ایم فارمولانا

" فہد حسین "

کیا مولانا فضل الرحمان  واپس مین سٹریم سیاست میں آ کر عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیا ب ہو پائیں گے؟ بہت سے طاقتور لوگوں نے ایسے حالات میں بھی مواقع پیدا کر کے اپنے مقاصد کے حصول مین کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی اہمیت عوام کےسامنے واضح کی ہے۔ یہ قدرت کا اصول ہے کہ قسمت بہادری کا ساتھ دیتی ہے۔  لیکن کیا بہادر لوگوں کو جلد بازی سے کام لینا چاہیے؟ اگر آپ کو اس میں شک ہے تو ایم ڈائل کر کے مولانا سے رابطہ کیجئے۔

اب منظر نامہ لاہور کی طرف شفٹ ہو گیا ہے جہاں مولانا فضل الرحمان جمعیت علما اسلام ف کے قائد کی حیثیت سے  ایک ایسے مشن پر کام شروع کرنا چاہتے ہیں جس میں دو دوسرے بڑے اہم لیڈران  بھی موجود ہیں۔ ایک شخصیت آصف علی زرداری ہیں جو پیپلز پارٹی کے قائد ہیں۔ اور دوسرے نواز شریف ہیں جو پاکستان مسلم لیگ کے ایک دھڑے کے قائد ہیں۔ تین آدمی، تین پارٹیاں اور ایک شہر اور ایک مشن۔

اس کا مطلب ایم سے مراد مولانا کا مشن ہے  جس کے مطابق وہ ان لوگوں سے ملیں گے جو عمران خان حکومت کے خلاف  کھڑی ہونے والی پارٹیوں کے قائد ہیں اور مولانا کی طرح خان کی حکومت کو مشکل میں ڈالنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ مولانا ایک آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی خواہش رکھتے ہیں  جس میں ایک مقصد پر نواز اور زرداری کو ایک ٹیبل پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سے قبل کچھ چھوٹے مولانا ماڈل ٹاون میں  ن لیگی قیادت سے اس تقریب کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ملاقات کر چکے ہیں ۔ بڑے مولانا  کا سیاست میں غیر موثر ہو جانے کا خوف انہیں  بار بار زیادہ قوت کے ساتھ عمران کی حکومت گرانے کے عمل کے لیے ہر کوشش کر نے پر آمادہ کرتا ہے ۔

ایم سے مراد وہ  عام اور معمولی طور طریقے بھی ہیں جو پی ٹی آئی  نے اپنی پہلی حکومت کی مینیجمنٹ کے لیے اختیار کر رکھے ہیں۔ ایک پرنس نے   تبدیلی کے لیے بے صبر لوگوں سے جو جنت کے وعدے کر رکھے تھے اس نے اپنی حکومت کا آغاز انتہائی غیر مناسب اور بھدے طریقے سے کیا ہے۔ جادوگر نے الیکشن سے قبل جو مومینٹم بنایا تھا اس کو قائم نہیں رکھ پایا  اور اس طرح عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے۔ ہر آئے دن ، ہر نئے واقعہ کے بعد، ہر یو ٹرن کے بعد خان کی حکومت کو قدم جمانے میں نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے  اور مومنٹم قائم نہیں رکھا جا رہا۔ حکومت کو مومینٹم ملا بھی نہیں ہے۔ اسے صرف مولانا ملے ہیں جو خون کے پیاسے ہیں۔

ایم کا مطلب آصف علی زرداری کی مکینزم بھی ہے  جو اس وقت منی لانڈرنگ کیسز   بھگت رہے ہیں اور خان کی حکومت کے خلاف ان کا صبر جواب دے رہا ہے۔ ورنہ انہیں کیا ضرورت ہے کہ  اپنے نمبر پورے نہ ہونے کے باوجود  حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا اشارہ دیں۔ اور یہ بھی سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر آپ زرداری کی کسی چال کو ہنس کر نظر انداز کر دیتے ہیں تو نتائج کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔

ایم اس مذل کا بھی نام ہے جس نے نواز کو خاموش کر رکھا  ہے جو اس وقت اپنے خلاف احتساب عدالت کی طرف سے کیسز  کا سامنا کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نواز شریف کی اسی muzzle کو ہٹانا چاہتے ہیں تا کہ نواز اپنی سیاسی سرگرمیاں  پہلے کی طور پوری طرح محرک ہو کر جاری رکھ سکیں ۔ لیکن نواز کی معمولی خاموشی اور مریم کی مکمل خاموشی کے بیچ ایک خاص فرق ہے۔ ابھی تک تلواریں نیام کے اندر ہیں ، گن خاموش ہے   اور تیز اور سخت بیانیہ بھی کچھ وقت کے لیے مکمل طور پر خاموشی کے اندھیروں میں گم ہے۔

ایم اس بڑھتے ہوئے دباو کا بھی نام ہے جو مولا نا سیاست میں اپنے آپ کو متعلق رکھنے کے حوالے سے محسوس کرتے ہیں۔ ایک کامیاب اے پی سی  ان کے اس دباو کو کم کر کے ان کو واپس گیم میں لا سکتا ہے۔ ایک کامیاب اے پی سی  زرداری کی طرف سے تمام سیاسی حلقوں کو ایک وارننگ کی علامت بن جائے گی ، ایسے لوگوں کے لیے جو اس وارننگ کو سنجیدگی سے لیں گے۔ لیکن ہتھیاروں اور اوزار کے بغیر ایک وارننگ صرف پانی کا بلبلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ نواز کی بجائے راجہ ظفر الحق کی موجودگی میں ہونے والی اے پی سی ایک وارننگ تو ہو گی لیکن اس میں جان نہیں ہو گی۔ اپنے آپ کو متعلق کرنے کا سفر صرف بیانیہ کو دہرانے سے کامیاب تصور نہیں ہو گا۔

ایم   پنجاب کےمعاملات کی مینجمنٹ کا بھی نام ہے  اور اقتدار کی تقسیم کے میرٹ کے غلط حساب کتاب کا بھی نام ہے  جس کی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن کے مینڈیٹ کے بیچ کا فرق بہت محدود ہے۔

کسی عجیب و غریب وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی  پنجاب کو اپنی کمزوری بنانے پر تلی ہے۔ لیکن اپوزیشن کی آرمی میں موجود پیرس اس کمزوری کو ٹارگٹ نہیں کرے گا۔ ابھی تو نہیں۔ کیا مولا نا سن رہے ہیں؟

ایم سے مراد میڈیا بھی ہے جو اپنے ذرئع استعمال کر کے مارکیٹ میں اپنا تاثر قائم رکھتا ہے ، اس کے پاس آئیڈیاز کم ہوتے ہیں لیکن ایجنڈاز بہت زیادہ اور پھر بھی  اپنے مواد کو مینیج کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے مولانا اور ان کے ساتھیوں کو تسلی مل جاتی ہے۔ میڈیا اس وقت اپنی بقا کی جنگ میں اتنا مصروف ہے کہ یہ اس آگ کو بھڑکا نہیں سکتا  جو مولانا حکوت کو  ہٹانے کے لیے سلگانا چاہتے ہیں۔ مین سٹریم میڈیا میراتھان ٹرانسمیشن کے حساب کتاب کو تو مینیج کر سکتا ہے لیکن صرف تبھی جب اکثریتی طبقہ کی حمایت اس کے ساتھ ہو۔ اکیلے مہم جو اور میڈیا نیٹ ورکس کے لیے اتحاد کی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔ کیا  ہارے ہوئے مولانا اس حقیقت سے واقف ہیں؟

ایم کا مطلب متحدہ قومی موومنٹ ہے جو اسمبلی میں محض کچھ سیٹیں رکھتے ہوئے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ جونہی متحدہ حکومت سے الگ ہو گی،حکومت گر جائے گی۔ متحدہ عجیب و غریب چالیں چلتی ہے۔ متحدہ اپنے مینڈیٹ کا حد درجہ تک فائدہ اٹھاتی ہے۔ متحدہ نے اپنے مینوسکرپٹ کو صورتحال کے مطابق استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔ متحدہ  اپنے ارکان  کی تعداد سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ اس وقت یہ حصے  مل کر حکومت کو مکمل کر رہے ہیں۔ کیا مولانا صاحب متحدہ کو اپنے جادو سے متاثر کر پائیں گے؟  ایم کا مطلب کمرے میں موجود ہاتھی بھی ہے۔ ہاتھی  صابر ہوتے ہیں اور ان کی یادداشت بھی طویل المدتی ہوتی ہے۔ اس سے آگے کیا کہا جا سکتا ہے۔ کیا اب بھی آپ کو لاہور کے مشن میں شکو ک وشبہات ہیں؟ اگر ہیں تو ایم کا مطلب مولانا سمجھیے۔ اس سےبھی بہتر یہ ہے کہ ایسا نہ کرنے کے لیے ڈ ی ڈائل کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *