میں کالج معاشی امداد کے لیے 1.8 ارب ڈالر کیوں دے رہا ہوں؟

" مائیکل بلومبرگ "

میں ایسا نظریہ پیش کر رہا ہوں کہ شرطیہ زیادہ تر امریکی اس سے اتفاق کریں گے: کسی بھی ہائی سکول کے طالبعلم کو اپنے خاندان کے بینک اکاؤنٹ کی بنیاد پر کالج میں داخلہ  سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ لیکن ایسا اکثر ہوتا ہے۔

جب کالجز درخواستوں کا جائزہ لیتے ہیں، چند ایک کے سوا سب کے سب طالبعلم کی فیس  ادا کرنے کی قابلیت پر غور کرتے ہیں۔ نتیجتا  نچلا اور درمیانی طبقہ کے ہونہار طلبا   سیٹ حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں  اور یہ سیٹیں ان لوگوں کو دی جاتی ہیں جن کے پاس بیش بہا پیسہ موجود ہو۔ یہ چیز نبراسکا کے کسان کے بیٹے  اور ڈیٹرائٹ میں کام کرنے والی خاتون کی بیٹی  کو بہت تکلیف دیتی ہے۔

طلبا کی جیب پر نظر رکھنے کے بجائے ان کی تعلیمی قابلیت کوجانچنے میں امریکہ سب سے بہتر ملک ہے ۔ طلبا کو داخلہ سے ان کی مالی حیثیت دیکھتے ہوئے محروم کر دینا مساوات کے خلاف ہے۔ یہ  نسلوں کے اندر غربت کو پروان چڑھانے کا ایک طریقہ ہے۔  یہ امریکہ کے خواب  کہ ہرسوسائٹی سے تعلق رکھنے والا ہر شخص میرٹ کی بنا پر اوپر آنے کی قابلیت رکھتا ہے، کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔

میں خوش قسمت تھا۔ میرے والد کا ایک کتاب خانہ تھا جنہوں نے سالانہ 6000 ڈالر سے زیادہ کبھی  نہیں کمائے۔ لیکن میں نیشنل ڈیفنس سٹوڈنٹ لون کے ذریعے اور کیمپس میں ایک ملازمت کے ذریعے جاہن ہوپکن یونیورسٹی  میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ میرے ہوپکن ڈپلوما نے وہ دروازے کھولے جو دوسری صورت میں بند رہنے تھے، اور مجھے امریکی  خواب میں زندگی گزارنے کا موقع ملا۔

میں اس  موقعے کا ہمیشہ سے شکر گزار رہا۔ میں نے پہلی مرتبہ گریجویشن کرنے کے ایک سال بعد ہوپکن کو چندہ دیا جو  5 ڈالر پر مشتمل تھا۔ میں اتنا ہی دے سکتا تھا۔  تب سے اب تک میں اس سکول کو میں نے سکول کو 1.5 بلین ڈالر ریسرچ، تدریس اور مالی مدد کی مد میں دے چکا ہوں۔

 ہوپکن  پہلا سکول ہے جس نے محض میرٹ کو بنیاد بنا کر طلبا کو داخلہ دینے کی روش اپناتے ہوئے خود کو need blind ادارہ ثابت کیا ہے۔ میں یقین دہانی کرنا چاہتا ہوں کہ جس سکول نے مجھے ایک موقع دیا وہ اسی دروازے کو دوسروں کے لیے مستقل طور پر کھلا رکھنے کے قابل ہو سکے۔  اور اس طرح میں ہوپکن کو 1.8 بلین ڈالر اضافی دے رہا ہوں جو کم اور متوسط آمدنی والے اہل طلبا کے لیے معاشی مدد کے لیے استعمال ہو گا۔

یہ ہوپکن میں داخلوں کے معیار کو  ہمیشہ کے لیے نیڈ بلائنڈ بنائے گا، اخراجات دوبارہ کبھی بھی فیصلوں میں رکاوٹ نہیں ہوں گے۔ سکول بہت سے طلبا کے لیے قرضوں کو سکالر شپ عطیات سے بدلتے ہوئے معاشی امداد کے اعلی معیار تک پہنچ  جائے گا۔  یہ بہت سے گریجویٹس  کو قرضوں سے نجات دلائے گا۔ اور یہ کیمپس کو سماجی اقتصادی طور پر متنوع بنائے گا۔

لیکن ہوپکن  صرف ایک سکول ہے ۔ The Times کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق امریکا کے درجنوں بہترین کالجوں میں زیادہ تر طلبا بہترین آمدن والے 1 فیصد طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جب کہ نیچے کی آمدنی کے 60 فیصد لوگوں کو  پیچھے رکھا گیا باوجود اس حقیقت کے کہ ان کی قابلیت اعلی آمدنی والے خاندان کے طلبا سے زیادہ تھی۔

اور حال تک کچھ اندازوں کے مطابق کم اور متوسط آمدنی والے طلبا میں سے آدھے  سے زیادہ تعداد نے بڑے  کالجوں کے لیے درخواست بھی  نہیں دی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ  وہ اس کی گنجائش نہیں رکھتے۔ انہیں خوف رہتا ہے کہ  انہیں قبول بھی کیا جائے گا یا نہیں یا  پھر ان کو ایسی آپشنز کا علم ہی نہیں ہوتا۔

نتیجتا  وہ اکثر باہر رہ جاتے ہیں ، اور یہی  حال ان کالجز کا بھی ہوتا ہے  جو ایسے طلبا کے ٹیلنٹ اور تنوع سے بھر پور سوچ سے استفادہ کر سکتے تھے۔  اور اس ہار کا اثر ہمارے ملک پر بھی ہوتا ہے۔

کالج ایک  برابری لانے کی جگہ کا نام ہے۔ کئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ  جو طالب علم مخصوص کالجز میں جاتے ہیں، چاہے ان کا خاندانی پس منطر کیسا بھی کیوں نہ ہو، ان کی گریجویشن کے بعد کمائی ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ لیکن کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے بہت سے اہل بچوں کو مواقع سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ایک ملک کے طور پر ہم اس چیلنج سے نمٹ سکتے ہیں اور تین بنیادی اقدامات کرتے ہوئے مزید طلبا کے لیے موقع کے دروازے کھول سکتے ہیں۔

اول یہ کہ ہمیں کالج ایڈوائزنگ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تا کہ مختلف پس منظر کے مزید طلبا  کالج کا انتخاب کرنے کے لیے درخواست دیں۔ کالج پوائنٹ کے نام سے ایک پروگرام کے ذریعے میری فاؤنڈیشن نے تقریبا 50000 کم اور متوسط آمدنی والے بچوں کی کونسلنگ کی اور ان سے ان کی آپشنز کے بارے میں گفتگو اور مشاورت کی ۔ انہیں معاشی سپورٹ کے معاملہ میں بھی درست رہنمائی فراہم کی گئی۔

دوم یہ کہ ہمیں مزید کالجوں کو کم آمدنی والے بچوں کے لیے معاشی امداد بڑھانےاور غریب  طلبا کو قبول کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ امیریکن ٹیلنٹ اینیشی ایٹو (جو میری فاؤنڈیشن نے سالوں پہلے تخلیق کیا) کے ذریعے 100 سے زیادہ ریاستی اور نجی سکولوں نے ایک ساتھ ایسے مزید طلبا کو داخلہ دینا اور گریجویٹ بنانا شروع کیا۔

سوم یہ کہ ہمیں مزید گریجویٹس کی ضرورت ہے جو اپنی بچت معاشی امداد میں دیں۔ میں اپنے ذاتی  کمٹمنٹ میں اضافہ کر رہا ہوں  اور سب سے زیادہ چندہ دینے والا انسان بننے جا رہا ہوں۔ لیکن مجھے امید ہے کہ دوسرے لوگ بھی ایسے ہی خدمت میں حصہ لیں گے  چاہے وہ 5 ڈالر دیں یا 50 ہزار ڈالر۔

لیکن صرف یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔ وفاقی عطیات  بڑھتے اخراجات کے ساتھ  مطابقت نہیں رکھتے ، اور ریاستوں نے سٹوڈنٹ ایڈ کو ختم کر دیا ہے۔ نجی عطیات حکومتی تعاون کی کمی کا مداوا نہیں کر سکتے اور نہ ہی انہیں کرنا چاہیے۔

وفاقی اور ریاستی حکومتوں کو ایک ساتھ مل کر کالج تک رسائی کو بہتر بنانے اور بہت سے طالبعلموں اور خاندانوں پر قرضوں کے ممنوع بوجھ کو کم کرنے کے لیے ایک نیا عزم کرنا چاہیے۔

اس سے بہتر کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی کہ ہم مستقبل میں امریکن خواب کو پورا کر سکیں، اور سب کے لیے مساوی موقع کا وعدہ کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *