عجیب متضاد مقاصد

" سید طلعت حسین "

اقتدار میں آنے کے دو ماہ کے اندر ہی عمران نے متضاد مقاصد کو نئے معانی دے دیے ہیں۔ عام طور پر اس اصطلاح کے معنی  دو متضاد بیانیے ہوتا ہے۔ قومی سیاست میں اس سے مراد ایسی متضاد حکمت عملیاں ہیں  جن کے بل بوتے پر عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ کوئی بہتری ان متضاد مقاصد کے ذریعے ممکن ہے۔ حکومت جو بھی کر رہی ہے وہ ان تمام دعووں سے بر عکس ہے جو حکومت نے ملک کو مستحکم کرنے ، معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے  اور قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے  الیکشن سے قبل  کیے تھے۔ مثال کے طور پر احتساب کے عمل کو ہی دیکھ لیجئے۔ حکومت کی احتساب سے متعلق پالیسیوں نے عام آدمی کا احتساب کے نظریہ سے بھروسہ ہی توڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ احتساب کے نام سے کرپشن کے خلاف جنگ  میں سیاسی اور سکیورٹی ادارے بھر پور مصروفیت دکھا رہے ہیں لیکن  حکومت کا جو ٹارگٹ تھا وہ خراب پالیسیوں کی نظر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پچھلے ہفتے وزیر اعظم عمران خان نے جب قوم سے خطاب کیا تو انہوں نے سیاسی مخالفین کو کڑے احتساب کی دھمکی دی  اور درجنوں بار کی طرح اس بار بھی عزم دہرایا کہ وہ کسی کو  ریلیف نہیں دیں گے۔ اس دھمکی سے مراد وہ  حالیہ انتقامی کاروائیاں ہیں جو حکومت نے مخالف پارٹیوں کے خلاف شروع کر رکھی ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے محفوظ ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی میں پناہ لینے میں عافیت سمجھی ہے۔ ہمارے علاوہ ہر کوئی کرپٹ ہے اور میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ' کے بیانیہ کو مضبوط کرنے کے لیے وزیر اطلاعات کی طرف سے متوقع گرفتاریوں کے نمبرز بدل بدل کر جاری کیے جاتے ہیں۔ کبھی  50، کبھی 100 اور کبھی 200 افراد کی گرفتاریوں کی بات کی جاتی ہے۔ میڈیا سے جو عمران خان نے ایک دو مواقع پر بات چیت کی ہے اس میں انہوں نے بار بار یہ موقف دہرایا ہے کہ اپوزیشن کے زیادہ تر سیاستدان کرپٹ ہیں۔ مخالفین کا احتساب کے نام سے قبر  کے نام تک پیچھا کرنے کا نظریہ قیادت کی طرف سے پروموٹ کیا جار ہا ہے۔ یہ نظریہ اب ایک قومی لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ہم اس کی اصل قیمت تو نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس نے پارلیمنٹ  اور سندھ اور پنجاب کی اسمبلیوں  کو سیاسی طور پر متنازعہ بنا رکھا ہے۔ قومی اسمبلی یا  پنجاب صوبائی اسمبلی  میں کسی قسم کے قوانین اتفاق رائے سے منظور ہونے کی امید نہیں ہے۔ اور نہ ہی سندھ اور مرکزی حکومت کے بیچ اچھے تعلقات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ قومی سطح پر پارٹیوں کا  آزادی دیےبغیر کسی قسم کے اتفاق رائے کا قیام محال ہے لیکن ہماری مرکزی حکومت اپوزیشن پارٹیوں کو  بد نام رکھنے پر تلی ہے  جس سے اس کے اپنے مقاصد کا پورا ہونا مشکل سے مشکل تر ہو رہا ہے۔ جب تک ہم  دنیا بھر کو یہ یقین نہیں دلا دیتے کہ پی ٹی آئی کے علاوہ سارے سیاست دان سمندر برد کرنے کے لائق ہیں تب تک سیاسی کشمکش کی وجہ سے کوئی غیر ملکی انویسٹر یا مقامی انٹرپرینر ملک میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں کی جا سکتا۔ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کا آغاز ن لیگ کو نشانہ بنا کر میڈیا ٹرائل کے  کیا لیکن دو ماہ گزرنے کے بعد اب  اس پارٹی نے تمام مخالفین پارٹیوں کو نفرت انگیز اور دھمکی آمیز رویہ سے فائرنگ رینج میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو کچھ دیر کے لیے تھم کر ایک پبلک ڈیبیٹ ی ضرورت ہے، حکومت نے اپنے لیے ہی مشکلات کے لیے خود ہی راستے بنا لیے ہیں۔ اس احتساب ڈرامہ کو جو چیز زیادہ خطرناک بناتی ہے یہ ہے کہ اس نے قوم کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے اور لوگ کون  صحیح ہے اور کون غلط کے معاملے پر آپس میں الجھنے لگے ہیں۔

کرپشن کی کوئی متفقہ تعریف نہیں ہے  لیکن سوشل میڈیا پر تبصروں پر نظر دوڑائیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر مخلاف کا لیڈر  کرپٹ ہے۔ کچھ لوگ زیادہ کرپٹ ہیں اور کچھ کم لیکن کوئی بھی شخص کرپشن سے مکمل طور پر پاک نہیں ہے۔  اس تاثر کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ جمہوریت ایک دھوکہ ہے  اور انتخابی عمل کا مقصد صرف عوام کو بے وقوف بنانا ہے۔ کرپشن کے یہ الزامات کسی خاص پارٹی سے الحاق تک محدود نہیں ہیں۔ یہ الزامات اب صرف اپوزیشن پارٹیوں کو کرپٹ کہنے تک محددود نہیں رہ گئے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی چہ میگوئیوں کی وجہ سے اب قوم کا موڈ  پورے سیاسی نظام سے بھی اچاٹ ہو چکا ہے۔ خود ساختہ ایکسپرٹس کی طرف سے جاری کیے گئے جعلی اعداد و شمار  کے ذریعے یہ تاثر راسخ کیا جا چکا ہے کہ جمہوریت کا مقصد ہی عوام کو بے وقوف بنانا ہے۔ ہم نے سن رکھا ہے کہ پاکستان سے ہر سال 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے  لیکن ابھی تک کوئی ایسا تحقیقاتی مطالعہ سامنے نہیں آیا جس کے ذریعے اس دعوی کو ثابت کیا جا سکے۔

ہم نے سنا ہے کہ 200 ارب ڈالر سوئس بینکوں میں آف شور اکاونٹس میں  پڑا ہے لیکن  ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے معلو م ہو سکے کہ یہ بیان واضح سچائی پر مبنی ہے ۔ ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ جن لوگوں کے بیرون ملک اثاثے موجود ہیں وہ کرپٹ مافیا کا حصہ ہیں  لیکن کوئی یہ پتہ کرنے کی کوشش تک نہیں کر رہا کہ  یہ اثاثے واقعی کالے دھن سے خریدے گئے ہیں۔ یہی حال قرضوں کی تفصیل کے بارے میں بھی ہے  اور منتخب حکومت کے نام قرضوں کے بڑے بڑے انبار منسوب کیے جاتے ہیں تا کہ عوام کو یقین دلایا جائے کہ منتخب حکومتوں نے پاکستان کو کس حد تک مقروض کر دیا ہے۔ کوئی یہ نہیں بتانا چاہتا کہ قرض کی رقم جاتی کہاں ہے  (زیادہ تر رقم شعبہ ڈیفنس پر خرچ ہوتی ہے) اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ قرض بڑھنے کی وجہ حکمرانوں کی لوٹ مار ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اس طرح کے بے ڈھنگ اعداد و شمار عمران خان  باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں  اس لیے یہ سب عوام کی رائے کا حصہ بن چکے ہیں کہ پاکستان کو سیاستدانوں نے لوٹ کر کنگال کر دیا ہے۔ ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ 10 سال قبل پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں لیکن اب جمہوری حکومتیں ہی  تباہی کی ذمہ دار ہیں۔

اگر تہہ میں جا کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ عوام کو یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ ماضی قریب کس سب سے بہترین دور مشرف کا دور تھا  کیونکہ ملک تباہی کی راہ پر پی پی اور ن لیگ کے دور میں گیا ہے۔ یہ معاملہ فری لبرل الیکٹورل ڈیموکریسی کے خلاف بھی ایک کیس کو شہرت بخشنے کا باعث ہے  اور قومی مفاد میں کنٹرولڈ جمہوریت کو فروغ دینے کے نظریہ کو جواز بخشتا ہے۔

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ قوم کو خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے  خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ  پاکستان میں سب سے زیادہ ترقی ایوب خان کے دور میں ہوئی۔ لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے کہ پاکستان کی تقسیم کی جڑیں  اور بنگلہ دیش کے قیام کی راہیں بھی ایوب دور میں ہی  وجود میں آئیں۔ یہ اسی سال ہوا جس سال عمران کے مطابق ایوب خان نے سب سے زیادہ ترقی کا خواب سچ کر دکھایا۔ ان کے نظریہ کو نیب  اور عدلیہ کے فیصلوں کی بھی پشت پناہی حاصل ہے   جو پورے حکومتی نظام، انتظامیہ، معیشت اور سیاست کے خلاف فرد جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بیانیہ سے جو پیغام سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ سیاستدان، بیوروکریٹس، بزنس مین، صحافی  سب کرپٹ  اور نا قابل اعتبار لوگ ہیں  اور انہی لوگون نے ملک تباہ کیا ہے ورنہ یہ ملک بہت ترقی کر چکا ہوتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ  اس ملک کی باگ ڈور کو بہتر کرنے کے بارے میں جو دعوے کیے جاتے ہیں وہ ان تمام نظریات کے بر عکس ہیں۔

عدلیہ سمجھتی ہے کہ مسائل کا حل صرف یہی کر سکتی ہے ۔ نیب چئیرمین کو لگتا ہے کہ وہ ملک کو صفائی کی راہ پر ڈالنے مین سب سے آگے ہیں۔ عمران خان کا یقین ہے کہ وہ نظام کو صاف و شفاف بنا سکتے ہیں اور ان کے علاوہ کوئی ایسا نہیں کر سکتا۔ البتہ سب لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان  بہت مشکلات میں پھنس چکا ہے  اور ایسا ہمپٹی ڈمپٹی بن چکا ہے جسے فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی ایسا انویسٹر بتائیں جو موجودہ صورتحال کے باوجود ملک پاکستان کو ایک جنت سمجھ رہا ہو۔ کوئی ایسا سنجیدہ شہری دکھائیں جو ان خوفناک کہانیوں کو سننے کے بعد جمہوریت پر یقین کامل رکھتا ہو۔ متضاد مقاصد پر کام کرنے سے ایسے ہی نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔ ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جواس کے بلکل برعکس ہوتی ہے جو ہم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ ایک متحد ملک بنانا چاہتے ہیں لیکن اس مقصد کے لیے اس ملک کو مختلف مسائل کا شکار بناتے چلے جاتے ہیں۔ یہ متضاد مقاصد کہلاتے ہیں اور یہ ایک جاہلانہ پاگل پن ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *