فون بند، کوئی ٹویٹ نہیں: ماڈرن پاکستان مریم نواز کو یاد کر رہا ہے

ایک ماہ سے کچھ عرصہ پہلے ان کی والدہ کی وفات پر ایک جھلک کے علاوہ جولائی میں ان کی گرفتاری کے بعدسے اب تک مریم نواز کی طرف سے کوئی خبر سننے کو نہیں آئی۔ کوئی نئی تصویر نہیں، کوئی ٹویٹ نہیں، عوامی جلسوں اور تقریبات میں بھی نظر نہیں آئیں۔

میں نے بہت کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ وہ کسی کے ساتھ ٹچ میں نہیں ہیں۔ فون بند ہیں۔ ان کا گیم پلان کیا ہے اس کی کوئی معلومات نہیں۔ پاکستانی یہ توقع کر رہے تھے کہ چالیسویں کے بعد وہ عوام کے سامنے آئیں گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اور اب پاکستان سپریم کورٹ نے ایک عرضی پر انہیں دوبارہ جیل بھیجنے کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم کے خلاف نوٹس جاری کیے ہیں۔

بہت سے پاکستانی مریم نواز کے سیاسی سفر کے نئے آغاز کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن کئی طرح سے یہ طویل عرصے سے چل رہی ہے۔

جب میں 2012 میں واپس پاکستان آئی تو پہلی چیز جو میں نے دیکھی وہ یہ تھی کہ ملک بھر میں سیاسی اشتہارات اور پوسٹرز پر ایک دبنگ لیڈی کی شکل میں موجود تھیں۔بے عیب چہرے پر گرتی خوبصورت سٹائلش زلفیں اور بھئوں کے نیچے سے گھورتی ہوئی پر اعتماد نظریں میرے سامنے تھیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ کوئی ٹی وی یا مووی سلیبرٹی ہیں ؟ تب مجھے بتایا گیا کہ وہ پی ایم ایل این کی قائد نواز شریف کی بیٹی تھی۔

میں 1990 کی دہائی کے اوائل سے ہی پاکستان سے دور رہی تھی۔ میرا تعلق بھی مسلم لیگ خاندان سے تھا، میں نے شریف فیملی کی عورتوں کی جو تصویر دیکھی تھی وہ یکسر مختلف تھی۔ میں نے ضیا کے بعد کے دور میں مرحوم کلثوم نواز کو دیکھا تووہ ہمیشہ دوپٹہ سر پر سجائے نظر آتی تھیں اور ان کے بال بلکل بھی نظر نہیں آتے تھے۔ میرے آبائی قصبہ مانسہرہ نے شریف برادران کی حمایت کی تھی کیوں کہ وہ رائٹ ونگ پارٹی کے نمائندہ تھے۔

پی ایم ایل این کے قائد کی بیٹی کی یہ نئی تصویریں ان کے 1990 کی دہائی کے قدامت پرست موقف سے دوری کا واضح ثبوت تھیں۔ 2013 کے انتخابات سے قبل میں ذاتی طور پر مریم نواز سے ملی۔ وہ ان تمام سیاسی طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین سے مختلف تھیں جن سے میں ملی تھی۔ ۔ تیز اور ہوشیار، وہ وقت ضائع کرنے والوں میں سے نہیں تھی۔ اور ان کی پارٹی کا موقف سینٹر کی طرف مرکز کی طرف حرکت کر رہا تھا۔

فروری 2016 سے قبل پی ایم ایل این نے پنجاب میں پہلی مرتبہ ویمن پروٹیکشن بل پاس کروایا اور سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی بھی دلوائی۔ میری طرح بہت سے لوگوں نے سمجھا کہ یہ لبرل، جرات مندانہ سیاست اب قائم رہے گی۔ پارٹی قیادت مریم نواز کے حوالے کرنے کے لیے راستہ ہموار کیا جار ہا تھا۔ میں نے میڈیا اور پارٹی کے سینئر لیڈران میں بے چینی دیکھ سکتی تھی۔

اس سے قبل ستمبر 2015 کے شروع میں میں نے وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز کو پاکستان میں تعلیم نسواں کے فروغ پر یو ایس کی خاتون اول مشعل اوباما کے ساتھ ہاتھ ملاتے دیکھا تھا۔ میری جیسی چائلڈ رائٹ ایکٹوسٹ خوشی سے اچھل پڑی جب تعلیمی بجٹ کو 4 فیصد جی ڈی پی تک بڑھایا گیا۔

2016 کی گرمیوں میں مریم نواز نے اس وقت معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیا جب نواز شریف ہارٹ سرجری کے لیے لندن گئے۔ لیکن بعد میں، ڈان لیکس کو ان کے نام سے جوڑ لیا گیا جس نے اپنی ہی پارٹی کے دائیں بازو کے حمایتی لوگوں کو اپوزیشن، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور حتی کہ اسلام آباد اور لاہور کے آزاد خیال اشرافیہ کو بھی نفرت پر اکسا یا۔

میں سمجھ گئی کہ سیاست دانوں نے انہیں کیوں ناپسند کیا لیکن وہ لوگ جو انہیں کبھی ملے ہی نہیں تھے انہوں نے مریم کو فرعون کا خطاب دے دیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ ایک خاتون کو کس قدر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا سب سے بڑا گناہ تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والے انسان کے گھر میں پیدا ہونا تھا، ایک ایسے کلچر میں جہاں موروثی سیاست ایک عام معمول ہے۔

تاہم، 2017 کی گرمیوں میں ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ کس نوعیت کی خاتون لیڈر ہیں۔ انگلی اٹھا کر اور غصے سے چمکتی نظروں کے ساتھ انہوں نے کہا،''روک سکو تو روک لو۔'' جیسے جیسے تلواریں ان کے خلاف نیاموں سے باہر آتی گئیں، مریم کے لہجے میں بھی سختی آتی گئی۔ جتنا بھی ان پر حملے کیے گئے، اتنی ہی قوت سے وہ جواب دیتی رہیں۔ آخر کار پی ایم ایل این نے ایک شیر جیسا قائد پا لیا تھا۔

وہ ایسے ماڈرن پاکستانی عورتوں کا چہرہ بنتی جا رہی تھیں جنہیں خاموش نہیں کیا جائے گا۔ مریم نواز ہمیں 2018 کے سال میں لے جانے کے لیے بالکل تیار تھیں۔

بے نظیر بھٹو کے فینز سے بات کرتے ہوئے جن میں سینئر صحافی ماروی سرمد بھی شامل تھیں، میں نے یہ نوٹس کیا کہ یہ لوگ اب ن لیگ کے لیے ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے وہ دن یاد کیا جب 1990 کی دہائی میں ن لیگی خواتین بے نظیر بھٹو کومشورے دیتی تھیں کہ وہ حمل کے دوران گھر پر مستور ہو جائیں۔ لیکن مریم نواز نے اپنے والد کی روایتی حریف کی عادات کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ایک فیملی فرینڈ کے مطابق مریم نواز کو اپنے خاندا ن کو اس بات پر منانے میں کئی سال لگ گئے کہ انہیں سیاست میں آنے کی اجازت دی جائے اور پھر جار کر ان کے چچا شہباز شریف نے انہیں اجازت دی۔

ہم میں سے بہت سی خواتین کی طرح مریم نواز بھی بے نظیر بھٹو سے متاثر تھیں جنہوں نے پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ مریم نواز نے 19 سال کی عمر میں پسند کی شادی کی تھی جس کے بعد ان کے تین بچے ہوئے اور مریم نے اپنی تعلیم پر توجہ جاری رکھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے مریم نواز کے خلاف گندی زبان استعمال کی کیونکہ انہوں نے ایسے مرد سے شادی کی تھی جن کی وہ محبت میں گرفتار ہوئی تھیں۔

تنقید اور ذاتی حملوں کے جواب میں ہمت نہ ہارنے کی طاقت اور ہمت نے اپوزیشن جماعتوں میں بھی مریم کی عزت میں اضافہ کیا ہے۔ وہ واحد سیاستدان ہیں جنہیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کی ضرورت نہیں پڑی۔ یہ ایک عزت احترام کا میڈل ہے جو ان کے والد اور چچا بھی جیتنے کا اعزاز نہیں رکھتے ، خاص طور پر نئے وزیر اعظم تو بکل بھی نہیں۔

مریم نے اپنے کزن، باپ اور ماں کے لیے سیاسی کیمپین کی لیکن کبھی خود سیاسی عہدہ یا بزنس نہیں سنبھال پائی۔ پانامہ سکینڈل میں بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کھینچنے کی وجہ ان کی خاندانی وراثت ہی ہے۔مریم کو سیاست میں لانے کا کریڈٹ ان لوگوں کو جاتا ہے جو مریم نواز سے نجات چاہتے تھے۔مریم نواز کو سیاست میں ان کے والد نہیں بلکہ یہ لوگ لائے ہیں ۔

مجھے کیوں نکالا نعرے کی اس قدر مقبولیت کے باوجود ہمیں نہیں معلوم کہ مریم کے مقامی اور خارجہ معاملات پر کیا نظریات ہیں۔ابھی تک ہمیں جو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں مریم نواز واحد ایسی سیاسی لیڈر ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے مخالف نظریات رکھتی ہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں ایک اچھی عورت ہونے کا مطلب گھر گھرستی والی با سلیقہ اور فرمانبردار بیوی یا بیٹی ہونا ہوت اہے، وہاں مریم نواز جیسی خواتین نوجوان لڑکیوں کے لیے رول ماڈل کا درجہ رکھتی ہیں جو پاکستان کا ایسا امیج اجاگر کرتی ہیں جس سے معلوم ہو کہ پاکستان ایک برداشت سے بھر پور معاشرہ ہے جہاں خواتین اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہیں۔

اس تبدیلی کا وقت ا ب آ گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی طرح پاکستان بھی بدل چکا ہے۔ اب یہ ضیا کا پاکستان نہیں رہا۔ اگرچہ کچھ خفیہ طاقتیں اب بھی اسے واپس اسی صورتحال پر لے جانا چاہتی ہیں اور اس مقصد کے لیے اپنے فیورٹ مذہبی ملاوں کا سہارا استعمال کرتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *