار سے مراد خود اپنی ذات ہے، نے ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ پڑھا، ’’انسان خسارے میں ہے‘‘کے لامحدود ادراک کے سایوں کو چھونے کی کوشش کی، یہ ممکن نہیں تھا سو یادوں کے پاتال میں گرتا چلا گیا۔

70ء کی دہائی میں اس کے ماموں سعیدصفدر نے لاہور کی صحافتی دنیا میں قدم رکھا۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام روزنامہ ’’کوہستان‘‘ شائع ہو رہا تھا، ایک نوجوان نیوز روم میں خاموش میرے برابر کی سیٹ پر آ کے بیٹھ گیا، یہ تھا سعید صفدر۔

پھر یہ سعید صفدر لاہور کی صحافت میں کالم نگار، مترجم، فیچر رائٹر اور نیوز روم کے صحافتی افقوں پر روشن رہا، میں اور وہ اپنے تعلق میں یک جان دو قالب ہوتے چلے گئے اور ساتھ ہی ایک لحاظ سے دونوں خاندان بھی۔

پھر وہ کویت چلا گیا، بہت سے اخبار نویسوں کو کویت راس آیا، سعید بھی ان میں سے ایک تھا۔ ایک مرحلے پر اسے واپس آنا پڑا پھرواپس جانا پڑا حتیٰ کہ جب آخری بار پاکستان آیا وہ اس دنیا سے عدم آباد پہنچ گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

پھر ایک روز، ہاں ایک روز ایک دبلا پتلا لڑکا جواد میرے پاس پہنچا، سینے سے لگایا، صحافت میں اپنے ’’بزرگ‘‘ کے پاس آیا تھا، ظاہر ہے میرا بھی وہ بھانجا ہی تھا، اس لئے کہ وہ سعید صفدرکا بھانجا تھا، میں نے اسے ’’جنگ‘‘ میں ایڈجسٹ کرانے کے حوالے سے ایک عزیز از جان کے نام ’’پرچی‘‘ دی او رکہا ’’مجھے بتانا، واپس میرے پاس ہی آئو‘‘ ’’جنگ‘‘ کے اس مرد نجیب الطرفین نے ہمیشہ کی طرح دید کی، جواد کو نیوز روم میں ایڈجسٹ کر لیا۔ آغاز ہو گیا اور پھر جواد واپس نہیں پلٹا۔ وہ ایک مقامی روزنامہ کا ایڈیٹر بنا، وہ ’’جنگ‘‘ اور جیو میں اسٹار بن کے ابھرا وہ بہت مشہور ہو گیا، وہ پروفیشن میں ٹاک آف دی ٹائون رہا۔

روایات میں ڈوبا ہوا خاکسار اسے کہتا ’’جواد‘‘ وہ جواباً کہتا ’’جی‘‘۔ چلتا بھی ایسا ہی تھا، ہاں پھر زندگی میں ایسے لمحے آئے جب رشتوں کی ’’بنت میں پڑا س آ جاتی ہے یہ پڑاس مگر بنت کے جینز کو ادھڑنے نہیں دیتی، وہ جواد تھا اور میں بغیر کہے اس کے ماموں سَماّن ’’بزرگ‘‘ کہیں نہ کہیں اپنے ساتھ اس کے متعلق ’’بھانجے‘‘ کا لاحقہ لگا سکتا تھا، معاملہ چلتا بھی کچھ دے ہی رہا۔

پھر جواد نظیر نے پروفیشن میں اپنا وجود منوایا۔ بھرپور ورکنگ جرنلسٹ، بھرپور قلمکار، مرزا رجب علی بیگ، غالب، آپ سب کے حوالے دے دیں، چاہے ان حوالوں میں طلسم ہوشربا، خانہ عجائب کلیلہ دومتہ میر امن کی باغ و بہار وغیرہ وغیرہ یا جو بھی کوئی کلاسیک یاد آئے اسے بھی بے دریغ اس فہرست میں ٹھوک دیں، مزید شوق اظہار پورا کرنا ہو تو ابن صفی کے کردار جسین (عرف جمن) کی کلاسیکی معلومات کو بھی جواد کے روحانی مطالعے کی فہرست میں شامل کر دیں۔ وہ ’’انقلابی ہو گیا تھا‘‘، ایک بار نہیں ہزار بار کہیں، بلکہ بہتر ہو گا روز اس قوم کو یاد دلائیں، یہ سارے زمینی حقائق ہیں ایسا ہی تھا، ایسا ہی ہے۔ لیکن یاد رکھو، ایسے زمینی حقائق کے سینے پر ایک اور ذہنی عملیت ایڑی رکھ کے کھڑی ہے۔ ۔۔ وہ ہے ’’حقیقت!‘‘ وہ ہے اولاد، وہ ہے خوابوں کے سراب ہونے کا شعور ہونا، وہ ہے اس دنیا کے بارے میں جاننے کی جان لیوا غلط فہمی۔

ہمارا جواد، ان جہانوں کا مکین ٹھہر گیا بلکہ اس ایڑی نے کلین ٹھہرا دیا۔ کیا ہم اس وقت جواد کے کسی تخلیقی کارنامے کی ریسرچ کرنے جا رہے ہیں یا کرنے جائیں گے۔ سب جھاکا ہے۔

برادر سہیل وڑائچ کی ’’چائے سگریٹ بند تو سانس بھی بند‘‘ کی نایاب اطلاع اپنی جگہ، وجاہت مسعود کا فلسفہ اضطراب اور احترام دانشوراں کے مضطرب جذبے سو فیصد درست ان سب میں لیکن جواد کی اپنی ایک اور جگہ بھی ہے، یہ کہ جواد کو، ذہنی تفکرات، غصے، خوف، سمجھوتوں کے گچھوں کا قیدی بننا پڑا۔ یہ جواد کس کے سینے پر ضرب لگاتا تھا، سب اپنا جائزہ لیں جواب مشکل اور مشتعل مواد سے بھرا ہوا ہے سو اعراض کیجئے۔

زیادہ شدت اس لئے بھی ہے کہ لاہور میں قدرت نے اسے اپنے گوجرانوالہ کے گھر اپنے دوسرے گھر یعنی میرے پاس بھجوا دیا، اس کے اور میرے لواحقین یہ تحریر پڑھ کر کہہ رہے ہوں گے ’’سعید ماموں نے لکھا ہے‘‘

خیالات کی تبدیلی ایسا کوئی کوزہ ابھی تک وجود میں نہیں لایا جا سکا جس میں کسی خیال کو پہلے روز جس انداز میں بند کیا گیا ہو اگلے روز فکری ہئیت وہی رہے، بس یہ کوزہ ہے جس کی کوئی مستقل شکل تعزیت ناموں کا جال بھی ایسا ہے، انکشاف راز کے زمرے میں آتا ہے اور ’’خاصاں دی گل عاماں اگلے نئیں مناسب کرنی‘‘ چنانچہ حسن نثار، جب لکھے :’’رب العزت ’’پانچواں درویش‘‘ ترے حضور پیش ہو چکا اسے اپنے بے کراں رحم و کرم سے نواز دے، وہ بہت تھکا ہارا ترے حضور پیش ہوا ہے‘‘۔ تب حسنؔ کی یہ دعائے مغفرت جواد کے لئے باران رحمت میں شمار تو ہو گی ہی، مگر یاد رہے ہم سب کی خیر بھی اسی میں ہے، کہ زندگی کے حقائق میں ’’اچھل کود‘‘ کے کاروبار کے باوجود اسی کے کرم کے طفیل بچے ہوئے ہیں، وہ ہمارے متعلق کیا نہیں جانتا، وہ بھی جو ہم خود اپنے بارے نہیں جانتے، نہیں جان سکتے۔

’’پانچویں درویش‘‘ کی کہانی ابھی نامکمل ہے، نہ اسے معلوم تھا نہ مجھے، جب وہ یہاں کے سیارے کو خدا حافظ کہہ رہا ہو گا میں سروسز اسپتال کے کمرہ نمبر C-1 میں اس کے لئے ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ کی عرض گزاری کا کشکول تھامے خالق کائنات کے حضور سجدہ ریز ہوں گا۔ سنو اے اصحاب پاکستان! میں اپنے برخوردار کے بارے آپ سے بڑی عجیب باتیں Share کروں گا ان شاء اللہ۔

پس نوشت:پاکستان عوامی تحریک کے ایک سینئر رہنما خرم نواز گنڈا پور نے نواز شریف کی حقیقی حکومت کو ہٹانے کے لئے لندن پلان کا اعتراف کر لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جون 2014کے پہلے ہفتے میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان اور چوہدری برادران سے ملاقات کی تھی جس میں نواز حکومت گرانے کے لئے اتحاد ہوا تھا۔

’’ہم سب جب روز حشر اٹھائے جائیں گے‘‘ ہمارے علاج کے لئے کافی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *