بجلی کا گیس پیپر

یاسر پیرزادہYasir Pirzada

 جیسے مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ویسے ہی کچھ موضوعات کبھی پرانے نہیں ہوتے‘ ان موضوعات پر آ پ کسی بھی وقت رائے زنی کر سکتے ہیں ‘اس کے لئے آپ کو زیادہ حقائق جاننے کی ضرورت نہیں ہوتی بس سنی سنائی باتیں کافی ہوتی ہیں ‘ایسا ہی ایک موضوع لوڈ شیڈنگ بھی ہے۔ اس موضوع پر ہمارے پاس مستند معلومات ہوں نا ہوں مگر خدادداد صلاحیتوں کی بنیاد پر ہم اس پر بلا تکان گھنٹوں گفتگو کر سکتے ہیں ‘ کچھ لوگوں کو ’’اکنامک کاریڈور‘ انرجی مکس ‘ تھر کول پروجیکٹ‘ شمسی توانائی ‘ نیوکلیئر انرجی‘‘ جیسی اصطلاحات زبانی یاد ہو چکی ہیں لہٰذا ان کا خیال ہے کہ ان کے پاس اس گمبھیر مسئلے کا حل بھی موجود ہے مگرحکومت انہیں موقع نہیں دیتی اور اس کی وجہ ان کی ایمانداری ہے جو حکومت کے ’’وارے ‘‘ میں نہیں ‘ ایسے لوگوں کی معلومات کا ماخذ عموماً کوئی ایس ایم ایس ہوتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ ایران یا چین (غالباً دونوں) ہمیں چار آنے فی یونٹ کے حساب سے بجلی دینے کے لئے تیار ہیں مگر امریکہ یہ ہونے نہیں دیتا ‘اگر پوچھا جائے کہ امریکہ کیوں نہیں چاہتا کہ پاکستان میں بجلی آئے تو جواب آتا ہے کہ امریکہ ہمیں کمزور کرکے ہمارا ایٹم بم چھیننا چاہتا ہے…گویاایٹم بم نہ ہوا ‘موبائل فون ہوگیا!
لوڈ شیڈنگ جس طرح ہمارے لئے ایک عذاب کی شکل اختیار کر چکی ہے ‘یوں لگتا ہے کہ اگلے چند برسوں میں میٹرک کے امتحان میں لوڈ شیڈنگ کا باقاعدہ پرچہ ہوا کرے گا ‘ یہ خاکسار چونکہ دیدہ بینا رکھتا ہے اس لئے آنے والے دور کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اس پرچے کا گیس پیپر ابھی سے تیار کر دیا ہے ‘یہ گیس پیپر طلبا ‘ عوام اور سیاستدان ‘تمام طبقات کے لئے یکساں مفید ہے ‘ نیز ٹاک شوز میں شرکت کرنے والے خواتین و حضرات بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں:
سوال: پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت کتنی ہے ؟
جواب: اس وقت ملک میں نصب شدہ پیداواری صلاحیت 22,500میگاواٹ ہے‘ جس میں سے واپڈا 6,500 میگاواٹ پن بجلی پیدا کررہا ہے جو اس کی صلاحیت کا صرف 11فیصدہے‘اسی طرح واپڈا کی4,900میگاواٹ تھرمل بجلی ہے‘KESCکی صلاحیت 1,950میگاواٹ ہے‘ آئی پی پیز کی صلاحیت 8,363میگا واٹ جبکہ نیوکلئیر بجلی کی صلاحیت فقط 787میگا واٹ ہے۔
سوال:اس وقت ملک میں انرجی مکس کی کیا صورتحال ہے؟
جواب: پاکستان میں فی الحال 35فیصدبجلی تیل سے پیدا کی جا رہی ہے(72فیصدتیل ہمیں درآمد کرنا پڑتا ہے) ‘پانی سے 34فیصد قدرتی گیس سے 27فیصد‘نیوکلیئر ذرائع سے 4فیصداور کوئلے سے فقط 1فیصدبجلی حاصل کی جا رہی ہے ۔بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا‘جو چیرا تو اک قطرہ خو ں نہ نکلا! (کوئلے میں سے بھی کچھ نہیں نکلا)۔نوٹ:مناسب جگہ اشعار فٹ کرنے کے اضافی نمبر ہو تے ہیں۔
سوال: دنیا کے دیگر ممالک کوئلے سے کتنے فیصد بجلی پیدا کر رہے ہیں؟
جواب:چین تقریباً 72فیصد‘ بھارت56فیصداور امریکہ 50فیصد سے زائد بجلی کوئلے سے پیدا کرتا ہے ۔
سوال: پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کی کیا پوزیشن ہے؟
جواب:پاکستان میں کوئلے کے ذخائر 10,000مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہیں جو تقریباً 175سے 200ارب ٹن تک ہیں ‘یوں سمجھئے کہ سعودی عرب‘ ایران اور عراق کے تیل کے ذخائر کے برابر ان کی مالیت ہے جو کئی کھرب ڈالر بنتی ہے‘اگر انہیں بتدریج استعمال میں لایا جائے تو اگلے چند برس میں توانائی کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
سوال:(Sure short)ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں کتنا فرق ہے ؟
جواب: بجلی کی طلب سالانہ 10فیصدبڑھ رہی ہے جبکہ سپلائی میں 6فیصداضافہ ہو رہا ہے ہر سال 20,000نئے ٹیوب ویل لگتے ہیں جو 200میگاواٹ بجلی لیتے ہیں‘ نئے دیہات کو ہر سال 100میگاواٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے‘اس وقت طلب 17,000میگاواٹ ہے، جبکہ کمی چار سے پانچ ہزار میگاواٹ ہے، 2017-18تک ہماری بجلی کی ضرورت 35,000 میگاواٹ تک بڑھ جائے گی جبکہ 2030ء تک ہمیں 80,000میگاواٹ کی ضرورت ہو گی۔
سوال : Line lossesکی مد میں کتنی پاکستان کتنی بجلی ضائع کرتا ہے؟
جواب: 4,862میگا واٹ۔
سوال:کیا گزشتہ دو برس میں کسی نئے منصوبے کے تحت اضافی بجلی سسٹم میں آئی ہے ؟ اگر ہاں ‘ تو کس منصوبے کے تحت اور کیسے ؟ تفصیل سے روشنی ڈالیں۔(یہ سوال لازمی ہے‘خوشخطی کے نمبر علیحدہ دئیے جائیں گے)۔
جواب: قائد اعظم سولر انرجی پارک وہ واحد کامیاب منصوبہ ہے جس کے تحت 100میگاواٹ بجلی کاسسٹم میں اضافہ کر دیا گیا ہے‘ اس پراجیکٹ کا چیف ایگزیکٹو ہاورڈ کا تعلیم یافتہ ایک افسر ہے ‘نام ہے نجم شاہ‘ دیکھنے میں کسی فلم کا ہیرو لگتا ہے ‘شو بز میں ہوتا تو اس وقت سونم کپور کے ساتھ فلم سائن کر چکا ہوتا‘ لیکن سول سروس کی خوش قسمتی کہ نجم شاہ نے حقیقی زندگی میں ہیرو بننے کا فیصلہ کیا‘ اس شخص نے سرکاری مائنڈ سیٹ سے باقاعدہ جنگ کرکے اس منصوبے کو 15ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا اورفقط 60دنوں میں100میگاواٹ کے سولر پینل لگائے ‘ منصوبے کی کل لاگت 150ملین ڈالر کے قریب رہی جس کی فنڈنگ بینک آف پنجاب نے کی‘منصوبے کا سالانہ خرچہ پراجیکٹ کی کل لاگت سے 2فیصدسے بھی کم ہے‘ یہی نہیں بلکہ نجم شاہ نے اس پراجیکٹ کو پاک چائنا اکنامک کاریڈور میں ایسے مارکیٹ کیا کہ اب کئی کمپنیاں قطار میں کھڑی ہیں کہ انہیں بھی سولر انرجی پیدا کرنے کی اجازت دی جائے ‘ ایک چینی کمپنی نے اس ضمن میں کام شروع کر دیا ہے ‘ اگلے دو برس میں یہ کمپنی اس 100میگاواٹ میں 900میگاواٹ کا اضافہ کرے گی اور سرمایہ کاری کا بندوبست بھی کمپنی خود کرے گی۔
سوال: قائد اعظم سولر انرجی پارک کی بجلی کی فی یونٹ قیمت صارف کے لئے کیا ہوگی؟
جواب: بجلی کا ایک یونٹ تقریباً 13سے 14روپے کا ہوگا ‘ آئندہ برسوںمیں یہ قیمت مزید کم ہو سکتی ہے کیونکہ قدرتی گیس یا تیل کے برعکس سورج کی شعائوں کی ’’قیمت‘‘ بڑھنے کا کوئی امکان نہیں ۔
سوال: عام صارف کو شمسی توانائی کی مدد سے بجلی پیدا کرنے میں کیا رکاوٹ ہے ‘حکومت یہ رکاوٹ دور کیوں نہیں کرتی؟
جواب: گھروں میں سولر پینل لگانے کی قیمت عام صارف کی پہنچ سے باہر ہے ‘ یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ‘ حکومت اس ضمن میں آسان شرائط پر قرضے دے سکتی ہے ‘ سولر پینل کی درآمد کو آسان بنا سکتی ہے ‘ اور کچھ نہیں کر سکتی تو کم از کم’’Net Metering‘‘ کی سہولت دے سکتی ہے تاکہ جب ایک صارف اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی سولر پینل سے حاصل کرے تو وہ واپس گرڈ میں چلی جائے اور سال کے آخر میں حکومت اس کے کل استعمال شدہ یونٹس میں سے گرڈ میں بھیجے گئے یونٹس منہا کر کے بل کر دے ‘اس سے بجلی میں بھی اضافہ ہو گا ‘ صارف کی بھی بچت ہوگی ‘اور سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *