اقتصادی رابطہ کمیٹی سے حکومتِ بلوچستان کے عدم تعاون کی شکایت

اسلام آباد: وزارت توانائی نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے شکایت کی ہے کہ حکومتِ بلوچستان زرعی ٹیوب ویلز کے بجلی کے بلوں میں دی جانے والی 86 ارب روپے کی رعایت کے معاملے کو حتمی شکل دینے میں تعاون نہیں کر رہی۔

رپورٹ کے مطابق وزارت توانائی نے ای سی سی کے سامنے وفاقی و صوبائی حکومت اور بلوچ کسانوں پر واجب الادا رقم کے ساتھ رعایتی بجلی کے نرخوں کا معاملہ اور دیگر 2 تجاویز پیش کیں۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے میں بلوچستان حکومت کی شمولیت لازمی ہے کیوں کہ اس ضمن میں 27.6 ارب اور 52 ارب روپے کے فنڈ فراہم کرنے کی ذمہ داری ان کی ہے۔

اسی معاملے پر وزارت توانائی کی جانب سے اقتصادی رابطہ کمیٹی میں شکایت کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت فنڈز کی فراہمی کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کررہی۔

ذرائع کے مطابق وزیر توانائی عمر ایوب کی سربراہی میں سیکریٹری توانائی عرفان اور دیگر عہدیداروں پر مشتمل وفد رواں ہفتے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کرے گا جس میں واجب الادا بلوں کی وصولی، بجلی چوری کے خلاف مہم میں تعاون اور مالی معاملات میں آنے والی رکاوٹوں کے بارے میں گفتگو کی جائے گی۔

خیال رہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ ہوا تھا کہ بلوچستان میں کسانوں کو دی جانے والی مراعات صوبائی حکومت کے تعاون کے بغیر حتمی شکل نہیں پا سکتیں۔

اس حوالے سے وزارت توانائی کا کہنا تھا کہ رعایتی اسکیم میں توسیع میں بھاری بقایاجات کی بنا پر دشواریاں پیش آرہی ہیں اور موجودہ مالی مشکل صرف اس صورت میں دور ہوسکے گی جب وفاقی وزارت خزانہ اور حکومت بلوچستان بقایاجات کی ادائیگی اور رعایتی نرخوں کی رقم کے لیے وعدہ کریں۔

وزارت توانائی کے موقف کے مطابق حکومت بلوچستان اور وزارت خزانہ کے ذمے 76 کروڑ 75 لاکھ اور ایک ارب 15 کروڑ روپے کے بقایاجات واجب الادا ہیں۔

اس کے علاوہ متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ (اے ای ڈی بی) حکومتِ بلوچستان کے ساتھ مل کر زرعی ٹیوب ویلز کو سورج کی توانائی پر منتقل کرنے اور صوبے میں ’ڈرپ ایری گیشن‘ نظام کو متعارف کروانے کے لیے کام کرے گا۔

لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومت بجلی کے نادہندگان خاص کر زرعی شعبے سے واجبات کی وصولی کے لیے قانونی اور عملی تعاون کرے۔

سال 2015 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے کسانوں کو ٹیوب ویلز کی مد میں فراہم کی جانے والی رعایت کے مطابق کسان کو ایک لاکھ روپے ادا کرنے تھے جبکہ بقیہ 65 ہزار روپے حکومت بلوچستان نے ادا کرنے تھے۔

تاہم کوئی بھی صارف ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کے لیے تیار نہیں ہوا جس کے باعث سال 2017 میں زرعی صارفین کے واجبات کی رقم 29 ارب 88 کروڑ 90 لاکھ روپے تک جاپہنچی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *