Don Quixote

نجم سیٹھیNajam Sethi

جوڈیشل کمیشن کچھ افراد اور اداروں کی طرف سے2013 کے انتخابات کو ’’منظم دھاندلی اور سازش ‘‘ کے ذریعے چرانے کے عمران خان کے الزام کی تحقیقات کررہا ہے لیکن بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان تحریک ِ انصاف اور اس کے وکلامبینہ طور پر ہونے والی منظم دھاندلی کا خاطرخواہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اہم بات یہ کہ اب پی ٹی آئی سابق چیف جسٹس، افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھی جج، جسٹس(ر) خلیل رمدے کو بھی مورد ِ الزام ٹھہرانے سے گریز کررہی ہے حالانکہ اس سے پہلے عمران خان بہت تواتر سے ان جج صاحبان کو واشگاف انداز میں دھاندلی کا ’’شریک ِ جرم ‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک جیو ٹی وی بھی پی ٹی آئی کے حملوں کی زد میں تھا اور خاں صاحب نے اسے بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ تاہم پی ٹی آئی کے چیئرمین نے جیو کوگلے سے لگاکر صلح کرلی اور اب وہ اس کی کوریج کا بھرپور لطف لے رہے ہیں۔ جہاں تک دونوں سابق جج صاحبان کا تعلق ہے تو غالباً عمران خان کے وکلا نے اُنہیں مشورہ دیا کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے ان کے سابق کولیگز پر الزام عائد کرنے سے گریز کریں ۔ اور پھر سابق چیف جسٹس صاحب نے عمران پر ہتک عزت کا دعویٰ کررکھا ہے اور وہ عمران خان کو سپریم کورٹ میں آڑے ہاتھوں لینا پسند کریں گے۔عمران خان کے الزامات کی زد میں آنے والے دوسرے مبینہ ’’سازشی عناصر‘‘ میں چیف الیکشن کمیشن، ریٹرننگ آفیسرز کا گروپ اور پنجاب کے سابق نگران وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی( راقم الحروف) شامل ہیں۔ فی الحال پی ٹی آئی نے وہی پٹیشنز اور مواد پیش کیا ہے جو اس سے پہلے اس نے مختلف الیکشن ٹربیونلز کے سامنے پیش کیا تھا۔ وہ منظم دھاندلی کے ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نواز شریف اور مسٹر سیٹھی کے درمیان ہونے والی گفتگو ، جسے کسی نے خفیہ طور پر ریکارڈ کیا تھا اور جس کے حوالے سے ’’پنتیس پنکچروں‘‘ کی بات کی گئی تھی، کو بھی کمیشن کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ عمران خان پنجاب کے سابق نگران وزیراعلیٰ کو مورد ِ الزام ٹھہرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن وہ میری طرف سے عدالت میں دائر کئے گئے ہتک ِعزت کے دعوے کا جواب دینے کےلئے پیش ہونے سے گریزاں ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ میں نے جوڈیشل کمیشن کو لکھا تھا کہ عمران خان سے کہا جائے کہ سابق وزیر ِاعلیٰ کے خلاف دھاندلی کے جو بھی ثبوت ہوں پیش کئے جائیں تاکہ میں ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کروں۔
امر ِ واقعی یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے پی ٹی آئی کے وکلا سے بارہا کہا ہے کہ وہ اپنے اہم الزام۔۔۔۔’’انتخابات چرانے کےلئے کی گئی منظم دھاندلی اور سازش‘‘ کی طرف آئیں کیونکہ کمیشن قائم کرنے کی ٹرم آف ریفرنس میں یہ بات شامل تھی، لیکن اب پی ٹی آئی اس معاملے کو گول کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے کیونکہ نہ تو ایسی کوئی سازش ہوئی تھی اور نہ ہی ان کے پاس کمیشن کے سامنے پیش کرنے کے لئے کوئی ثبوت ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی خود منتخب شدہ حکومت کا تختہ الٹنے کےلئے ایک سازشی منصوبے پر عمل پیرا تھی۔ تاثر ہے کہ اس منصوبے کے خالق بعض اداروں کے کچھ عناصر تھے جو چاہتے تھے کہ اصل طاقت اُن کے ہاتھ میں ہی رہے اور وہ نئے آرمی چیف کی اپنا گھر درست کرنے کی کوششوں کو ناکام بناسکیں(اطلاع ہے کہ موجودہ فوجی قیادت کئی سابق افسران کے حوالے سے تحقیقات کررہی ہے)۔
اب عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ تسلیم کرلیں گے چاہے کمیشن ان کے الزامات کو ردی کی ٹوکری میں کیوں نہ پھینک دے۔ یہ بیان بھی اپنی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔اس سے پہلے اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں واپس نہیں آئیں گے کیونکہ یہ ’’آلودہ اورقابل ِ نفرت ‘‘ ہے، لیکن اب وہ بہت مزے سے اس کی نشستوں پر براجمان ہوتے ہیں۔اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ جب تک نواز شریف استعفیٰ نہیں دیںگے،وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے، لیکن دھرنا ’’تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ‘‘ دکھائی دیتا ہے جبکہ نواز شریف اقتدار پر پوری طاقت سے موجود ہیں۔ بہت دیر سے عمران خان کا موقف تھا طالبان صرف ’’بھٹکے ہوئے مسلمان بھائی‘‘ ہیں جن سے مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔ اب وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اُنہیں طاقت استعمال کرتے ہوئے ختم کردینا چاہئے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی جماعت کے داخلی انتخابات فقید المثال حد تک آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے ہوئے ہیں، لیکن اب سابق چیف جسٹس وجیہہ الدین صاحب کی سربراہی میں عمران خان کے اپنے قائم کردہ الیکشن ٹریبونل نے اس میں ہونے والی ہوشربا بے قاعدگیوں کا سراغ لگاتے ہوئے انتخابات اور پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدیدارن پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ ان بے قاعدگیوں پر کارروائی کرنے کی بجائے پی ٹی آئی چیئرمین نے جھنھلاہٹ کے عالم میں جسٹس وجیہہ الدین ٹریبونل کو ہی معطل کردیا۔ وہ شخص جس کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک نیا پاکستان تشکیل دینے جارہا ہے، اُس نے اپنی پارٹی کو بدعنوان، نااہل اور غیر سنجیدہ سیاست دانوں سے بھرلیا۔ یقیناً ایسے رویوں کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اس کی دو تازہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔۔۔ ایک تو کراچی کا ضمنی الیکشن اور دوسرا ملک بھر میں فوج کی زیر ِ نگرانی ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ کے مقامی انتخابات۔ ان دونوں انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کے دعووں میں حقیقت کی بجائے مبالغہ آرائی کا عنصر غالب ہے۔ دکھائی دیتا ہے کہ اسے جو مقبولیت کچھ عرصہ پہلے تک حاصل تھی، اس میں کمی کا رجحان واضح ہے۔ خان صاحب کی طرف سے بذات ِخود بھرپور مہم چلانے کے باوجود اسے کراچی میں ایم کیو ایم کے ہاتھوں 60,000 ووٹوں سے زائد کے فرق سے شکست ہوئی۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں پی ایم ایل (ن) نے پنجاب میں پی ٹی آئی کو شکست دے دی۔ پی ٹی آئی کی ہزیمت کا کیا ٹھکانہ جب اسے لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی جیسے شہروں میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ اس کا دعویٰ تھا کہ ان شہروں میں پی ایم ایل (ن) نے 2013ء کے عام انتخابات میں اسے دھاندلی کے ذریعے ہرایا تھا۔ عمران خان کاسب سے بڑا سیاسی اثاثہ یہ تھا کہ روایتی سیاست سے بیزار پاکستان کے تعلیم یافتہ نوجوان اُنہیں صاف ستھری اور بااصول سیاست کی علامت سمجھتے تھے۔ بدقسمتی سے وہ اپنے رویے کی وجہ سے نوجوانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچارہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *