آئی ایس آئی مجھ پر فیصلے تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتی تھی: شوکت صدیقی

" شہزاد ملک "

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے اپنی برطرفی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے جس میں اُنھوں نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اعلیٰ افسران کی جانب سے ان پر بطور جج اپنے فیصلے تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔

جمعے کے روز شوکت عزیز صدیقی کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی اپیل میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے اس مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا جو کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ملکی آئین میں دیے گئے ہیں۔

شوکت صدیقی نے اپنی اپیل میں موقف اختیار کیا کہ انھیں جج کے عہدے سے ہٹانے کا مقصد اپنے پسندیدہ جج کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج بنانا مقصود تھا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کے موجودہ چیف جسٹس جسٹس انور کاسی اگلے ماہ ریٹائرمنٹ ہو رہے ہیں اور سینارٹی کے لحاظ سے جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس ہوں گے۔

اس اپیل میں یہ سوال بھی اُٹھایا گیا ہے کہ ایگزیکٹیو سپریم جوڈشیل کونسل میں پیش کی جانے والی ایسی شکایت پرجس کا کوئی شکایت کندہ بھی نہ ہو، پر عمل درآمد کرتے ہوئے انھیں (شوکت عزیز صدیقی) کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن کیسے جاری کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کو ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے ہوئے اُنھیں عہدے سے برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔

ثاقب نثار 

شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار کونسل سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکار عدلیہ کے کاموں میں مداخلت کرتے ہوئے اپنی مرضی کے بینچ بنواتے ہیں اور مرضی کے فیصلے لیتے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے شوکت عزیز صدیقی کے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

شوکت عزیز صدیقی کی طرف سے اپیل میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس تقریر کو بنیاد بنا کر اُنھیں برطرف کیا گیا ہے اس طرح کی تقاریر موجودہ چیف جسٹس اور سابق چیف جسٹس صاحبان بار کونسل سے خطاب کے دوران بھی کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ مذہبی جماعت کی طرف سے فیض آباد پر دھرنے کے بارے میں آئی ایس آئی کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹس پر سپریم کورٹ کے جج صاحبان بھی اسی طرح کے ریمارکس دے چکے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج نے آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے شاہراہ کو کھولنے کے بارے میں اپنے عدالتی فیصلے پر نظرثانی کے لیے آئی ایس آئی کے افسران کا ان پر دباو ڈالنے کا بھی ذکر کیا ہے۔

شوکت صدیقی نے اپنی اپیل میں آئی ایس آئی کے اہلکاروں کےساتھ ملاقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں فوجی افسران نے انھیں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے شاہراہ کو کھولنے سے متعلق اپنے فیصلے میں نظرثانی کے لیے کہا تھا اور اپیل کندہ کی طرف سے انکار پر اُنھوں نے ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا۔

شوکت صدیقی کے بقول 19 جولائی کو ان کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں فوجی اہلکاروں نے رائے دی تھی کہ کوئی ایسا حکم جاری کیا جائے جس میں آئی ایس آئی کی عزت پر کوئی حرف نہ آئے۔

سپریم کورٹتصویر کے کاپی رائٹAFP

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج نے کہا ہے کہ ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے ملاقات میں آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے ان سے پوچھا تھا کہ اگر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیل دائر کی گئی تو اس پر ان کا کیا ردعمل ہوگا جس پر شوکت عزیز صدیقی کے بقول اُنھوں نے آئی ایس آئی کے افسر کو واضح کیا کہ اس اپیل پر قانون کے مطابق فیصلہ دیا جائے گا۔

شوکت عزیز صدیقی نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ ان کا جواب سن کر ایک اہلکار نے جواب دیا کہ ’اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج نے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی اپیل میں کہا ہے کہ سپریم جوڈشیل کونسل کی طرف سے ان کی برطرفی کو معطل کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *