سیاستدانوں کے دفاع میں

ان دنوں پارلیمنٹ  میں صرف شور شرابا سننے کو ملتا ہے۔ حکومت کے پاس اپوزیشن بنچز پر بیٹھے لوگوں کو چور ڈاکو کہنے سے زیادہ کچھ نہیں ہے، جب کہ اپوزیشن نے بھی یہی رویہ اپنا رکھا ہے ۔ سابقہ  وزیر داخلہ احسن اقبال نے حال ہی میں وزیر اعظم کو ایک فراڈیا کہا (اس وقت وہ پارلیمنٹ میں نہیں تھے جب انہوں نے یہ کہا)۔ اور فواد چوہفدری اور مشاہداللہ خان کے  الفاظ کو نہ دہرایا جائے تو بہتر ہے ۔

لیکن کبھی کبھار  صرف الفاظ پر توجہ دینا کافی نہیں ہوتا ۔

پاکستان کے سیاستدان مکمل طور پر غیر ذمہ دار نہیں ہیں۔ شور اور بند دروازوں کے پیچھے امن قائم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ سپیکر اسد قیصر قومی اسمبلی میں تمام جماعتوں کو ضابطہ اخلاق میں لانے کی آخری حد تک کوشش کرتے رہے ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئر مین شپ پر   ڈیڈ لاک ختم کرنے کی بھی کسی حد تک کوشش ہوئی ہے۔ پچھلے ہفتے ایکسپریس ٹریبیون کی ایک  خبر میں پی پی پی لیڈر قمرالزمان کائرہ کا  حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیاکہ  ان کی پارٹی رکاوٹو ں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے  اور اس مقصد کے لیے مشورہ دیا گیا ہے کہ شہباز شریف پی اے سی کی سربراہی کریں جبکہ پی ٹی آئی کی سربراہی میں ایک سب کمیٹی سابقہ پی ایم ایل این حکومت کے آڈٹ کے لیے ترتیب دی جائے۔

پی ایم ایل این کے خواجہ آصف  سے جب پوچھا گیا  تو انہوں نے  کہا کہ گو کہ دونوں اپوزیشن جماعتوں نے میٹنگ میں اس معاملے پر بات نہیں کی، پی پی پی نے اس دن پارلیمنٹری سیشن کے دوران اس آئیڈیا کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا  کہ وہ پارٹی کا رد عمل بیان نہیں کر رہے لیکن  اگر ن لیگ پی اے سی کے  معاملے میں لچک نہیں دکھاتی تووہ بھی  پارلیمنٹ کو  مفلوج  کرنے کی ذمہ دارقرار پائے گی۔البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ پر قائم رہے گی کہ  پارلیمنٹ کو مفلوج کرنے کی اصل ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہی رہے گی۔

پی اے سی  پر جھگڑا جو پی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے شروع ہوا  ، بہت سے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی  کی اک شق کے مطابق پی اے سی کے چئیر مین کا عہدہ اپوزیشن لیڈر کا ہے جو کہ اس وقت شہباز شریف ہیں۔ تاہم کرپشن  کے بارے میں سخت موقف رکھنے والی پی ٹی آئی اس پر عمل کرنے سے انکاری ہے یہ کہتے ہوئے کہ شہباز شریف سے اپنے بھائی کے آڈٹ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ چونکہ پی پی پی اور پی ایم ایل این متفق نہیں ہیں اس لیے وہ نیشنل اسمبلی کی کمیٹیوں سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نتیجتا حالیہ پارلیمنٹ کے آنے کے بعد  کوئی کمیٹی بن نہیں پائی۔

نتیجتا پارلیمنٹ اپنا قانون سازی کا کام نہیں کر سکتی۔ کمیٹیوں کے بغیر کوئی ڈرافٹ کیا گیا قانون نہ تو پرکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ فلور پر تقریروں کے بے ترتیب ہونے کی ایک وجہ بھی ہے۔

لیکن پی پی پی کا مشورہ سب کے لیے بچ نکلنے کا راستہ دکھائی دیتا ہے۔ اور بچ نکلنے کا راستہ ہی ہر پارٹی کی ضرورت ہے۔

 پی پی پی اپوزیشن کا ایک رکن ہو سکتی ہے اور 2018 کے الیکشن کو دھاندلی زدہ  کہنے والی پارٹی ہو سکتی ہے ، لیکن یہ چاہتی ہے کہ ''نامکمل'' نظام چلتا رہے، کیوں کہ یہ ایک سٹیک ہولڈر ہے، یہ پارٹی سندھ پر حکومت کرتی ہے اور ان کا بندہ سینیٹ کا ڈپٹی چیئرمین ہے (اپر ہاؤس میں کسی حد تک غلط انتخابات کے نتیجے میں)۔ اور اس لیے دوسروں کے  ساتھ پی پی پی  بھی چاہتی ہے کہ یہ نظام چلتا رہے۔

اور یقینا گرمیوں میں پی ایم ایل این سے ان کا حصہ چھین لیا گیا۔ لیکن اب بھی  وہ نظام میں سٹیک ہولڈر ہیں ۔ اس کے پارلیمنٹیرینز  کوریڈور کی غلط سمت میں ہوں گے لیکن وہ اب بھی عمارت میں  موجود رہنا چاہتے ہیں۔ یہ انہیں مناسب نہیں لگتا کہ سب کچھ چھوڑ کر سڑکوں کا رخ کر لیں (انتہائی افسوس ہے ان پر جو سوچتے ہیں کہ سڑکوں پر نکلنے والے سیاست دان سول ملٹری توازن کو تبدیل کر دیں گے اور اصل جمہوریت لے آئیں گے جیسے 2007 میں ہوا)۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے تسکین ملتی ہے بلکہ اس لیے بھی کہ  سڑکوں پر نکلنے سے کام نہیں بنتا۔ نواز شریف نے الیکشن سے قبل اس کی کوشش کی اور ناکام رہے۔

اسو قت بھی تمام پی ایم ایل این کے تمام  ارکان  نوازشریف کی حکمت عملی سے متفق نہیں تھے   کہ ان کا اسٹیبلشمنٹ مخالف موقف   انہیں دوسری طرف کھڑے ہو کر کامیابی سے ہمکنار کر دے گا۔ تاہم پارٹی میں سے کسی نے بھی اسے اونچی آواز میں نہیں کہا۔ اب یقینا  صورتحال تبدیل ہو رہی  ہے، پی ایم ایل این کے کچھ سینئر حضرات  یہ کہنے  کی ہمت رکھتے ہیں کہ میاں صاحب نے  درست فیصلہ نہیں کیا تھا ۔ (جب سربراہ مشکل میں ہو تو اس کے سامنے سچ بولنا آسان ہوتا ہے)۔

دوسرے الفاظ میں پی ایم ایل این کے  رہنما کسی بھی صورت میں نظام کا حصہ رہنا چاہتے تھے ۔ لیکن اب  ان کا سربراہ بھی انہیں کی طرح سوچ رہا ہے ،شریف فیملی کی قانونی مشکلات بد تر ہو رہی ہیں، امکان ہے کہ یہ خاندان، خاص طور پر نواز شریف ان کی بیٹی مریم، محسوس کرتے ہیں کہ  مکمل طور پر غیر جمہوری سسٹم کے برعکس الجھے ہوئے جمہوری سسٹم  کو قائم رکھنے  میں ہی عافیت ہے ۔ اور غالبا آصف علی زرداری بھی یہی محسوس کرتے ہیں۔

یہ سب اس بات  کا عکاس ہے کہ سیاستدانوں کو اپنے مفاد کی کتنی فکر ہے۔

 لیکن اس بندش کو توڑنے کی کوششوں کو تھوڑا مختلف طریقے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سیاست دان چاہے  بد عنوان  ہوں،  ناہل ہوں  یا خود پسند سیاست دان ،بندشوں کو  وہی توڑتے ہیں اور وہی  حل تلاش کرتے ہیں اور درمیانہ راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے لیے کالا اور سفید، فتح اور شکست کا کوئی معنی نہیں ہوتا۔

ان کے لیے سیاست ممکن بنانے کا ایک نام ہے، اسی بھدی عبارت میں سیاست کی خوبصورتی پوشیدہ ہے۔ سیاست نظام کو قائم رکھنے ، مذاکرات اور سمجھوتہ کرنے کا نام ہے ۔ اور اس لیے پی پی پی ہو یا پی ایم ایل این ہو یا پی ٹی آئی ہو، ان میں سے ہر کوئی سسٹم کے ساتھ کام کرنے کا انتخاب کرے گا،  چاہے سسٹم کیسا بھی ہو، وہ اسے تو کر نیا بنانے  کی بجائے اسی نظام میں چلنا چاہتے ہیں ۔

حتی کہ عمران خان نے اس کام کے لیے اسی کا انتخاب کیا جب انہوں نے  الیکٹیبلز کو اپنی پارٹی کو خوش آمدید کہا اور ایک ایسے سسٹم میں الیکشن لڑا جس کی اصلاحات نہیں ہوئی تھیں۔

صرف آمر ہی سوچتے ہیں کہ ایک ٹوٹے ہوئے سسٹم کو بالکل نیا کر کے چلایا جا سکتا ہے۔ یا  پھر ایسے لوگ جو سوچتے ہیں کہ اکبر بگٹی سے لڑنا چاہیے تھا جیسا کہ مشرف نے کیا، اس کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ چوہدری شجاعت  نے کیا تھا جو سیاست دان تھے ۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم منتخب مرد یا عورت کو ہم ٹھوکر مارتے ہیں تو وہ راستہ نکال لیتے ہیں  کیونکہ ان کا کام ہی یہی ہے  کہ وہ مذاکرات کے ذریعے راستہ تلاش کریں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *