دھاندلی

محمد طاہرM tahir

سیاست میں تصورات ہی سب کچھ ہیں۔ پاکستان میں سیاست امام غزالی کی ’’نصیحتہ الملوک‘‘ پڑھ کر نہیں، بلکہ میکاولی کی کتاب ’’پرنس‘‘ پڑھ کرکی جاتی ہے۔ لہذا یہاں پر’’ حقائق ‘‘کی نہیں ’’تصورات‘‘ کی حکمرانی ہے۔ مروجہ سیاست میں اِسی کی اہمیت ہے۔
فیصلہ آگیا ، مگر یہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں اب نئے انتخابات ہوں گے۔ دھاندلی ثابت ہو چکی۔ خود وفاقی وزیرِ تجارت خرم دستگیر نے اِسے نون لیگ کے لئے لمحۂ فکریہ کہا ہے اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کُل 265 انتخابی مراکز میں سے یہ سات مراکز تھے جنہیں پڑتال کیا گیا۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُن سات میں سے چار مراکز میں اکثریتی ووٹ جناب حامد خان کے تھے۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اب تک تحریک انصاف کی 69انتخابی عذرداریوں میں سے یہ پہلی عذرداری ہے جو تسلیم کی گئی۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ انتخابی عمل کسی نہ کسی سطح پر دھاندلی زدہ ہوتا ہے یا نہیں؟ حالیہ فیصلے نے یہ ثابت کردیا کہ ایسا ہوتا ہے۔ اگر چہ اب یہ بھی ثابت ہونا ہے کہ کیا یہ اس سطح پر ہوتا ہے کہ بنیادی انتخابی نتیجے کو ہی تبدیل کردے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو کُل انتخابات میں بھی تقریباً تمام یا اکثریتی حلقوں میں ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ مگر خود جمہوریت کا ایک خلقی نقص تصور کی سطح پر ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اس میں موجود نمائندگی کبھی بھی اصلی نمائندگی ثابت نہیں ہو سکی۔حلقہ 125 کے انتخابی نتیجے نے جوزف اسٹالن کی بات کو ایک بار پھر یاد داشتوں میں اجاگر کیا ہے کہ
’’لوگوں کے لئے یہ جاننا ہی کافی ہوتا ہے کہ یہ انتخابات تھے، مگر لوگ جنہیں ووٹ
دیتے ہیں اس سے کوئی فیصلہ کن فرق نہیں پڑتا۔ ہر چیز اس سے فیصل ہوتی ہے کہ یہ
ووٹ گنے کس نے تھے۔‘‘
حلقہ 125 پر حالیہ عدالتی فیصلے نے تو کم ازکم یہ بات درست ثابت کی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کراچی کے حلقہ 246 کی طرح اس حلقے میں بھی ضمنی انتخابات تحریکِ انصاف کے لئے زیادہ خوش کن ثابت نہ ہو۔ اور پھر خواجہ سعد رفیق اپنی کھسیانی ہنسی کے بجائے فضا میں زیادہ بلند قہقہہ لگا سکیں۔ مگر یہ قہقہہ بھی آخری قہقہہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ بنیادی مسئلہ اس نظام کے بنیادی تقاضوں سے جڑا ہے اور اصل سوال جمہوریت کی روح کا ہے۔ یہ ضمنی انتخابات عام انتخابات کے ماحول میں نہیں ہو رہے۔ عام انتخابات سے اب تک تحریکِ انصاف کے متعلق عوامی تصورات بڑی حد تک تبدیل ہو گئے ہیں۔ تحریکِ انصاف تقدیر کا نادر موقع گنواچکی ہے۔ لہذا ضمنی انتخابات کے نتائج پر یہ قیاس کبھی درست نہیں ہوگا کہ عام انتخابات بھی اِسی طرح کے نتائج کے حامل تھے۔ پاکستان ساختہ جمہوریت کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں انتخابات کبھی بھی چُرائے جاسکتے ہیں۔ اور انتخابات میں سچ مچ جیتنے والا بھی نتائج میں واضح فرق اور حریف پر اپنی کھلی سبقت ثابت کرنے کے لئے دھاندلی کا سہارا لیتا ہے۔ دراصل یہ ایک مرض ہے جو سیاست کو مستقل پیشہ بنانے کے باعث پیدا ہوا ہے۔ دنیا کی قدرے آبرومند جمہوریتوں میں امیدوار دو تین انتخابات کے لئے گوارا کئے جاتے ہیں پھر اُنہیں گوشہ گمنامی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ مگر پاکستان میں سیاست ایک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی کی طرح ہوتی ہے۔ جس میں انتخابی حلقوں کو ’’خاندانی میراث‘‘ کی طرح تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ امیدوار اپنی اِسی نفسیات میں انتخابی عمل کو ایک طویل خاندانی سلسلے میں مستقل کاروبار کی طرح دیکھتا ہے۔
اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سے مختلف شکست خوردہ امیدواروں کی طرف سے دائر کی جانے والی 387 انتخابی عذرداریوں میں سے اب تک 356 نمٹائی جا چکی ہیں۔ مگر ان میں بھی ایک خاص پہلو یہ ہے کہ کسی بھی حلقے کو جب بھی کھولا گیا یا ووٹوں کی پڑتال کی گئی تو کسی نہ کسی سطح پر کوئی نہ کوئی سوال باقی رہا ہے۔ یعنی یہ پورا انتخابی عمل شکوک کے گرداب میں ہے۔ حلقہ 125 کے متعلق حالیہ فیصلے کی اہمیت یہ نہیں ہے کہ یہ اُن چار حلقوں یعنی حلقہ 110 ، 122 ، 125 اور 154 میں شامل ہے جن پر عمران خان نے پہلے روز سے ووٹوں کی تصدیق کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ بلکہ اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہاں پر ریٹرننگ افسران اور دیگر انتخابی عملے کے دھاندلی میں ملوث ہونے کا الزام تسلیم کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کسی بھی طرح ’’منظم دھاندلی‘‘ کے ذمرے میں لیا جائیگا۔ خواجہ سعد رفیق نے اس پر ایک عجیب وغریب موقف اختیار کیا ہے کہ الزامات ریٹرننگ افسران پر ہیں اس سے اُن کا تو کوئی قصور ثابت نہیں ہوتا۔ حیرت ہے کہ اُنہیں یہ اندازا ہی نہیں کہ یہ تو پورے انتخابی عمل پر تحریکِ انصاف کے عمومی اعتراض کی پذیرائی ہے۔ پھر ریٹرننگ افسران جن بے قاعدگیوں کے مرتکب پائے گئے اُس کا فائدہ کس کو پہنچا؟
ایک بڑے تناطر میں دیکھا جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ مگر اس سے بہت فرق پڑتا ہے کہ اس سے نتیجے پر کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں؟ اور امرِ واقعہ کے طور پر الزام درست ثابت ہوا ہے یا نہیں؟ فرض کیجئے کہ’’ دھاندلی‘‘ خواجہ سعد رفیق نے نہیں بلکہ حامد خان نے کرائی ہواور وہ اس کے باوجود انتخابی ٹریبونل میں یہ مقدمہ لے گئے ہو کہ اس انتخابی حلقے میں دھاندلی ہوئی ہے ۔اس صورت میں یہاں دھاندلی حامد خان کے حق میں ثابت ہو جائے تب بھی خواجہ سعد رفیق یہ موقف اختیار نہیں کر سکتے کہ اس میں میرا یا میرے ووٹر کا کیا قصور ہے؟ شفاف انتخابات کا تقاضا اپنی نہاد میں بالکل درست ہے۔تحریکِ انصاف پر اعتراض اُن کے مطالبات پر نہیں کیا جاسکتا۔ اُن پر اصل اعتراض اُن کے طریقۂ سیاست اور’’ اُنگلی والی سرکار‘‘ پر غیر جمہوری انحصار کا تھا۔ وہ اپنے کسی جائز مطالبے میں بھی یہ حق نہیں رکھتی کہ کسی غیر جمہوری انداز کو اختیار کر کے نظام کو تلپٹ کرنے کی موجب بن جائے۔ خواہ وہ کتنے ہی ناجائز انتداب (مینڈیٹ) کی حامل حکومت کے خلاف کتنے ہی جائز مطالبات کے ساتھ بروئے کار ہو۔ کیونکہ پاکستان غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ساتھ آمریت کی تیرہ شبی کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے اور اس کے لئے سیاست دانوں اور دانشوروں کے استعمال کی بھی بھونڈی مثالیں موجود ہیں۔ لہذا پاکستان میں جمہوریت کی بقا کے لئے سب سے کم بھروسا سیاست دانوں اور دانشوروں پر ہی کیا جانا چاہئے۔مگر عملی سیاست آدرشوں پر انحصار نہیں کرتی۔ یہ ایک کارِ دگر ہے ۔ عملی سیاست کی حرکیات بالکل مختلف ہیں۔ اس میں حقائق نہیں تصورات فیصلہ کن عامل ہوتے ہیں۔چناچہ اپنے وصف اور باطن میں یہ بات کتنی ہی غلط ہو مگر عملی سیاست کی ترجمانی میں انگریزی کے اس فقرے کو موزوں خیال کیا جاتا ہے کہ
In politics, perception is reality and the truth is negotiable." "
حلقہ 125 پر عدالتی فیصلے سے بہرصورت تحریکِ انصاف کے موقف کو تقویت ملی ہے کہ وہ دھاندلی کا شور خوامخواہ مچا نہیں رہی۔ اور بنیادی طور پر رائے دہندگان کی پرچیاں ایسی نہیں ہیں جو کسی بھی تصدیق کے مرحلے کی تاب لاسکیں۔ پاکستان عوام کو سچی جمہوریت کی طلب میں ایسے انتخابات سے مطمئن نہیں کیا جاسکے گا۔ اور نون لیگ کبھی بھی اس طرح کے ماحول میں فروغ نہیں پا سکے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *