'انگریزی بولنے والے کے سپرم کی قیمت زیادہ'

فلم 'وکی ڈونر' میں تو بالغوں کی نیم برہنہ تصاویر دکھائی گئيں تھیں لیکن یہاں تو ایک واش روم ہےجہاں دیوار، کموڈ، نل اور واش بیسن ہے۔

پہلی بار میں بہت بےچین رہا۔ اپنے کمرے میں اور سپرم فروخت کرنے کے لیے مشت زنی کرنے میں بہت فرق تھا۔

واش روم میں ایک پلاسٹک کے کنٹینر پر میرا نام لکھا تھا۔ میں نے اپنا مادہ منویہ اس میں چھوڑ دیا۔ مجھے اس کے لیے 400 روپے دیے گئے۔

میں 22 سال کا انجینیئرنگ کا طالب علم ہوں۔ اس عمر میں ایک گرل فرینڈ کی خواہش ہونا اور جنسی خواہشات ہونا فطری بات ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کسی کے بھی ساتھ جسمانی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

شادی سے پہلے تعلقات

میں جس چھوٹے شہر سے آتا ہوں وہاں شادی سے قبل جنسی تعلقات قائم کرنا بہت آسان نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہی حالت کم بیش لڑکیوں کی بھی ہوتی ہوگی۔

ایسی حالت میں مشت زنی لڑکوں کے لیے ایک متبادل ہوتا ہے لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ کل تک جسے میں برباد کر رہا ہوں اسے فروخت بھی کرنے لگوں گا۔

سپرم یا مادہۂ منویہ کے عطیے کے بارے میں ایک اخبار میں ایک رپورٹ پڑھی تھی۔

اس سے قبل میں نے خون کے عطیے کے بارے میں تو سن رکھا تھا لیکن سپرم ڈونیشن پہلی بار پڑھا تھا۔

تجسس بڑھتا گیا اور میں نے رپورٹ آخر تک پڑھ ڈالی۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ہمارے ملک میں لاکھوں ایسے جوڑے ہیں جو سپرم کی قوت میں کمی کی وجہ سے بچے پیدا کرنے سے قاصر ہیں اور اسی لیے سپرم ڈونیشن کا دائرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

مجھے پتہ چلا کہ میں دلی کے جس علاقے میں رہتا ہوں، میرے گھر کے قریب ہی ایک سپرم ڈونیشن سینٹر ہے۔ ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہیں وہاں جائيں اور دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔

ڈونر

میری شکل مسئلہنہیں

میں گورا ہوں، قد و قامت بھی ٹھیک ہے اور میں باسکٹ بال کھیلتا ہوں۔

میں نے جب وہاں جاکر سپرم ڈونیشن کی پیشکش کی تو وہاں موجود ڈاکٹر مجھے دیکھ کر مسکرائے۔ وہ میری شخصیت سے خوش تھے اور ڈاکٹر کے ردعمل کو دیکھ کر مجھے ذرا الجھن ہوئی۔.

لیکن مسئلہ یہاں صرف میری شکل و صورت کا نہیں تھا۔

میں اپنے سپرم فروخت کر رہا تھا اور اس کے لیے مجھے یہ ثابت کرنا تھا کہ ظاہری طور پر میں جتنا مضبوط ہوں اندرونی طور پر بھی میں اتنا ہی صحت مند ہوں۔

ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ تمہارے کچھ ٹیسٹ کرنے ہوں گے۔

میرے خون کا نمونہ لیا گیا۔ اس کے ذریعے ایچ آئي وی، ذیابیطس اور کئی طرح کی بیماریوں کی جانچ کی گئی۔ میں سب پر کھرا اتر تو جانچ کے تیسرے روز مجھے نو بجے بلایا گيا۔

مجھ سے ایک فارم پر کروایا گیا جس میں رازداری کی شرط رکھی گئي۔ اس کے بعد مجھے پلاسٹک کا ایک چھوٹا سا کنٹینر دیا گیا اور واش روم کا راستہ دکھا دیا گیا۔

اب یہ سلسلہ چل نکلا۔ میں اپنے نام کا پلاسٹک کا کنٹینر واش روم میں چھوڑتا اور پیسے لے کر نکل جاتا۔

مجھے یہ تسلی تھی کہ میرے سپرم دینے سے کوئی خاتون ماں بن سکتی ہے۔

مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ سپرم دینے میں تین دنوں کا فاصلہ ہونا چاہیے۔ کم از کم 72 گھنٹوں کے بعد ہی دوسری بار سپرم دیا جا سکتا ہے۔

لیکن اگر زیادہ وقت گزرتا ہے تو سپرم مردہ ہو جاتا ہے

میں قدرے ٹھگا ہوا محسوس کر رہا تھا

کچھ مہینوں کے بعد میں میرے ذہن میں یہ خیال آيا کہ کیا مجھے اس کام کے لیے مناسب پیسے مل رہے ہیں۔

فلم 'وکی ڈونر' میں تو ہیرو اس کام کے ذریعہ امیر بن جاتا ہے اور مجھے ایک بار میں صرف 400 روپے مل رہے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہفتے میں دو بار عطیہ دیا تو 800 روپے ملے اور مہینے میں کل 3200 روپے ہوئے۔ میں قدرے ٹھگا ہوا سا محسوس کرنے لگا۔

میں نے سپرم سینٹر جا کر فلم کا حوالہ دیا اور پیسے کم ہونے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔

لیکن اپنے گورے رنگ اور قد و قامت کا میرا گھمنڈ اس وقت چور چور ہو گیا جب سینٹر میں مجھے کمپیوٹر پر ان تمام افراد کو دکھایا گیا جو اپنے سپرم کا عطیہ دینے کے لیے قطار میں تھے۔

بہرحال میں نے خود کو یہ کہہ کر بہلانے کی کوشش کی کہ میں کوئی فلم کا ہیرو تو ہوں نہیں۔ شاید اسی قلیل رقم کی وجہ سے ہمیں ڈونر کہا جاتاہے سیلر (تاجر) نہیں۔

خواہ پیسے کم ہوں لیکن اس کا میری زندگی پر مثبت اثر ہوا تھا۔ اب خیال آتا ہے کہ سپرم کو یوں ہی برباد نہیں کیا جانا چاہیے۔

دوسرے یہ کہ گھر پر روزانہ مشت زنی کی عادت چھوٹ گئی۔

یہ بھی جانتا ہوں کہ میں کوئی غلط کام نہیں کر رہا ہوں، لیکن اس کے بارے میں سب کو نہیں بتا سکتا۔ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ میں کسی سے ڈرتا ہوں۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ سماج اتنا بالغ النظر ہے کہ اس کو حساس ڈھنگ سے لے۔

مجھ میں کوئی احساس جرم نہیں ہے، لیکن اس کا اظہار عام خطرے سے خالی نہیں۔

ڈونر

گرل فرینڈ کو بتانے میں پریشانی نہیں

اس کے متعلق میں اپنے گھر میں بھی کسی کو نہیں بتا سکتا کیونکہ میرے والدین کو دھچکا لگے گا۔ یہ موضوع دوستوں کے درمیان ممنوع نہیں ہے اور اب یہ میرے دوستوں میں عام ہے۔ ساری پریشانی اہل خانہ اور رشتہ داروں کے بارے میں ہے۔

مجھے اپنی گرل فرینڈ کو بھی بتانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن ابھی تک میری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے لیکن جو بھی میری گرل فرینڈ ہو گی وہ تعلیم یافتہ ہوگی اور میرے خیال سے وہ اسے درست انداز میں لے گی۔

میرے خیال سے بیویاں زیادہ حق جتاتی ہیں اس لیے وہ نہیں چاہیں گی کہ ان کے شوہر شوق سے جا کر سپرم عطیہ کریں۔ میں بھی اپنی بیوی کو یہ بات نہیں بتاؤں گا۔

ویسے بھی سپرم خریدنے والے غیر شادی شدہ لڑکوں کو ترجیح دیتے ہیں اور 25 سال کی عمر تک والوں کو ہی اس قابل سمجھتے ہیں۔

انگریزی بولنے والے کے سپرم کی قیمت زیادہ

سپرم ڈونر ہونے کے ناطے مجھے اس کے بارے میں بہت سی چیزیں پتہ ہیں۔ سپرم کی قیمت صرف سپرم کی قوت سے ہی طے نہیں ہوتی ہے۔ آپ کا خاندانی پس منظر کیسا ہے، والدین کیا کرتے ہیں، آپ نے کتنی تعلیم حاصل کی ہے۔ یہ سب چیزیں اہمیت رکھتی ہیں۔

اگر آپ کو انگریزی زبان آتی ہے تو آپ کے سپرم کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔

اگرچہ انگلش جاننے والے کے سپرم سے پیدا ہونے والے بچے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہوں گے اس کا مجھے علم نہیں۔ لیکن کئی لوگ ایسے سپرم کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔

ان کے پاس جس طرح کے خریدار آتے ہیں وہ ہم سے اسی قسم کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ سپرم ڈونر کی میری شناخت عمر بھر نہیں رہے گي کیونکہ سپرم بھی عمر بھر نہیں رہے گا۔

میں جانتا ہوں کہ یہ شناخت میری ماں کے لیے شرمندگی کا باعث ہوگی اور کوئی لڑکی شادی سے انکار بھی کر سکتی ہے۔ لیکن کیا میری ماں یا میری ہونے والی بیوی کو یہ پتہ نہیں ہوگا کہ اس عمر کے لڑکے مشت زنی کرتے ہیں؟ اگر سپرم کا عطیہ دینا شرمناک ہے تو مشت زنی بھی شرمناک فعل ہے۔

میرا خیال ہے کہ دونوں ایک جیسے ہیں اور شرمناک نہیں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *