اب اس ملک میں حق ما نگنا عیاشی ہے

ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں نہ ذمہ داری ہے نہ یقین دہانی اور نہ ہی احتساب۔ اگر آپ طاقتور طبقہ کے ساتھی نہیں ہیں اور ریاست اور طاقتور طبقہ کے مخالف نظریہ رکھتے ہیں تو آپ ہر وقت خطرے میں ہیں۔

آپ جتنا زیادہ انسانی حقوق کا نظریہ اپنائیں گے اور ریاست کو ان حقوق کا ذمہ دار قرار دیں گے،  اتنا ہی زیادہ آپ کو ریاست کی طرف سے مزاحمت کا سامنا رہے گا۔ یعنی آپ یا تو ریاست کے ساتھی کہلائیں گے یا ریاست کے دشمن کے ساتھی۔ پاکستان میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی شہری کو ریاست کی زیادتیوں کی نشاندھی کی اجازت ہو۔ ایس پی طاہر داوڑ کیس میں بھی ہمارے پاس وہی چوائس ہے جو سلیم شہزاد، اسامہ بن لادن یا لا پتہ افراد کے معاملے میں ہے۔ وہ ہے خاموشی یا  نا اہلی ۔ محفوظ راستہ نا اہلی کے ساتھ کھڑا ہونے میں ہے۔ اگر آپ اختلاف کریں گے  تو پھر بعد میں شکایات مت کیجیے گا۔ نا اہلی کی آپشن کے ساتھ بھی بہترین راستہ یہ ہے کہ الزام کو مبہم رکھا جائے یعنی مختلف ذرائع پر الزام لگایا جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی پر بھی الزام نہ لگایا جائے۔ یا پھر آپ  پولیس پر سارا الزام دھر دیں اور کہہ دیں کہ پولیس مکمل طور پر نا اہل ہے اور عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ اس کے علاوہ آپ کسی پر الزام نہیں لگا سکتے۔ ہم کبھی یہ جان نہیں پائیں گے کہ اصل میں طاہر داوڑ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ آپ کو جو پہلے سے ہی معلوم ہے اسی پر انحصار کررتے ہوئے  آپ کو اپنے جبلتوں پر ہی بھروسہ کرنا ہو گا۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی ایم شیطان  کی ساتھی ہے اور دشمن کی ایما پر  پاکستان میں فساد پھیلا رہی ہے  وہ اس طرح کے دعوے کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسا کہنے پر ابھارتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست  امن مخالف قوتوں سے نمٹنا نہیں چاہتی اورقومی مفاد کے نکتہ کو نیشنل سکیورٹی کی باتوں کو ایک بہانہ قرار دیتے ہیں ان کو لگتا ہے کہ ریاست  مجرموں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ لیکن کسی بھی طرف سے نہ تو ثبوت ملتے ہیں اور نہ حقائق سامنے لائے جاتے ہیں۔

ہماری خواہش ہے کہ ہم ایسا کہنے میں غلط ہوں۔ لیکن اس طرح کی بات کرنے کے لیے ہمیں ہمارے ماضی  سے بہت سے قرائن نظر آ تے ہیں۔ سلیم شہزاد کے قتل کیس کو ہی لے لیجئے۔ مسئلہ کی تفتیش کرنے کے لیے ہائی پروفائل کمیشن ترتیب دیا گیا تھا جس کا کام تفتیش کے بعد سفارشات پیش کرنا تھا۔ جسٹس ثاقب نثار کمیشن رپورٹ  کا جائزہ لیتے ہیں  جس میں سلیم شہزاد کے قتل کا الزام کسی پر نہیں لگایا گیا۔ لیکن ریاست کو بھی  کھلی چھٹی نہیں دی گئی۔ میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سلیم کا کام ایسا تھا جس سے پاکستان میں کوئی بھی پارٹی مثلا کوئی سیاسی پارٹی، ریاست، القاعدہ، طالبان یا غیر ملکی قوتیں ناراض ہو سکتی تھیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے:

ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلقہ کسی گروپ نے سلیم شہزاد کے خلاف سازش کی ۔ انہیں خود بھی اس چیز کا ڈر تھا اور ان کے ساتھی صحافیوں کو بھی یہی شک تھا۔ لیکن شک  کا ثبوت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگرچہ بہت سی قوتوں پر الزام لگائے گئے ہیں لیکن اس کیس میں جو ثبوت موجود ہیں  وہ ہمیں اس قابل نہیں بناتے کہ ہم قاتلوں کا صحیح تعین کر سکیں  اور ان کے خلاف ان کا جرم ثابت کر سکیں۔ یہ بہت بد قسمتی کی بات ہو گی کہ ریاست خود  شکاری بن جائے اور ان شہریوں کو شکار کرنے لگے جن کو آزادی اور جان کے تحفظ کا حق دینا ریاست کی اپنی ذمہ داری ہے۔

ایس پی داوڑ پر پہلے بھی حملے ہو چکے تھے۔ اپنے ملک میں قائم ہوئے دہشت گردی کے نیٹ ورکس نے ہی ان کو ٹارگٹ کیا ہو گا۔ وہ افغان طالبان یا داعش کی ہٹ لسٹ پر بھی ہو سکتے تھے۔ انہیں دشمن کی ایجنیسوں نے ٹارگٹ کیا ہو یہ بھی ممکن ہے۔ یا پھر شاید وہ ملک کی خاطر قربان ہو گئے ہوں۔ لیکن جو چیز سب سے زیادہ یقین سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شہری کی زندگی کے تحفظ کی ذمہ داری ، اسے اغوا سے بچانے ، بارڈر پار لیجانے سے بچانے  اور قاتلوں کا سراغ لگانے کی ذمہ  داری  صرف ریاست کی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار کی رپورٹ میں بہت چالاکی سے  صورتحال کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: ہمارے ملک میں اس طرح کے واقعات کا تسلسل سے پیش آنے کی بنیادی وجہ ہمارا قاتلوں تک نہ پہنچ سکنا اور انہیں قرار واقعی سزا نہ دے سکنا  ہے ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی بھی واقعہ مستقبل میں پیش آتا ہے تو  ہم مجرموں کو پکڑے کے قابل ہو سکیں ۔ یہ تبھی ممکن ہو گا جب تو  متضاد مسائل کے بیچ توازن پیدا کیا جا سکے گا۔ ایک طرف خفیہ طریقے سے معلومات کے حصول کو ممکن بنانا ہو گا اور دوسری طرف  ا نٹیلی جنس، کمیونٹی کے احتساب اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔

عام طور پر یہ مسئلہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو گورن کرنے کے لیے ایک بہترین لیگل فریم ورک کی عدم موجودگی ہے ۔ ساتھ ہی ایجنسیوں کے آپریشنز کی ڈاکیومنٹیشن کی عدم موجوددگی بھی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ اگر ایجنسیاں احتساب کے ڈر کے بغیر آپریشن کریں گی اور قانون کے مطابق نہین چلیں گی تو انہیں عوام کےک اعتماد سے محرومی کا خطرہ درپیش ہو گا جو ان کے لیےسب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا سٹریٹجک اثاثہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے: خفیہ معلومات کے حصول میں سیکریسی اور احتساب کے بیچ توازن  کو یقینی بنانا ہو گا  تا کہ اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے ۔ زیادہ اہمیت  والی ایجنسیا ں جیسا کہ آئی ایس آئی اور آئی بی  کو قانون کا زیادہ پابند بنایا جانا چاہیے۔ ان کے کردار اور مینڈیٹ کے تعین کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے اور تمام ایجنسیوں کو تین سطوحات پر یعنی ایجنسی کی اپنی سطح پر، پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے اورعدالتی فورم کے ذریعے احتساب کا پابند بنایا جائے۔

اس رپورٹے کے تجزیہ اور حکمت سے کون اختلاف کر سکتا ہے؟ لیکن اب تک جو ہو ا وہ کچھ یوں ہے۔ جنوری 2012 میں آنے والی ایک رپورٹ  سے ہمت لیتے ہوئے سینٹر فرحت اللہ بابر نے آئی ایس آئی بل پارلیمنٹ میں جولائی 2012 میں متعارف کروایا۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں اس بل کو نکال باہر پھینکا گیا۔ سینیٹر فرحت اللہ سختی سے سکیورٹی معاملات پر پارلیمنٹ  اور سویلین قیادت کی نگرانی کی حمایت کرتے رہے۔ ان کے اس جذباتی  موقف کی وجہ سے انہیں اہم پارلیمانی کمیٹی کی رکنیت سے محروم ہونا پڑا اور پھر و سینیٹ کی سیٹ بھی کھو بیٹھے۔  عدلیہ اور سکیورٹی جیسے معاملات پر پارلیمانی نگرانی کی تجویز میں کوئی بہتری نہ آئی۔ افتخار محمد چوہدری کے دور میں  لا پتہ افراد کے بارے میں کچھ نہ کچھ سننے کو ملا کرتا تھا۔  اب تو اس کا نام لینا بھی گستاخی شمار کیا جاتا ہے۔

 اب معاملہ دوسرا رخ پکڑ چکا ہے۔ ایسے معاملات میں اب کسی سو موٹو کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اے پی ایس واقع کے بعد سکیورٹی کی کمزوریوں  پر عدلیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ پارلیمنٹ نے 21ویں ترمیم پاس کر کے فوجی عدالتوں کے قیام کا راستہ ہموار کیا اور عدلیہ نے موقف اختیار کیا کہ  فوجی عدالتیں  آئینی عدالتوں سے الگ ہو کر کسی قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہوئیں۔

سکیورٹی معاملات پر انتظامیہ کی نگرانی کے معاملہ میں  کچھ نہ ہی بولیں تو اچھا ہے۔ اس ماحول میں یہ تجویز کہ ایک ویزر نیشنل سکیورٹی سے متعلق امور پر معمور ایجنسیوں پر نگرانی کرے، نہ صرف احمقانہ بلکہ خطرناک تصور کی جاتی ہے، خاص طور پر اس وزیر کے لیے جو ایسی تجویز کے معاملہ میں سنجیدہ ہو۔ لیکن ناقدین کے لیے سب سے محفوظ راستہ ایسے کسی بھی وزیر کے استعفی کے مطالبہ میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

ہم ایک ایسی ریاست میں رہتے ہیں جہاں نیشنل سکیورٹی، اور شہریوں کے زندگی اور آزادی کے حقوق دو مختلف چیزیں ہیں۔ نیشنل سکیورٹی کا تعلق پاکستان کی سکیورٹی، سیاسی طبقہ کے تحفظ  سے ہے جس کی قیمت عوام کا عدم تحفظ ہے۔ جتنا جلدی ہم یہ سمجھ لیں گے  اتنا ہی جلد ہم اپنے ذہن کا سکون پا لیں گے۔ باڈی پولیٹکس کو بچانے کے لیے بہت سے کولیٹرل ڈیمیج کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں ایس پی داوڑ، سلیم شہزاد، اور نقیب اللہ محسود جیسے لوگوں کو قربان کیا جاتا ہے۔ بغیر چوں چراں کیے اس طرح کے نقصانات برداشت کرنا ہی ہمارے ہاں حب الوطنی کی تعریف مانا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *