ناجائز جائزمیں بدل چکا ہے ؟

سپریم کورٹ  کی پاپولیشن کانفرنس کے موقع پر طارق جمیل صاحب نے ایک کمال کی بات کہی۔ انہوں نے کہا: ہمیں ایسے ججز ملے ہیں جو ایسے کام بھی کرتے رہتے ہیں جو ان کے نہیں ہیں۔ اللہ ان پر رحم فرمائے۔ اسی کانفرنس میں وزیر اعظم نے کہا کہ  سپریم کورٹ کے فیصلے سے نئے پاکستان کی بنیاد رکھی گئی ۔ اگر کوئی چھوٹے عہدے کا شخص اس طرح کا بیان جاری کرتا تو  اس پر عدلیہ پر الزام لگانے  اور اسے پارٹی بازی کا ذمہ دار قرار دینے پر سخت تنقید کا سامنا ہوتا۔ اس سے ایک دن قبل وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ملٹری  پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے۔ جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھی چیز ہے کہ ملٹری، عدلیہ اور حکومت ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر قومی مفاد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کی بات  وزن رکھتی ہے۔ کیا یہی چیز نہیں ہے جس کے لیے سارے محب وطن اور ناقدین ایک دوسرے سے الجھتے رہے ہیں؟ کیا سب نہیں چاہتے تھے کہ  یہ تینوں طاقتور ادارے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ایک پیج پر موجود رہ کر ملک کے لیے تگ و دو کریں؟

2007 میں  ایک ڈکٹیٹر نے بہت بڑی غلطی کر لی تھی ۔ انہوں نے  ایک ڈکٹیٹر ایک بغاوت کی حد عبور کر لی تھی۔ ایسا کرنے  کے لیے اس نے چیف جسٹس کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی  لیکن سپریم کورٹ کے اکثریتی جج چیف جسٹس کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔ ڈکٹیٹر نے سب ججز کو گھر بھیج کر نظر بند کر دیا۔ پاکستان کو 1950 سے کئی بار 10 10 سال  فوجی حکومت کا سامنا رہا ہے  اور ڈکٹیٹرز لمبی باریاں لیتے رہے ہیں۔ 90ء کی دھائی میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ باری باری اقتدار میں آئیں  اور پھر 1999 میں مشرف نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

لیکن جب جمہوریت کی باری آئی تو جرنیل کو یہ اچھا نہیں لگا کہ وہ اقتدار سے دوری اختیار کرے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کا اقتدار میں رہنا ڈکٹیٹرشپ نہیں بلکہ  بہتر جمہوریت کی علامت ہے۔ یہی موقف انہوں نے 1999 میں اقتدار پر قبضہ کے لیے استعمال کیا اور پھر پی سی او ججز کے ذریعے اپنے اس موقف کو توثیق بھی دلوائی۔  2007 میں انہوں نے اپنی باری جمہوری طریقے سے بھی مکمل کر لی  لیکن پھر انہوں نے عدلیہ کے خلاف بغاوت کی ٹھان لی جو کہ اس کی حکومت کے خلاف بغاوت میں اس کی پارٹنر رہ چکی تھی۔

اس   کے بعد کیا ہوا اس کو کئی مختلف اندازوں میں بیان کیا جاتا ہے۔  مثبت پہلو یہ تھا کہ قوم اس بار تھک چکی تھی۔ اب مسیحا کے آنے کا پہلو اہمیت کھو چکا تھا ۔ لوگ خود قانون کی حکمرانی کے لیے قربانیاں دینے پر راضی نظر آتے تھے  اور جمہوری تسلسل کے خواہاں تھے۔  اسی وجہ سے 2007 میں ایک نیا اتحاد قائم ہوا۔ اس اتحاد میں عوام، سول سوسائٹی، وکلا، فری میڈیا اور سیاسی پارٹیاں سب شامل تھے۔ یہ پروگریس الائنس کنٹرولڈ جمہوریت ، کنٹرولڈ میڈیا اور انصاف کے نام سے زاتی مفادات کے حصول کے خلاف تھا۔

مشرف کے خلاف مزاحمت سے امید کی ایک کرن نظر آئی۔ اس تحریک کے بہت سے ارکان یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ کسی خاص طبقہ کے اقتدار کے لیے نہیں بلکہ  آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اگرچہ ججز کی بحالی کو اس تحریک کی کامیابی سمجھا جا رہا تھا لیکن اصل میں اس میں بہت کچھ پوشیدہ تھا۔ اگر یہ تحریک کامیاب ہو جاتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ  قوم یہ سمجھ چکی ہے کہ ریاست عوام سے زیادہ طاقتور نہیں ہے، گرا ہوا کبھی اٹھ نہیں سکتا ، سول ملٹری  تعلقات کبھی توازن میں نہیں آئیں گے اور  مقدس گائے کو کبھی احتساب  کے عمل سے نہیں گزارا جا سکتا۔  پاکستانی قوم میں ایک انقلابی روح سما چکی تھی  اور یہ حالت تھی کہ حبیب جالب کی نظمیں 'میں نے اس سے یہ کہا'، 'ظلمت کو زیاں'، 'امید سحر'  اور اقبال بانو کی 'ہم دیکھیں گے' اور اعتزاز احسن کی 'کل آ ج اور کل'  حقیقت کا روپ دھارنے والی ہیں۔ عام عوام بھی آنسو گیس، لاٹھی چارج  کی صعوبتوں کو سہنے کے لیے تیار تھے   اور یہ صرف کسی پارٹی کی محبت میں نہیں بلکہ اس احساس کے ساتھ  کہ ایک آزاد اور عوامی حمایت یافتہ عدلیہ  ملک میں قانونی کی حکمرانی کو یقینی بنائے گی  اور بڑی  طاقتوں کے احتساب کے ذریعے قوم کی تقدیر بدل دے گی۔

اور پھر ایسا ہی ہوا۔ مشرف کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔  آنے والی حکومت کو ججز کو بحال کرنا پڑا۔  اس وقت لال جنگ پلازا میں حبیب جالب کی نظمیں گا رہے تھے۔ وہاں کوئی کنسرٹ نہیں ہو رہا تھا۔ لوگ خود بخود پر جوش ہو کر بچوں سمیت باہر نکل کر میں نہیں مانتا والی نظم پڑھ کر ایک نئی صبح کے طلوع ہونے کے احساس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ڈکٹیٹر کو غاصب قرار دیا گیا، پی سی او ججز کو استعفی دینا پڑا ، این آر او کو غیر قانونی قرار دے کر نکال پھینکا گیا ، اصغر خان کیس کی سماعت کی تاریخ مقرر ہوئی ، لا پتہ افراد  کے خاندان کے افراد کو امید کی کرن دکھائی دی۔

اور پھر انقلاب آہستہ آہستہ ٹھنڈا پڑنے لگا۔ سپریم کورٹ کو محسوس ہوا کہ  یہ متنخب حکومت سے بڑھ کر عوام کی نمائندگی کرے اس لیے اس نے انتظامیہ کے کاموں میں مداخلت شروع کر دی۔ بہت جلد افتخار چوہدری کی قیادت میں سپریم کورٹ پاپولزم کا شکار ہو گئی  اور سو موٹو کا بے پنا استعمال کرنے لگی ۔ اب اپیکس کورٹ قیمتوں کا بھی تعین کرنے لگی، عوامی عہدوں کی  تقرریوں کی نگرانی کرنے لگی، سیاستدانوں اور بیورروکریٹس کو  گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر نے لگی ، پرانی عدالتوں اور ججوں کے بارے میں ہتک آمیز بیانات جاری کیے گئے  اور میڈیا ٹرائل اور میڈیا ہیڈ لائنز میں نمایاں جگہ کے حصول کے لیے کوشش کرنے لگی۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے چیف جسٹس ملک چلا رہے ہوں۔ ہر چیز اپیکس کورٹ سے شروع ہوتی اور اسی پر ختم ہوتی تھی۔ ملک میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز چیف جسٹس کی شخصیت تھی۔ ہر صبح زیادہ تر بڑی خبریں چیف جسٹس کے متعلق ہوتی تھیں۔ بے عزتی، میڈیا کوریج اور پاپولزم کاا یک خاص طریقہ اپنایا گیا تھا۔ ایسا کرنے سے چیف جسٹس کی شخصیت کو بہت زیادہ طاقت ملی۔ چوہدری کورٹ سنوائی کے معاملات کو ایسے چلاتی تھی  کہ کوئی فیصلہ کن بیان دیے بغیر ہی  اس کے نتائج نظر آنے لگتے تھے۔ پاپولزم اور سو موٹو کے اختیارات نے چیف جسٹس کو ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ جوڈیشل کنڈکٹ کے بارے میں باتیں (جیسا کہ ججز نہیں ان کے فیصلے بولتے ہیں اور ججز کو کسی تنازعہ یا عوامی توجہ کی ضرورت نہیں وہتی) اب ماضی کا حصہ بن چکی تھیں۔ اب ایسا زمانہ آ گیا تھا جس میں مسیحا کا روپ چیف جسٹس کو ملا ہوا تھا۔ یہ صورتحال تب تک رہی جب ارسلان افتخار کا معاملہ سامنے نہیں آیا۔ کسی نے ان سے نہیں پوچھا کہ ان عدالتی اصلاحات کا کیا بنا ، یہ نہیں پوچھا گیا کہ وہ ہمارے ٹوٹے ہوئے عدالتی نظام کے بارے میں کیا اقدامات کر رہے ہیں،  اور نہ ہی یہ پوچھا گیا کہ وہ  اپنے ادارے کو ٹھیک کیوں نہیں کر رہے؟

اس لمحے ہمیں وکلا تحریک کے بارے میں نہیں بھولنا چاہیے۔ ڈکٹیٹر کے خلاف بغاوت ملٹری کے لیے ایک ریڈ لائن تھی۔ اس لیے یہ قوم نہیں بلکہ فوج تھی  جو مشرف  سے تنگ آ چکی تھی۔  اب مشرف کا اقتدار سے الگ ہونا جنرل کیانی اور دوسرے بڑے فوجی عہدیداروں کے لیے  کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔  وہ اس کے لیے تیار تھے۔ ان کے لیے وقت آ گیا تھا کہ وہ   کچھ عرصہ کے لیے اپنے بیرکس میں واپس چلے جائیں اور آرمی اور قوم کے بیچ پیدا ہونے والی دوری کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اس کا اندازہ وکلاتحریک کے دوران ججز کی بحالی کے لیے جنرل کیانی کے فون سے لگایا جا سکتا ہے۔ جرنیلوں کو چوہدری افتخار کے عوامی توجہ کا  مرکز بننے سے کوئی ایشو نہیں تھا۔ لیکن مشرف کو غاصب قرار دینے، غداری کیس پر زور دینے، اصغر خان کیس دوبارہ کھولنے،  اور ایسے بیانات جس سے فوج  کی سیاسی انجینئرنگ کے معاملات عوام کے سامنے آئیں ، اور لاپتہ افراد کے بارے میں تقاریر   نے ان کے لیے صورتحال کو بدل دیا۔ ایسا سماں پیدا ہو گیا جس سے یہ تاثر پھیلے کہ اب فوج  کے ادارے کو بھی احتساب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور عدلیہ فوج سے زیادہ طاقتور بن چکی ہے۔

ارسلان افتخار سکینڈل کے ذریعے افتخار چوہدری کے پر کاٹ دیے گئے۔ ہر ایسے شخص کی طرح جو طاقت حاصل کرنے کے بعد خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگتا ہے،  چوہدری افتخار کو بھی انہی کی حرکات نے پستی کی طرف دھکیل دیا ۔ جنرل راحیل شریف نے  بااختیاراداروں میں فوج کی پوزیشن  کو واضح کر دیا۔ جنرل باجوہ  نے معاملات کو ان کے لوجیکل نتائج تک پہنچا دیا   کہ ملٹری، عدلیہ اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔

ایک تاریخی معاملے کی حیثیت سے  ڈیفیکٹو ماڈل میں ملٹری طاقت کے تکون کی چوٹی پر بیٹھ  گئی اور عدلیہ کو اپنا جونئیر پارٹنر بنا لیا  اور دونوں نے مل کر سویلین حکومت کو احتساب کے نام سے  دباو میں ڈالنا شروع کیا۔ شاید یہ پہلا موقع ہے جب ہم   ڈی فیکٹو کو ڈی جیورو میں بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ اب نہ کوئی تکون ہے، نہ جھگڑا ہے اور نہ رسہ کشی۔ 2007 میں عدلیہ اور فوج کے بیچ پیدا ہونے والا خلا  اب پیچھے رہ گیا ہے۔ عدلیہ، فوج اور سویلین حکومت  سب کو معلوم ہے  کہ وہ طاقت کی درجہ بندی میں کہاں کھڑے ہیں  اور وہ اس سمجھ کے مطابق کام کرتے ہیں  اور ایسا کرنے میں وہ خود بھی پرسکون ہیں اور دوسروں سے بھی انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔

جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے فرمایا اس میں ایسی کیا چیز ہے جسے پسند نہ کیا جا سکے؟ اگر میڈیا اس چیز کو مثبت طریقے سے دکھا سکے  تو ہم نئے پاکستان میں ایک خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *