چین جہاں انٹرنیٹ بھی آزاد نہیں

" ریمنڈ زانگ "

آج صرف چین ہی ایسا ملک ہے جو ایسی انٹر نیٹ کمپنیاں رکھتا ہے جو امریکہ کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ پیپر منی کو سمارٹ فون پے منٹ سے بدلنے میں امریکہ سے کئی سال آگے ہے  اور ٹیک جائنٹس کو کنزیومر اکانومی  کے گیٹ کیپر بنانے میں لگا ہے۔ یہ کریٹو ایکسپریشن  جن میں شاٹ ویڈیوز، پوڈ کاسٹ، بلاگز، سٹریمنگ ٹی وی جیسے نئے عوام کا ہوسٹ بھی ہے ۔ یہ چیزیں چینی کلچر کے کنفارمسٹ ہونے کے تاثر کو زائل کرنے میں سب سے اہم فیکٹر کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ سب کچھ بھی فیس بک اور گوگل سے الگ رہ کر ممکن بنایا گیا ہے ، پورے مواد پر سینسر اور کنٹرول لگائے جاتے ہیں اور ڈیٹا جمع کرنے، سٹور کرنے اور شئیر کرنے کے تمام طریقوں پر سخت نظر رکھی جاتی ہے۔ چین کے لیڈروں کو وہ انٹرنیٹ پسند ہے جو انہوں نے بنا رکھا ہے۔ اب وہ قوم کے ٹیلنٹ کو اور ٹیچیز کو ایک نئی سمت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں  اور وہ ہے، جدت پر مبنی معیشت  جس میں دنیا کی بہترین کمپنیوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ابھی کچھ عرصہ قبل چینی ٹیک فرمز کو سلی کون ویلی کی کاپی کرنے کی وجہ سے خاص شہرت حاصل تھی۔ لیکن اب انسپائریشن کا بہاو دونوں طرف چل رہا ہے۔ امریکی سوشل میڈیا ایگزیکٹوز  اپنے صارفین کو موبائل پر مصروف رکھنے کے لیے Tencent اور ByteDance  پر انحصار کر رہی ہیں۔ TenCent کی WeChat ایپ  جو کہ سوشلائزینگ کے لیے ہر طرح کے فنکشنز والی ہب کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں گیمز، بل پیمنٹ، ٹرین ٹکٹ کی بکنگ جیسی سہولیات نے  فیچر سے بھر پور چیٹ ایپس جو فیس بک اور ایپل نے تیار کی ہیں کاراستہ ہموار کیا ہے۔ فیس بک نے حال ہی میں ٹک ٹاک  جو کہ ایک چینی سروس  ہے سے ایک پیچ لیا ہے۔ ٹک ٹاک  مغربی سوشل میڈیا ایکسپرٹس کی توجہ کامرکزہے ۔فیس  بک نےاس ایپ جیسی ایک ایپ تیار کی ہےجس میں مختصرویڈیوزشئیرکی جاسکتی ہیں۔ اگر   ویسٹ کےلوگوں کویہ نظر نہیں آئی تو اس کیوجہ یہ تھی                   کہ انہوں نے چین کی اتھاریٹیرین ازم کو ٹیکنالوجی سے دشمنی سمجھ لیا۔

لیکن کچھ معاملات میں چینی ٹیک کمپنیاں امریکی کمپنیوں کے مقابلے میں کم آزاد ہیں۔ چین میں ایک ہی اصول ہے اور وہ بہت سادہ  ہے: ریاست کو کمزور مت کرو۔

اس لیے  ویبو اور بیدو جیسی بڑی کمپنیاں  سینسرشپ آرڈرز پر بھر پور عمل کرتی ہیں۔ ان چاہے عقائد اور نظریات کو دبائے رکھنا پڑتا ہے۔  اس کے علاوہ سب کچھ کرنے کی اجازت ہے۔ سٹارٹ اپس شاندار سپیڈ کے ساتھ بڑے سکیل تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں لیکن کبھی کبھار یہ بہت برے طریقے سے کریش بھی کر جاتے ہیں۔  کمزور انٹلیکچول پراپرٹی پروٹیکشنز کی وجہ سے کمپنیاں ایک دوسرے کو بار ہا نیچا دکھا سکتی ہیں ۔ یہ چیز کمپنیوں کے لیے نقصان دہ ہے لیکن صارفین کے لیے بہتر ہے کیونکہ ان کے لیے چوائس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اور اس طرح رقم آتی ہی جاتی ہے۔ ایک اور فائدہ مند چیز یہ ہے کہ پرانی سکول انڈسٹری جن میں میڈیا، فائنانس اور ھیلتھ کئیر شامل ہیں، ان سب پر حکومت کا کنٹرول رہا ہے۔ اس وجہ سے علی بابا اور ٹین سینٹ جیسی انٹرنیٹ چمپئین  کمپنیوں کو بزنس کرنے میں آسانی رہی ہے۔

اپنے موبائل پے منٹ پلیٹ فارم سے دونوں بڑی کمپنیوں نے شاندار ایکو سسٹم تیار کیا ہے جس میں بہت سی کمرشل ایکٹویٹیز کی سہولت دستیاب ہے۔ عام زندگی میں کوئی چیز ایسی نہیں بچی جس میں جدت نہ آئی ہو۔ شاپنگ ہو یا قرض کا حصول، کرایہ پر بائیک لینے کا معاملہ ہو، یا ڈاکٹر سے رابطہ کی ضرورت، ہر معاملہ میں ٹیکنالوجی بہت ضروری ہوچکی ہے۔چین کےلیڈرزنے اس اہم تبدیلی کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل کبھی کمیونسٹ دور میں عوام کی زندگیوں پر اس قدر اثر انداز ہونے کا عمل نہیں دیکھا گیا۔

ٹیکنالوجی کےشعبہ کو اس کی جگہ دینے کے لیے حکومت  نے کمپنیوں نے مینیجمنٹ پر اثر رو سوخ  اور کردار کا حکم جاری کردیاہے۔ ریگولیٹرز نے ایسے آن لائن پلیٹ فارمز  کو غیر ضروری اور نا قابل قبول موادکوہوسٹ کرنےسےسختی سےمنع کیا ہے۔  اسی وجہ سے چین میں ٹیک کمپنیوںکوچین میں ترقی کے لیے حکومت کوخوش رکھنا پڑتاہے۔چین میں تقریبا ہرشخصWeChatاستعمال کرتا ہے  جس سے حکا م کو لوگوں پر بھر پور نظر رکھنے کا موقع ملتا ہے۔   SenseTime جس میں چہرہ پہچاننے کی خاصیت شامل ہے  لوگوں کو ویڈیو ایپس کو فلٹر کرنے  اور قانون ساز ایجنسیوں کو سافٹ وئیر فروخت کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ ان کمپنیوں کے لیے رسک یہ ہے کہ حکومت ان سے زیادہ  مطالبات کر رہی ہے اور ان کے ذرائع پر قبضہ کر کے انہیں جدت اور نئی مارکیٹ تک رسائی سے روک رہی ہے۔

لانس نوبل جو گاویکل ڈریگونومکس نامی ریسرچ فرم سے تعلق رکھتے ہیں کا کہنا ہے کہ چین میں حکومت کی سپورٹ ایک نعمت بھی ہوسکتی ہے اور ایک زحمت بھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *