ضمنی انتخابات کے نتائج

" احمد بلال محبوب "

ایسا بہت کم ہو تا ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج اس قدر دلچسپی کا باعث بنے  اور تجزیہ نگاروں کو  زیادہ سے زیادہ تجزیات کا موقع فراہم کریں لیکن حال ہی میں پاکستان میں ہونے والے ضمنی انتخابات اس حوالے سے مخصوص حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ جنرل الیکشن سے صرف تین ماہ کے عرصہ کے بعد ہی مرکز، کے پی اور پنجاب میں اپوزیشن نے پی ٹی آئی کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ ضمنی انتخابات کل 12 نیشنل اسمبلی سیٹووں اور 26 صوبائی اسمبلی سیٹوں پر ہونے تھے یعنی کل 38 سیٹوں پر مقابلے ہوئے۔

اگرچہ یہ ایک دلچسپ موقع تھا اور پوری قوم کی نظر ان پر تھی لیکن پھر بھی ووٹر ٹرن آوٹ میں  32 فیصد کمی دیکھنے کو ملی  ۔ ناقابل قبول ووٹوں کی جنرل الیکشن میں شرح 3 فیصد تھی جو ضمنی انتخابات میں کم ہو کر 1.77 فیصد پر آ گئی جس سے عوام میں انتخابی عمل کے شعور میں بہتری کا پتہ چلتا ہے۔

اس ضمنی انتخاب کو کئی پہلووں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلی قابل توجہ چیز ان کی شفافیت ہے ۔ انتخابی عمل میں ایک واضح بہتری دیکھی گئی ہے ۔ پولنگ کے دن اور اگلے دن دونوں مواقع پر صورتحال تسلی بخش رہی ہے ، کاونٹنگ، ٹرانسمیشن، جیت کے اعلانات، سب کچھ بغیر کسی تنازعہ کے مکمل ہوا ہے۔ ماضی میں حکومتیں ضمنی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی بھر پور کوششیں کیا کرتی تھیں ۔ اس بار یہ ماننا پڑے گا کہ پی ٹی آئی حکومت نے الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوئی کوشش نہیں کی  باوجود اس خطرہ کے کہ ان کے اسمبلیوں میں ارکان کی تعداد سے اقتدار پر گہرا اثر مرتب ہو سکتا تھا۔

عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ضمنی انتخابات میں ووٹرز حکومتی پارٹی کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ چونکہ اس موقع پر حکومت کی تبدیلی کی خاص توقع نہیں ہوتی اس لیے  ووٹرز حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے اتحادی  امیدوار کو ہی ووٹ دیتے ہیں  تا کہ انہیں حکومت کی طرف سے کسی قسم کی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔ لیکن حالیہ انتخابات کے نتائج  سے معلوم ہوتا ہے کہ  ووٹرز نے حکومت کے امیدواروں کو ترجیح دینے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ بلکہ انتخابات سے اپوزیشن پارٹیوں کو فائدہ ملا۔ اگر ووٹ کی شرح کو دیکھا جائے تو مرکزی اپوزیشن پارٹی یعنی ن لیگ کا ووٹ شئیر 26 فیصد سے بڑھ کر 33 فیصد پر چلا گیا ۔ گیلپ کے ایک سروے کے مطابق   اس اضافے کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی نہیں تھی کیونکہ پی ٹی آئی کے مقابلہ میں یہ  شرح 34 فیصد سے کم ہو کر 33 فیصد پر آئی ہے۔

ایک دوسرا پہلو جو ان انتخابات کو اہم بناتا ہے وہ اس کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں افرادی قوت پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ چونکہ موجودہ حکومت کی اکثریت بہت محدود تھی  اور پنجاب اسمبلی میں بھی مارجن بہت کم تھا اس لیے ان انتخابات کو بہت دلچسپی سے دیکھا جا رہا تھا ۔ عوام دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا اس سے حکومت مضبوط ہوتی ہے یا اپوزیشن اراکین میں اضافہ سے مرکزی اور صوبائی اسمبلی میں حکومت کو خفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نیشنل اسمبلی میں 17 اگست کو 176 ووٹ لے کر عمران خان وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔ 342 اراکین کی اسمبلی میں  مطلوبہ تعداد  172 سے صرف  4 مزید ووٹ عمران کو مل سکے۔ اس تعداد میں بھی پی ٹی آئی کے صرف 151 ووٹ تھے  جب کہ باقی تعداد اتحادی جماعتوں اور آزاد ارکان کو شامل کر کے پوری کی گئی۔ اتحادی جماعتوں کی مشترکہ سٹرینتھ 175 تک پہنچ پائی ۔ ضمنی الیکشن کے بعد اب یہ 182 تک پہنچ گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے اپنے ارکان کی تعداد بڑھ کر 156 پر آ چکی ہے۔ اپوزیشن میں ن لیگ کو چار سیٹ  کا اضافہ ملا  اور ا س کی ٹوٹل  تعداد 85 پر پہنچ گئی ۔ ایک سیٹ کے اضافہ سے ایم ایم اے اراکین  کی  تعداد 16 ہو گئی  اور اپوزیشن کی کل تعداد 156 اراکین پر پہنچ گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکومتی اتحاد کی ضمنی الیکشن کے بعد لیڈ میں بہتری ملی ہے لیکن پھر بھی پی ٹی آئی مکمل طور پر اتحادیوں پر انحصار سے فراغت حاصل نہ کر پائی ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سینٹر میں  بیلنس پر ضمنی انتخابات کا کوئی واضح فرق نہیں پڑا ہے۔

پنجاب میں پی ٹی آئی کو اپنے وزیر اعلی کے لیے 186 ووٹ ملے تھے ۔ 371 ارکان کی اسمبلی میں یہ حد درجہ مطلوبہ تعداد تھی ۔ ضمنی انتخابات کے بعد  یہ تعداد 190  تک پہنچ گئی ہے ۔ دوسری طرف  ن لیگ کو 6 مزید سیٹیں مل گئی ہیں اور اس کی کل تعداد 168 تک پہنچ گئی ہے  ۔ اتحادی جماعتوں کےا تحاد کی قوت میں ضمنی انتخابات سے کمی آئی ہے  اور اس طرح پی ٹی آئی کا ق لیگ پر انحصار مزید بڑھ گیا ہے۔

ایک پہلو جسے سب سے زیادہ توجہ ملی ہے  وہ حکومتی پارٹی کی طرف سے ہاری جانے والی سیٹس ہیں  جن میں کچھ سیٹیں کے پی کے میں بھی ہیں جہاں پی ٹی آئی کافی مضبوط دکھائی دیتی تھی۔ کل 21 سیٹوں میں سے  جو جنرل الیکشن میں پی ٹی آئی نے جیت رکھی تھیں، ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی صرف 10 اپنے پاس رکھ پائی۔ یعنی ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی اپنی 10 سیٹیں گنوا بیٹھی ہے۔اس کے بعد تین سب سے اہم حلقوں میں جہاں سخت مقابلہ متوقع تھا وہاں پی ٹی آئی کی ہار نے اس بڑے سیٹ بیک کو زیادہ اہمیت دے دی ہے۔ پہلا اہم حلقہ این اے 131 لاہور تھا جہاں جنرل الیکشن میں عمران خان نے  بہت کم  لیڈ سے خواجہ سعد رفیق کو شکست دی تھی  لیکن اب خواجہ سعد رفیق ضمنی الیکشن میں یہ سیٹ جیتنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ بنوں کی  سیٹ پر بھی عمران خان نے جنرل الیکشن میں فتح حاصل کی تھی لیکن ضمنی انتخابات میں یہ سیٹ جے یو آئی ایف کے اکرم درانی  کے بیٹے نے جیت لی۔ کے پی اسمبلی کی ایک سیٹ جو شاہ فرمان نے جنرل الیکشن میں جیتی تھی اس پر بھی  ضمنی الیکشن میں  کے پی کے گورنر شاہ فرمان کے بھائی کو بھی شکست ہو گئی ہے۔ ان فوائد اور نقصانات کو الگ رکھ کر دیکھا جائے   تو پر امن اور شفاف انتخابات  نے انتخابی عمل میں عوام کے بھروسہ کو مضبوط کیا ہے۔ جنرل الیکشن میں عوام میں بہت مایوسی کی کیفیت پھیل گئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *