ورکنگ مدر کے نومولود بچے اور ان کی ترجیحات

"ساجدہ فرحین فرحی "
اپنے نومولود اور معصوم بچے کو خود سے الگ کرنے کا تصور ہی کسی ماں کو بے قرار کر دیتا ہے کبھی اپنے کیریئر کی ترقی کے لئے کبھی معاشی مسائل
کی خاطر اور کبھی معیار زندگی کو بہتر بنانے کی تگ و دو ایک ماں کو اپنی اولاد چھوڑ کر گھر سے باہر جانے پر مجبور کرتی ہے معاشی ذمہ داری کے فرائض اللہ نے مرد پر عائد کیے ہیں اسی لیے اسے میاں بیوی کے رشتے قوام قرار دیا گیا
لوگ نوکری کرنے والی بیوی یابہو کا انتخاب اس لیے بھی کرتے ہی کہ ان کے بیٹے یا بھائی کی کماٸی ان پر ہی خرچ ہوتی رہے اور آنے والی انہیں کھانا بھی پکا کر کھلائے اور اپنی کمائی بھی کمانے والی عورت اپنے شوہر پر بوجھ نہیں بنتی بلکہ اس کے کندھوں پر لدھے بوجھ کو کم کرنے میں اس کا بازو بنتی ہے کچھ احسان مند مرد عورت کی اس قربانی کو تسلیم بھی کرتے ہیں اورکچھ بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیتے ہیں تو کیا ہوا اگر اپنی کمائی گھر اور بچوں پر خرچ کرتی ہو یہ تمہارے بھی تو بچے ہیں صبح مغربی عورت کی طرح کمانے جاؤ اور رات کو مشرقی عورت کی طرح مزاجی خدا کی خدمت بجا لاؤ مگر کچھ شوہر اپنی انتھک محنت کرنے والی بیوی کی اخلاقی اور معاشرتی طور پر دل سے قدر کرتے ہیں
بچوں کو سنبھالنے اور گھر کے کاموں میں بیوی کا ویسا ہی ساتھ دیتے ہیں جیسا وہ معاشی ذمہ داری اٹھانے میں اس کا ساتھ دے رہی ہوتی ہے بچوں کے بعد نوکری جاری نہ رکھنے والی زیادہ تر خواتین وہی ہوتی ہیں جن کے شوہر اور اہل خانہ بچے سنبھالنے میں ان کی مدد نہیں کرتے نوکری کرنے والی ماں کو اگر زندگی اس مقام پر لا کھڑا کرے جہاں نوکری یا اپنی اولاد کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑے ماں یقینا اپنی اولاد کا انتخاب کرتی ہے اگر آپ اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور کام کرنے کا تجربہ بھی رکھتی ہیں تو چند سالوں کا بریک آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے کریئر کو زیادہ متاثر نہیں کرے گا مگر آپ کے بچے کا یہ بچپن پھر لوٹ کر نہیں آئے گا اسے آپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھنا ہے آپ کے لفظوں کو سن کر بولنا شروع کرنا ہے آپ کی گود کی گرمائش چاہیےگھر میں آپ کے وجود کے سائے کی گھنی چھاؤں کی ٹھنڈک درکار ہے جہاں اس ننھی کونپل کو مضبوط اور تناور بننے کے لئے پل پل کی دیکھ بھال چاہیے
جو مائیں اپنے کیریئر کی ترقی معاشی مجبوری اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے خاطر نوکری جاری رکھتی ہیں ان کے پاس بچے کی دیکھ بھال کے کچھ ذرائع موجود ہوتے ہیں جو سب کے لئے مختلف ہیں سب سے قابل بھروسہ بچے کو نانی یا دادی کے پاس چھوڑ نا سمجھا جاتا ہے مگر آپ کے اچھلتے کودتے بچے کو نانی دادی کے ضعیف سہارے کی نہیں بلکہ آپ کے مضبوط ہاتھوں کی ضرورت ہے جو گرتے بچے کو سنبھال سکے ڈگمگاتی قدموں کو مضبوطی سے تھام سکے اسے گود میں اٹھا کر گھوما سکے بھاگتے بچے کے پیچھے دوڑ لگا سکے
اور جن کا کوئی قریبی رشتہ بچے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہ ہو ایسی ماؤں کو اپنے جگر گوشے ماسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا پڑتے ہیں یا پھر ڈے کیئر سینٹر آخری حل قرار پاتے ہیں جس معاشرے میں ڈے کیٸر سینٹرز کی تعداد میں اضافہ ہونے لگے مائیں اپنے بچوں کو روزگار کے حصول کے خاطر خود سے دور کرنے پر راضی ہوجائیں پھر آنے والے وقتوں میں ایسے معاشروں میں اولڈ ہاؤسز کے رجحان کے فروغ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں
وجیہہ جاوید ویکلی میگ کی ایگزیکٹیو چیف ایڈیٹر رہ چکی ہیں مختلف ٹی وی چینلز اور ویب سائٹ پہ کام کر چکی ہیں آج کل فل ٹائم مدر اور پارٹ ٹائم بلاگر ہیں وجیہہ کو نوکری چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کیونکہ انھیں کوئی ایسا قابل بھروسا فرد نہیں لگا جس پر وہ اپنے بچے کو چند گھنٹوں کے لئے ہی سہی اس کے حوالے کر سکیں وجیہہ کہتی ہیں لوگ یا رشتے دار اب دستیاب نہیں ہوتے ان کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں اور اپنی زندگی ہوتی ہے اور سب سے اہم بات ہے ایک ماں کی حیثیت سے آپ کو کبھی کوئی قابل بھروسہ نہیں لگ سکتا کیونکہ آپ کو لگتا ہے جس طرح آپ اپنے بچے کی پرورش کر رہی ہیں اس کے کھانے پینے کا خیال رکھتی ہیں اس کے اٹھنے بیٹھنے کی دیکھ بھال کرتی ہیں شاید ہی کوئی اس طرح کر سکے اور ایک ماں کا دل کبھی مطمئن نہیں ہوتا خاص طور کر ملازمين  پر اپنی سب سے قیمتی چیز اپنی اولاد ان کے حوالے نہیں کر سکتے میرے دل نے کبھی مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دی معیار زندگی کی سہولیات میں کمی بیشی قابل قبول ہو سکتی ہے مگر اپنے بچے کو پالنے اور اس کا خیال رکھنے کا کام خود کرنا چاہیے اپنے بچے کے پیار اور توجہ کی کمی مجھے قابل قبول نہ تھی پیسے کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے معاشی تنگی بھی برداشت ہو جاتی ہے اپنے بچے کی محبت پر کوٸی سمجھوتا نہیں اگر ابھی توجہ میں کمی واقع ہوگی تو پوری زندگی اس کا ازالہ نہ ہو پائے گا میری لاپرواہی سے اگر میرے بچے کو کوئی تکلیف پہنچی تو ذمہ دار میں ہونگی اپنے بچے کی حفاظت اس کی دیکھ بھال کے متعلق اللہ کو بھی جواب دے  ھوں ‏نوکری چھوڑنے کے بعد کٸی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لوگوں کے رویوں میں بہت فرق آ جاتا ہے جب آپ کی جیب خالی ہوتی ہے یہ بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے درحقیقت اللہ آپ کو لوگوں کی اصلیت سے آگاہ کرتا ہے کون آپ کے ساتھ کتنا مخلص ہے اور کس کو آپ سے دلچسپی ہے اور کس کو آپ کے عہدے اور روپے پیسے سے وہ لڑکی جو اتنے عرصے معاشی طور پر خود مختار رہی ہو اس کو اپنی اولاد کی خاطر اپنی ضروریات کو محدود کرکے صرف اپنی اولاد کو ترجیح دینی ہوتی ہے آج کل مارکیٹ میں مقابلے کا رجحان زیادہ ہے نوکری چھوڑکر لگتا ہے کیا دوبارہ اس پوزیشن پر آنا ممکن ہوگا کیا دوبارہ اچھی نوکری مل پائے گی کیا کرٸیر کا سفر پیچھے سے تو شروع نہیں کرنا پڑے گا یہ سب سوچ کے لگتا تھا کبھی نوکری نہیں چھوڑ پاؤں گی اتنے سالوں کی محنت ضائع ہوجائے گی مگر جب میں اپنے بچے کے ساتھ کھیل رہی ہوتی ہوں وہ میرے پہلو میں اطمينان  و سکون سے سورہا ہوتا ہے  تو میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میری ضرورتیں اتنی سخت نہیں تھی کہ میں نوکری نہ چھوڑ پاتی بہت سی مائیں ایسی ہیں جو نوکری چھوڑ کر اپنے بچوں کی تربیت کرنا چاہتی ہیں لیکن انہیں مجبوری میں نوکری کرنا پڑتی ہے اور ان کے بچے اگنور ہوتے ہیں اللہ کا شکر ہے میں اپنے نومولود بچے کے ساتھ اس کا بچپن انجوائے کر رہی ہوں اور بہت خوش ہوں
ثناء اعجاز ریسرچ کنسلٹنٹ  ہیں فری لانس کام کرتی ہیں بچوں سے پہلے آفس کی نو سے پانچ  جاب کرتی تھیں ثنا ٹی وی اور ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کر چکی ہیں اب بچوں کی وجہ سے فری لانس کام کرنے کا انتخاب کیا ثنا کچھ گھنٹوں کے لیے آفس بھی جاتی ہیں اور کام کے سلسلے میں اندرون ملک اور بیرون ملک سفر بھی کرتی ہیں مگر انہوں نے اپنے بچوں کو اس کے لئے ذہنی طور پر تیار کر رکھا ہے ثنا کے بچے ان کی غیر موجودگی میں ان کی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں جن سے وہ بہت مانوس ہیں ثنا کا کہنا ہے جب پہلی دفعہ بچوں کو چھوڑ کر گئی تو دل میں کچھ گیلٹ تھا خود سے سوالات بھی کیے مجھے اتنی ضرورت نہیں ہے جاب کی کیا مجھے جانا چاہیے یا نہیں ایک جانب کیریئر ہے اور ایک جانب اولاد پھر یہ بھی سوچا بچے تو وقت کے ساتھ بڑے ہو جائیں گے کیا پھر مجھے دوبارہ نوکری کے اتنے اچھے  مواقعے میسر آسکیں گے جو ابھی ہیں میرا کیریئر دوسروں سے پیچھے رہ جائے گا اتنے سالوں کی محنت پر پانی پھر جائے گا نوکری معیار زندگی بہتر کرنے کے خاطر کر رہی ہوں اور اپنے شوہر مدد بھی کرتی ہوں جب میاں بیوی مل کر کام کرتے  ہیں تو اس کا فائدہ آپ کے بچوں کو ہی ہوتا ہے اور الحمدللہ میرے شوہر مجھے سپورٹ کرتے ہیں بچوں کو سنبھالنے میں اور گھر کے کاموں میں اور میری قدر کرتے ہیں اوروں کی طرح مجھے یہ سننے کو نہیں ملتا تم کو کس نے کہا ہے کہ  جاب کرو ثنا کا کہنا ہے ورکنگ مدرز جاب اس لئے نہیں چھوڑتی کہ وہ ماں بن گئی ہیں بلکہ اس لئے چھوڑتی ہیں کہ ان کے شوہر اور گھر والے سپورٹ نہیں کرتے میں اس معاملے میں خوش نصیب ہوں کہ میرے گھر والے سپورٹ کرتے ہیں میری غیر موجودگی میں میرے بچے امی کے پاس ہوتے ہیں اور مجھے اطمینان ہوتا ہے شروع میں جب بچوں سے دور ہوتی تھی تو بار بار فون کر کے پوچھتی رہتی تھی تھے آہستہ آہستہ دل کو قرار آ جاتا ہے میری غیر موجودگی میں بیٹا ایک دفعہ واش روم میں گر گیا تھا اس کے سر پر 3 سے 4 ٹاکے بھی آئے تھے مجھے بہت دکھ ہوا اور اسی گیلٹ میں میں ایک مہینے تک کوئی کام نہیں کر پائی لیکن پھر میں نے سوچا بچے ماؤں کے سامنے بھی تو گرتے ہیں بچوں کو چوٹیں لگتی رہتی ہیں بچوں کا کام ہی شرارتیں کرنا ہے ورکنگ مدرز کو مشورہ ہے اگر زیادہ ضرورت نہ ہو تو  جاب نہ کریں لونگ بریک لے لیں بچوں کے اسکول جانے تک آج کل کے دور میں کمیونیکیشن سسٹم بہت ایڈوانس ہو گیا ہے گھر بیٹھے بھی کام کیا جاسکتا ہے میں اکثر گھر پر ہیں ٹیلیتھون سے اپنے کلاٸنٹ سے میٹنگ کر لیتی ہوں ٹرانسپورٹیشن بھی آسان ہو گئی ہے
انیبا ضمیر شاہ رپورٹر جیونیوز انیبا کا کہنا ہے شروع میں بہت پریشان تھی بیٹی کو اپنے ساتھ آفس لیکر آتی تھی بےبی سیٹر کے ساتھ گھر پر اکیلے چھوڑنے کو دل مطمئن نہیں تھا اس کے بعد بہن کے گھر چھوڑنا شروع کیا جب میری بہن مطمئن ہو گٸ پھر گھر پر چھوڑنا شروع کر دیا مگر دل بلکل بھی مطمئن  نہیں ہوتا تھا بار بار فون کرکے پوچھتی رہتی تھی بیٹی اب تین سال کی ہے مگر ابھی بھی فکر لگی رہتی ہے اس نے گھر پر کھانا کھایا ہوگا یا نہیں کیا کر رہی ہو گی فون کرکے اس کی خیریت پوچھتی رہتی ہوں میری غیر موجودگی میں دو دفعہ بچی کے ساتھ حادثہ ہو چکا ہے ایک دفعہ شیشے کی میز پر چڑھ گئی تھی مگر زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی دوسری بار 52 انچ کی ٹی وی سکرین کو وائپر سے توڑ دیا تھا اللہ نے بچا لیا اور جب میں نے بےبی سیٹر سے پوچھا یہ کیسے ہوا  تو وہ کہنے لگی بچی وائپر سے کھیل رہی تھی یہ سن کر مجھے بہت حیرت ہوئی اس نے بچی کو  کھلینے کے لے واٸپردیا ہوا تھا انیبا کیرئیر کی وجہ سے  جاب کر رہی ہیں ان کا کہنا ہے جب تعلیم حاصل کی ہے ٹیلنٹ بھی ہے اللہ نے شعور سے بھی نوازا ہے جاب بھی کرنی چاہیے میں لوگوں کو آویرنسس دے رہی ہوں مجھے اچھا لگتا ہے کسی مقام پر ہوں میرے شوہر بیٹی کا بہت خیال رکھتے ہیں بچی کو سنبھالتے ہیں بلکہ مجھ سے زیادہ بیٹی ان سے قریب ہے جب تھکی ہوئی ہوتی ہوں تو شوہر باہر سے کھانا لے آتے ہیں جب بیٹی کو چھوڑ کرجاتی ہوں ناراض نہیں ہوتی البتہ ان سکیور محسوس کرتی ہے اگر تھوڑی دیر کے لئے اس کی نظروں سے دور ہو جاؤں تو اس کو لگتا ہے مما نکل نہ جاۓ آفس سے واپسی پر گلے لگتی ہے بہت پیار کرتی ہے ورکنگ مدرز کو جاب اور فیملی کے ساتھ توازن  سے چلنا ہوتا ہے جاب بھی اہم ہیں فیملی بھی مگر زیادہ ترجیح فیملی کو دینی چاہیے جو وقت بچوں کے ساتھ گزارے ہیں وہ انکا ہونا چاہیے آفس کے مسائل گھر پر نہ لائیں گھر پر وقت گھر والوں کو دینا چاہیے وقت کے ساتھ ورکنگ مدرز کے مسائل میں کمی نہیں آئی کیونکہ ماں چاہے وہ آج کی ہو یا دس سال پہلے کی ماں تو ماں ہے اسکا بچہ اسکی نظروں سے دور ہوگا تو اسکا دل بے قرار رہے گا البتہ وسائل میں اضافہ ہوا ہے سیکیورٹی اور رابطے کے ذرائع میں ترقی آئی ہے آپ کیمرہ انسٹال کرکے اپنے بچے کی گھر سے دور بھی نگرانی کر سکتے ہیں
ثنا عاصم بینکر ہیں اور کہتی ہیں جاب اپنا آ نے والا وقت اچھا بنانے کے لئے اور اپنے شوہر کاساتھ دینے کے لئے کر رہی ہوں تاکہ اپنے بچے کا مستقبل سنوار سکوں جب پہلی دفعہ بچے کو چھوڑ کر آفس گٸ تو ہر دس پندرہ منٹ بعد فون کرکے اس کی خیریت پوچھتی تھی کبھی رونا بھی آجاتا تھا بچے کو یاد کر کے میری امی بیٹے کا خیال رکھتی ہیں اللہ کا شکر ہے کوئی حادثہ نہیں ہوا امی کے پاس محفوظ ہاتھوں میں ہے اب کوئی فکر نہیں ہوتی میرے شوہر بھی پورا ساتھ دیتے ہیں گھر کے کاموں میں بچے کو سنبھالنے میں جب وہ چھوٹا تھا ڈاٸپر بھی تبدیل کردیتے تھے دودھ بھی بنا کر دیتے ہیں کپڑے بھی ساتھ دھولواتے ہیں میں جب آفس سے گھر آتی ہوں بچے کیلئے اس کی فرمائش کی چیزیں لاتی ہوں تو وہ ناراض نہیں ہوتا ثناء عاصم کا کہنا ہے اگر عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو اپنے گھر اور بچوں کے لئے ہی نکلتی ہے جدوجہد کرنا تو عورت کا کام ہے وہ ہاؤس وائف ہو یا ورکنگ مدر توازن کے ساتھ زندگی گزاری جا سکتی ہے
شفق گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں ان کا کہنا ہے بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑا ایک معصوم سی جان کو گھر چھوڑ کر آنا آسان نہ تھا کوئی حادثہ تو نہیں ہوا البتہ میرا بچہ رو رو کر اپنی سانس کھینچ لیتا تھا کبھی تو دو تین بار ایسا ہوا تو فورا آف کر کے گھر جانا پڑا شفق معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے جاب کر رہی ہیں کہتی ہیں گورنمنٹ کی جاب ہے اگر پرائیویٹ ہوتی تو جاب چھوڑ کر اپنے بچے کو پالنے کو ترجیح دیتی ان کے شوہر بچے کو سنبھالنے میں مدد کرتے ہیں گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتے ہیں شفق کا کہنا ہے اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو اپنے بچے کے ساتھ وقت گزارنے کا الگ ہی مزا ہے جب بچے اسکول جانے کے قابل ہو جائیں تو نوکری کرنا آسان ہو جاتا ہے چھوٹے بچے کو  ماں کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے کام کے دوران بھی دماغ میں بچے کا خیال رہتا ہے گھر آتے ہیں بھاگ کر میرے گلے سے لگ جاتا ہے ایک سال کا ہے ابھی اسے ناراض ہونا نہیں آتا
نازش وصی گورنمنٹ کالج کی استاد ہیں ان کی پرنسپل نے انہیں  بچےکالج لانے کی اجازت دی رکھی ہے یہ سب سے بڑی وجہ ہے انکی جاب کرنے کی مگر نازش کا کہنا ہے جاب کرنے والی ورکنگ مدرز اپنے اوپر ظلم کرتی ہیں راتوں کو جاگنا بچے سنبھالنا گھر کا کام کرنا اور صبح نوکری پر جانا یہ سب کر کے وہ وقت سے پہلے بوڑھی اور بیمار  ہوجاتی ہیں ان کا کہنا ہے میں تو نوکری کر رہی ہوں مگر اپنی بیٹی کو کبھی ورکنگ مدر بننے کا مشورہ نہیں دونگی
نورین عالم نے ایم بی اے کے بعد ایم فل کیا آج کل ایک سوفٹ وئیر کمپنی میں ایچ آر مینیجر ہیں نورین کا کہنا ہے بچی کو خود سے دور کرنا اس کو گھر پر چھوڑ کر آفس جانا بہت مشکل فیصلہ تھا بہت سے خدشات تھے وہ مجھے یاد کرے گی کیا  اس کی دیکھ بھال ٹھیک سے ہو پائے گی نانی اور دادی کی عمر کا تقاضا ہے کیا وہ بچی کو سنبھالنے سے تھک تو نہیں جائیں گی یہ سب ذہن میں تھا لیکن ایک مہینے کے بعد سب چیزیں اللہ کے حکم سے خود بخود ایڈجسٹ ہوتی گئی پھر مجھے کوٸی خدشہ نہیں رہا پھر نو مہینے کے بعد میں اپنی بچی کو اپنے ساتھ آفس لے کر آنا شروع ہو گئ میری کمپنی نے مجھے ڈے کیئر کی سہولت فراہم کی اس سہولت نے بہت سپورٹ کیا اگر مجھے کمپنی نے ڈے کیئر کی سہولت نہ دی ہوتی تو شاید میرے لئے  نوکری کاجاری رکھنا مشکل ہوتا ڈے کیئر کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ ہر وقت اپنے بچے کی نگرانی کرسکتے ہیں میں اپنے کمپوٹر پر دیکھ سکتی ہوں کہ میری بچی اس وقت کیاکر رہی ہے کھانا گھر سے بنا کر لے جاتی ہوں بےبی سیٹر بچی کو دیکھ لیتی ہے میں خود بھی جاکر دیکھتی رہتی ہوں میرا مشورہ ہے اگر اور بھی کمپنیاں یہ سہولت فراہم کریں تو ورکنگ مدرز جاب چھوڑنے کے بجائے جاب کرنے کو ترجیح دینگی
یہ خیالات تھے ان ماؤں کے جنکے بچے ابھی چھوٹے ہیں  کچھ ایسی ماؤں سے بھی ان کے  خیالات جاننے کی کوشش کی جو دس پندرہ سال سے ورکنگ مدرز ہیں ان کا کہنا تھا پہلے رشتے دار خوشی خوشی بچے سنبھال لیتے تھے بلکہ کچھ تو محلے والے بھی بچے سنبھالنے میں مدد کرتے تھے مگر آج سب اپنے اپنے کاموں میں مگن ہیں البتہ ورکنگ مدرز کے وساٸل میں اضافہ ہوا ہے مسلح افواج میں اعلیٰ عہدے پر فائز یاسمین کہتی ہیں میرے بچے جب چھوٹے تھے ہمیں ڈے کیئر سہولت میسر نہیں تھی جبکہ آجکل ساتھ کام کرنے والی آفیسرز بچوں کو اپنے  ساتھ لے کر آتی ہیں اور ڈے کیرٸر میں بچوں کا خیال رکھا جاتا ہے اگر آپکا بچہ آپکی نظروں کے سامنے ہوتا ہے توآپکو اطمينان رہتا ہےاور آپ اپنے کام پر پوری توجہ دیتے ہیں مجھے جب اپنے بچے کو خود سے الگ کرنا پڑا تو مجھے محسوس ہوا میرے جسم کا کوٸی حصہ میں گھر پر رکھ آٸی ہوں یہ معلوم ہوا اولاد کےلے جگر کا ٹکڑا  لفظ کیسے استعمال کیا جاتا ہے  ایک دفعہ اپنی آنکھوں کے سامنے ملازمہ کو تھپڑ مارتے دیکھا اسے نکال دیا  مگردل اور بھی غیرمطمئن ہوگیا کہ میرابچہ کس حال میں ہوگا جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں وہ وقت بہت مشکل سے گزرتا ہے مگر جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں خاص طور پربیٹے تو وہ خود ہی چاہتے ہیں اماں  آس پاس نظر نہ آۓ نہ انکو روکے ٹوکے۔
ڈاکٹر نوشابہ عدنان کا کہنا تھا بچوں کو بلکل اکیلا ملازموں پر ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے میرے شوہر بھی ڈاکٹر ہیں ہم کوئی ایک جاب پر جاتا تھا اور ایک بچوں کے ساتھ ہوتا ہم نے اس طرح اپنے بچوں کی پرورش کی مگر دل پھر بھی بچوں میں ہی اٹکا رہتا تھا ایک دن میرا بیٹا بیمار تھا جب موباٸل کا استعمال اتنا عام نہیں تھا ہسپتال میں مریضوں کو دیکھ رہی تھی جب ایک جاننے والی خاتون نے بچے کی خیریت پوچھی تو مجھے بے اختیار رونا آگیا میرا بچہ میرے بغیر گھر پر تھا مگر ایک ڈاکٹر کے لیے اپنا پیشہ بھی اتنا ہی مقدس ہے جتنی مقدم اپنی اولاد دونوں ہی کو ساتھ لے کر چلتی رہی میری بیٹی جب نرسری میں پڑھتی تھی اس کی بہت خواہش ہوتی تھی کہ سب بچوں کی طرح اس کو اسکول چھوڑنے جاؤں مگر ہسپتال دوسری طرف تھا اور اسکول کا راستہ الگ اسے کہتی اور بچوں کی والدہ اسکول چھوڑنے آتی ہیں وہ ہاؤس وائف ہیں میں ڈاکٹر ہوں اور پھر اس نے اصرار کرنا چھوڑ دیا ایک دن جب اس کی ٹیچر نے اس سے پوچھا تم بڑے ہوکر کیا بننا چاہتی تو دوسری بچیوں نے ڈاکٹر بننے کا کہا لیکن میری بیٹی نےکہا میں ہاؤس وائف بننا چاہتی ہوں تاکہ اپنے بچوں کو خود اسکول چھوڑنے اور لینے جاؤں اس دن مجھے بہت دکھ  ہوامگر ایک ڈاکٹر کو اپنے معاشرے کوصحت مند و توانا رکھنے کے لئے بھی کام کرنا پڑتا ہے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ دوسروں کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے یہ آپ کے پیشے کا تقاضا ہے میرا مشورہ ہے وہ لوگ جو کسی ڈاکٹر لڑکی سے شادی کرتے ہیں شادی کے بعد اور بچوں کے بعد ملازمت جاری رکھنے میں اس کا بھرپور ساتھ دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *