اعلیٰ تعلیم یافتہ ’جہادی جوہن‘ ماہرین کیلئے حیرانی کا سبب نہیں

jihadi-john پیرس: لندن کارہائشی، یونیورسٹی کا اعلیٰ تعلیم یافتہ’جہادی جوہن‘ جس کا چھپا ہوا چہرہ داعش کی بھیانک قتل و غارت گری کی علامت سمجھا جاتا ہے، کا پروفائل ان کم اہم یا غیرمتاثر کن افراد سے بہت مختلف ہے جنہوں نے فرانس اور ڈنمارک میں حملے کئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود، ایسے خطروں کا سراغ لگانے والے کہتے ہیں کہ جوہن کا پروفائل ان کیلئے کسی حیرانی کا سبب نہیں بنا کیونکہ، ان کا کہنا ہے کہ ’’روایتی دہشتگرد‘‘کوئی نہیں ہوتا، یعنی کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھنے والا، کبھی بھی دہشتگرد بن سکتا ہے۔
دہشتگردوں کے پروفائلز کی وسیع رینج اور ممکنہ مشکوک افراد کی بڑھتی ہوئی تعدادکے سبب تفتیش کاروں کا کام دن بدن مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
دہشتگردی کے تناظر میں، ماہرین، کچھ اختلافات کے ساتھ، 3سے4اقسام کے پروفائلز کا حوالہ دیتے ہیں۔لیکن وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ 20سے30برس کی درمیانی عمر کے کویتی النسل، برطانوی محمد ایموازی کا پروفائل کوئی نئی چیز نہیں ہے کیونکہ ایموازی کے پیش روؤں میں سعودی عرب کے وہ ہائی پروفائل دہشتگرد بھی شامل ہیں جنہوں نے 9/11کو نیویارک پرحملے کئے تھے اور آسانی سے امریکی منظر نامے کو تہس نہس کرکے رکھ دیا تھا۔ یاد رہے کہ جوہن کی طرح، وہ بھی نہ تو غریب تھے اور نہ ہی کم پڑھے لکھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *