"شوگر مافیا" کو کنٹرول کرنے کیلئے" مصلحت "نہیں فوری اقدامات کی ضرورت...!!

جناب عمران خان صاحب ! آپ اس وقت پاکستان کے وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہیں،اور آپ بائیس کروڑ عوام کے وزیر اعظم ہیں،اس بائیس کروڑ عوام میں" کسان" نامی ایک" مخلوق" بھی آپکی رعایا میں شامل ہے،اسکے بھی آپ وزیر اعظم ہیں،لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کے "نئے پاکستان" میں اس مخلوق کے ساتھ کچھ اچھا برتاؤ نہیں ہو رہا، راقم آپ کو باور کرانا چاہتا ہے کہ یہ وہی مخلوق ہے، جس کو ہم پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کا نام دیتے ہیں،پاکستان ایک زرعی ملک ہے،اور پاکستان اپنی معیشت کا تمام تر انحصار اسی مخلوق پر کرتا ہے،کسان دھرتی کا سینہ چیر کر ہمارے لئے طرح طرح کا اناج پیدا کرتاہے، پھل،پھول، سبزیاں،دالیں، چارہ جات، کپاس چاول نقد آور فصلات،انڈے،گوشت،دودھ، مکھن غرض کہ ہر طرح کا اناج ہمیں گھر بیٹھے بٹھائے اسی کسان کی بدولت حاصل ہو رہا ہے، یہ وہی کسان ہے جو ہر طرح کی سختی برداشت کرتا آیا ہے،لیکن اس نے کبھی اف تک نہیں کی ،مئی جون کی تپتی دوپہر میں سوا نیزے پر سورج ہو،یا نومبر دسمبر کی اندھیری راتوں میں نقطہ انجماد پر درجہ حرارت ہو، آندھی ،طوفان یا بارش ہو، کوئی بھی چیزکسان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی،اسکا ارادہ متزلزل نہیں ہوتا،وہ اپنی دھن میں لگا رہتا ہے، ہمارے لئے اور اس دھرتی کیلئے اناج پیدا کر کے اپنا قومی فریضہ انجام دے رہا ہے،پاکستان زرعی ملک ہے،اور اگر ہم نے ترقی کرنی ہے،تو زراعت کے شعبے پر خصوصی توجہ دینا ہوگا،چھوٹے ذمیندار اور کسان جو ہمارے ملک کی ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،حکومت کو کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا،ان کیلئے پائیدار پالیسیاں ترتیب دینا ہونگی،جناب وزیر اعظم صاحب ! آپکے نئے پاکستان میں کسان انتہائی پریشان ہے،تاحال ابھی تک شوگر مافیا کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے،شوگر ملوں نے نہ صرف گنے کی کرشنگ ابھی تک شروع نہیں کی بلکہ وہ ذمیندار سے گنے کی فصل بھی نہیں خرید رہے،جس سے ذمیندار کی گنے کی برداشت کی ہوئی فصل سوکھ رہی ہے ،اور اسکا وزن کم ہو رہا ہے،اور جو کماد کی فصلیں ابھی کھیت میں موجود ہیں ،ابھی تک برداشت نہیں کی گئیں،اسکی وجہ سے گندم کی فصل کی کاشت بھی متاثر ہو گئی ہے، اور آئندہ گندم کی پیداواری صلاحیت شدید متاثر ہو نے کا خدشہ ہے، کسان تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسکی تمام تر ذمہ داری شوگر مافیا اور ناقص حکومتی منصوبہ بندی پر ہو گی...،محکمہ زراعت پنجاب کاشتکاروں کو ہدایت کرتا ہے کہ گندم کی کاشت 15 نومبر تک مکمل کر لے، کیونکہ یہی موزوں وقت ہے جس پر گندم کی کاشت سے بمپر کراپ حاصل ہوتی ہے، اگر گندم کی کاشت بروقت نہ ہو سکے تو،ذمیندار کا دوہرا نقصان ہوتا ہے، بوائی کے وقت فی ایکڑ بیج ذیادہ ڈالنا پڑتا , اورگندم کی پیداوار بھی کم حاصل ہوتی ہے،اسے پچھیتی کاشت کہتے ہیں،راقم الحروف بھی چونکہ ایک زرعی سائنسدان ہے ،اور وہ بخوبی جانتا ہے کہ گندم کی پچھیتی کاشت کرنے سے یعنی کہ گندم کی بوائی کا صحیح وقت15 نومبر تک ہوتا ہے، اس تاریخ کے بعد کاشت کرنے سے یومیہ 15سے20 کلوگرام فی ایکڑ پیداوار کم ہوجاتی ہے،جناب والا ! ملک کی بڑی نقد آور فصل کماد کے کاشتکار اپنی فصل تیار کرنے کے بعد شوگر ملز انڈسٹری کی جانب دیکھ رہے ہیں،پاکستان میںcane act (کین ایکٹ) کے مطابق ملک میں شوگر انڈسٹری یکم نومبر کو کرشنگ شروع کرنے کی پابند ہے،لیکن نومبر کا مہینہ گزرنے کے باوجوددسمبر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے، اور تاحال گنے کی کرشنگ کا سیزن شروع نہیں ہو سکا،کسان تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گنے کے کاشتکاروں کو اربوں روپے نقصان کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے،کسان کمیٹی پنجاب کے رہنما اسد عباس شاہ کا کہنا ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے،کہ گنے کی کرشنگ کا سیزن اتنی تاخیر کا شکار ہوا ہے،کسان بورڈ کے رہنما فیاض الحسن بھٹہ نے کہا ہے کہ نئی حکومت نے پہلے 100 دنوں میں محکمہ زراعت کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں دی،کسان اتحاد کے رہنما ملک انور کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اپنی حکومت میں کسی مصلحت کاشکار ہو کر گنے کے کاشتکاروں کو بھول گئے ہیں،ایگری فورم پنجاب کے صدر راؤ افسر علی نے کہا ہے کہ شوگر ملز مالکان کی جانب سے گنے کی کرشنگ کا سیزن شروع کرنے میں تاخیری حربوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے،موجودہ حکومت میں بھی شوگر ملز مالکان کی اجارہ داری ہے،جسکے باعث وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب مصلحت کا شکار ہیں،اور کسانوں کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں کر پارہے،جس سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے،پچھلے دنوں جڑانوالہ کے نواحی گاؤں کے کاشتکاروں نے شوگر انتظامیہ کے خلاف 2 کنال اراضی پر کماد کی کھڑی فصل کو احتجاجا آگ لگا دی اور احتجاجی مظاہرہ کیا، ملک بھر اورسندھ میں بھی کسان شوگر ملیں نہ چلنے بارے احتجاج کر رہے ہیں،ایک احتجاج میں مجید قمبرانی نامی کسان نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خود کو آگ لگا کرخود کشی کی کوشش کی،اسکی ذندگی تو بچا لی گئی لیکن جسم کا کافی حصہ جل گیا،وزیر اعظم صاحب ! اس سے پہلے کہ حکومت کے خلاف کسانوں کی ملک گیر تحریک کاآغاز ہو جائے،کسانوں کو انکے جائز حقوق دئے جائیں،کیونکہ فصل چاہے خریف کی ہو یا ربیع کی کسان کی ہرفصل سے بہت امیدیں وابستہ ہوتی ہیں،اس نے فصل کیلئے کھاد،سپرے اور بیج کے سلسلے میں لئے گیا قرضہ ادا کرنا ہوتا ہے،بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے ہوتے ہیں،بیٹے کی شادی کا پلان بنایا ہوتا ہے،والد ،والدہ کا آپریشن کرانے کا سوچ رکھا ہوتا ہے، اللہ کے گھر اور روضہ رسول پر حاضری کا پروگرام بنایا ہوتا ہے، جناب وزیر اعظم صاحب ! شوگر مافیا "جیسوں" نے کسانوں پر زمین تنگ کر دی ہے،اپنی پہلی" فرصت" میں آپ کو نوٹس لینا چاہیے،وزیر خزانہ صاحب تو معیشت کی بحالی میں "مصروف" ہیں،آپ سے گزارش ہے کہ کسان کی حالت زار پر رحم کھاتے ہوئے،شوگر مافیا کو قانون کا پابند بنانے کیلئے "مصلحت "کی بجائے" اقدامات" کریں، جن کے باعث ،مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کاشتکار کیلئے کوئی آسانی کی راہ نکل سکے جو کہ ہمارے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچے توسارا جسم مفلوج ہو جاتا ہے..... !
بقول علامہ اقبال
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *