سر! 30 منٹ میں آپ کا موٹاپا پگھلانے والی حیرت انگیز مشین آ گئی

" کرس رووزار "

ڈاکٹر ریان نین سٹین  جو اپر ایسٹ سائیڈ آف من ہٹن سے تعلق رکھنے والے لائسنس یافتہ پلاسٹک سرجن ہیں کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ اس مشین کو  Roids without the Rage کا نام دیتے ہیں۔ وہ اس نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو ان کے مریضوں کی کمر اور gluteal muscles  کو ایک ہی سیشن میں تمام طرح کی درد سے نجات دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں : ہم اسےathletic meets aesthetic کہہ کر بلاتے ہیں۔   ایف ڈی اے کی طرف سے منظور شدہ ای ایم سکلپٹ مشین  جسم کے اندر شدت سے بھر پور الیکٹرومیگنیٹک شعائیں داخل کرتی ہے جس سے  مخصوص ایریاز میں اعصاب میں شدیداکڑ پیدا ہوتی ہے۔ یہ اکڑ کچھ دیر کے لیے تکلیف دہ بھی ہو سکتی ہے لیکن اس میں درد نہیں ہوتا  اور اس کے بعد جگہ سوجھتی بھی نہیں ہے۔

ٹی وی پر دکھائی جانے والی  e-stimاور رات گئے استعمال کیے جانے والے سٹیپلز کے مقابلے میں اس مشین کے ا ستعمال سے  ڈاکٹر نین سٹین کے مطابق مریض صرف 2 ہفتے میں بہتر نتائج دیکھ سکتے ہیں  ۔ 22 لوگوں کے اس مشین کے استعمال کے تجربہ کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس دورانیہ میں مریضوں کے جسم میں موجود چربی میں 20 فیصد تک کمی آئی  اور پیٹ اورbuttsکے پٹھوں کی مضبوطی میں 15 فیصد تک بہتری آئی۔

اگرچہ اس ڈیوائس کی جسم کے دوسرے حصوں پر استعمال کی منظوری نہیں دی گئی  لیکن جب بات ورزش کی ہو تو یہ تیر کی نوک کی حیثیت رکھتی ہے۔سیٹل کے گلو میڈسپا  اور پورٹس ماوتھ کے اے ڈبلیو پلاسٹک کلینک کے ڈاکٹرز  کے پاس اس علاج کی بہت ڈیمانڈ ہے۔ اے ڈبلیو کلینک کے ایک سرٹیفائیڈ پلاسٹک سرجن اینتھونی ولسن کہتے ہیں: لوگ اس مشین کے استعمال سے بہت بہتری محسوس کر رہے ہیں۔ خاص طور پر buttocks میں وہ ایک شاندار بلندی محسوس کرتے ہیں ۔ کمر میں بھی وہ کافی بہتری (six pack) محسوس کرتے ہیں۔

اس کا طریقہ کار بہت مہنگا ہے۔ نین سٹین کے پاس چار بار جانے کا ٹوٹل خرچ 3000 ڈالر ہے۔ آپ اپنے جسم کے پچھلے حصے اور مرکز میں صرف دو ہفتے کی مشق کے بعد ایک سال کے فوائید محسوس کر سکتے ہیں۔ لیکن  ہم کسی صورت اس مشین کو حقیقی جسمانی ورزش کا متبادل قرار نہیں دے سکتے۔ یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو زندگی میں بہت مصروف ہیں  جس کی وجہ ان کی نوکری، فیملی اور کمٹمنٹ ہے۔ ایسے لوگ اچھا کھانا کھاتے ہیں  اور  باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں  لیکن ہر شخص الگے لیول تک نہیں پہنچ سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *