برطانوی عام انتخابات

Irfan Hussainعرفان حسین

برطانوی عام انتخابات، جن میں انتہائی سخت مقابلہ متوقع ہے اور شاید عشروںسے ایسے انتخابات کا انعقاد دیکھنے میں نہیں آیا جن میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اس طرح کے قریبی مقابلے ہونے جارہے ہوں،بس چند دن کی دوری پر رہ گئے ہیں جبکہ میں خود کو ایک الجھن میں گھرا ہو ا پاتاہوں۔ بطور ایک برطانوی شہری ، مجھے پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے کا حق ملا ہے اور میں ابھی تک اس فیصلے پر نہیں پہنچ پایا کہ میں کس کو ووٹ دوں۔معمول کے حالات میں ، میں لیبر پارٹی کو ووٹ دیتا حالانکہ میں ایڈ ملی بینڈ سے زیادہ متاثر نہیں۔ درحقیقت بی بی سی کے حالیہ مباحثے کے پروگرام میں اُن کے مقابلے میں ڈیوڈ کیمرون کی کارکردگی بہت بہتر رہی۔تاہم مسئلہ یہ ہے کہDevizes کے حلقے، وائٹ شائر، جہاں میںسال میں کچھ وقت گزارتا ہوں، میں کنزرویٹو پارٹی کی امیدوار کلیئر پیری (Claire Perry)، جو گزشتہ مدت میں بھی رکن ِ پارلیمنٹ تھیں، دیگر حریفوں سے انتخابی مسابقت میں بہت آگے ہیں۔ ہونے والے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ دیگر امیدوار اُن سے اتنے پیچھے ہیں کہ کوئی مقابلہ ہوتا ہی نہیں دکھائی دیتا۔ سروے پول میں اُنہیں 55 فیصد حمایت حاصل ہے جبکہ ان کے مقابلے میں لبرل ڈیمو کریٹ کے امیدوار کو 27 فیصد اور لیبر پارٹی کے امیدوار کو صرف 10 فیصد حمایت حاصل دکھائی دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مس پیری نے اپنے حلقے کی نمائندگی بہت احسن طریقے سے کی ۔ وہ شہریوں کے لیے بہت مددگار تھیں اور سب سے اہم یہ کہ شہریوں کی اُن تک رسائی بہت آسان تھی۔ چنانچہ حیرت کی کوئی بات نہیں اگر وہ حلقے کے عوام کی بھاری اکثریت رکھتی ہیں۔
تاہم میں اکیلا ہی انتخابی الجھن کا شکار نہیں، تقریباً14 فیصد برطانوی ووٹرز نے تاحال فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کس کو ووٹ دیںگے۔ اگرچہ حالیہ سروے پول ظاہر کرتے ہیں کہ ٹوریز کو کچھ برتری حاصل ہے، لیکن کچھ پولز لیبر پارٹی کی برتری کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اس غیر یقینی صورت ِحال کی وجہ سے بہت سے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے کیونکہ اُنھوں نے تاحال فیصلہ نہیں کیا۔ حالیہ برسوں میں ابھر کر سامنے آنے والی ایس این پی (سکاٹش نیشنل پارٹی) کی رہنمانیکولا سٹرجن (Nicola Sturgeon) کو ''برطانیہ کی انتہائی خطرناک عورت‘‘قراردیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایس این پی کے موجودہ پارلیمنٹ میں صرف چھ رکن ہیں لیکن یہ اب سکاٹ لینڈ کی انسٹھ میں سے پچاس نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ کچھ پول سروے کلین سویپ کی پیشین گوئی بھی کررہے ہیں۔ اس سے پہلے یہ نشستیں لیبرپارٹی کوملتی تھیں لیکن ہونے والی اس پیش رفت سے اس خطے ، جہاں یہ ایک صدی پہلے وجود میں آئی تھی، سے لیبر پارٹی کا عملاً صفایا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
رائے شماری کرنے والے پول ظاہر کرتے ہیں کہ ٹوریز 280 جبکہ لیبر 268 کے قریب نشستیں جیت سکتے ہیں۔ اس طرح کنزرویٹو پارٹی کو کم از کم 46 نشستیں درکار ہیں تاکہ وہ اگلی حکومت بنانے کے لیے کسی کے ساتھ مل کر326 کا ہندسہ عبور کرسکے۔ اس کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ اس کی موجودہ کولیشن پارٹنر ، لبرل ڈیمو کریٹ صرف 26 نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے ۔ گزشتہ انتخابات میں اس کی 56 نشستیں تھیں۔ اس طرح ان حلیفوں کے پا س کل ملا کر 306 کا عدد بنتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ حیران ہیں کہ باقی بیس نمبر کہاں سے پورے کیے جائیں؟ غیر یقینی پن کے اس عالم میں UKIP کے نیگل فاریج (Nigel Farrage)زیادہ سے زیادہ تین سیٹیں لے سکتے ہیں، حالانکہ قومی سطح پر ہونے والے سروے میں اُنہیں پندرہ فیصد حمایت ملی تھی۔UKIP کو کم نشستیں ملنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حمایت کہیں ارتکاز نہیں رکھتی بلکہ یہ ملک بھر میں بکھری ہوئی ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے ان حلقوں، جہاں دونوں بڑی جماعتوں میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، کے نتائج تبدیل ہوجائیں۔
ایس این پی نے دوٹوک اعلان کردیا ہے کہ وہ کنزرویٹو حکومت کی کبھی بھی حمایت نہیں کرے گی۔ نمبر گیم کے دوسرے طرف لیبر پارٹی ہے جسے بھی کم از کم پچاس نشستوںکی کمی کا سامنا ہے۔ نیکولا سٹرجن کا کہنا ہے کہ وہ لیبر پارٹی کے ساتھ حاصل کیے گئے ووٹوں کی بنیاد پر اقتدار میں شراکت کرسکتی ہیں، تاہم فی الحال ان کی پیش کش کامسٹر ملی بینڈ نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ اگرچہ نظریاتی طور پر لیبر پارٹی اور ایس این پی ایک دوسرے کے قریب ہیںلیکن ملی بینڈ ٹوریز کے ان الزامات کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ (ملی بینڈ) اقتدار کی خاطر ایس این پی کے ساتھ کسی قسم کی بھی ڈیل کرسکتے ہیں۔ یہ الزام کہ وہ نیکولا سٹرجن کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے الگ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، ان کے سیاسی کیرئیر کے لیے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس طرح مسٹر کیمرون کے ہاتھ میں ایک ایسی چھڑی آگئی ہے جس سے وہ ملی بینڈ کی پٹائی کرسکتے ہیں۔ چنانچہ اس ''ٹھکائی ‘‘ سے بچنے کے لیے لیبر پارٹی کے رہنما ایس این پی کی پیش کش قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔
جواب آں غزل، لیبر پارٹی بھی ٹوریز پر الزام عائد کررہی ہے کہ وہ اقتدار کے لیے UKIP کے ساتھ شراکت کرنے جارہی ہے حالانکہ مسٹر فاریج برطانیہ کو یورپین یونین سے نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا تارکین وطن مخالف ایجنڈا بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اس طرح صرف تین نشستوں کی خاطر برطانوی معاشرے میں یہ الزام سہنا مہنگا سودا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر مسٹر کیمرون کو ریکارڈ ووٹ کیوں نہ پڑجائیں، وہ تمام حلیفوں کو ساتھ ملا کر بھی 326 کا عدد پورا نہیں کرسکتے۔ دوسری طرف ملی بینڈ کے پاس ایس پی این کا ہاتھ تھامنے کے علاوہ اگلی مرتبہ برطانوی وزیر ِ اعظم بننے کا کوئی راستہ نہیں۔ یہ بے رحم عددی کھیل ظاہر کرتا ہے کہ اگلے برطانوی وزیرِاعظم ملی بینڈہی ہوں گے لیکن ان کا اقتدار انتہائی نازک مخلوط حکومت تشکیل دے گا ، اور اس کے لیے کچھ ہارس ٹریڈنگ بھی کرناپڑے گی۔ فی الحال دونوں رہنما اپنی اپنی حتمی جیت کا دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ تنہاحکومت سازی کرسکتے ہیں ۔ دراصل انتخابات سے پہلے وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ اُنہیں حکومت سازی کے لیے کسی پارٹنر کی ضرورت ہے۔
گزشتہ چند ایک برسوںسے ہونے والے سروے پول ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ میں کسی ایک پارٹی کے لیے حکومت سازی اب ممکن نہیں رہی، چنانچہ مخالف نظریات رکھنے والی جماعتیں بھی ایک دوسرے سے اتحاد کرتے ہوئے حکومت بنانے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ہم نے 2010ء میں دیکھا تھا کہ لبرل ڈیمو کریٹس نظریاتی اختلاف کے باوجود کنزرویٹو کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت میں شامل ہوگئی۔ تاہم اس سے ان کے نظریاتی ووٹر بددل ہوکر لیبر پارٹی کے کیمپ میں چلے گئے۔ حکومت میں شامل جونیئر پارٹنر کو ووٹرز اس حوالے سے بھی یاد رکھیں گے کہ اگرچہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرجائے گی لیکن وہ بہت سے اہم بل شاید منظورنہ کراسکے گی۔ بہرحال انتخابات کا جو بھی نتیجہ ہو، ایک بات طے ہے کہ اپنی پچاس نشستوںکے ساتھ نیکولا سٹرجن ایک اہم سیاسی کھلاڑی بن کے سامنے آئیں گی۔ اس وقت وہ ملک کی سب سے مقبول سیاست دان ہیں۔ میری خواہش ہے کہ کاش میں بھی اُنہیں ووٹ دے سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *