"نئی حکومت کے کردار پُرانے"

" محمد عمیر رضا "

2013کےالیکشن میں پاکستان کی سیاست میں ایک نئے نعرے کا اضافہ ہوا، وہ تھا’’ تبدیلی‘‘ جو بعدمیں نئے پاکستان میں تبدیلی ہوگیا، ہرطرف تبدیلی کا زور شور سے ذکر ہونے لگا، پاکستان کے عوام کو بھی ایک نئی جماعت کو آزمانے کا موقع ملا، مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا، 2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو سادہ اکثریت حاصل ہوئی اور نواز شریف ملک کے تیسرے باروزیراعظم منتخب ہوگئے۔تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ق اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے مینڈیٹ چوری ہونے کا الزام عائد کیامگر تحریک انصاف کے علاوہ دیگر جماعتوں نےانتخابی نتائج کو تسلیم کرلیا۔ 2013کی انتخابی مہم میں ایم کیوایم اور اے این پی کوانتخابی مہم چلانے میں شدیدشواری کا سامناکرنا پڑا،انتخابی جلوسوں پر دہشتگروں کی جانب سے حملے کئے گئے۔ جس میں اہم رہنما جان کی بازی ہار گئے اور اس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی۔الیکشن2013 کے نتائج پر جہاں تمام سیاسی جماعتوں کو تحفظات تھے، وہیں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے سوائے تحریک انصاف کے جمہوری عمل کو مستحکم کرنے کیلئے اورملک کے وسیع تر قومی مفاد میں میں ان نتائج کو قبول کرلیا مگر تحریک انصاف نے اس کو ماننے سے انکار کردیا، البتہ خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی نے اکثریت حاصل کی اور جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی لیکن انتخابات چوری ہونے کے دعوے سے پیچھے نہ ہٹی اور 2013 کے الیکشن کو آر اوز کا قرار دیا۔

انتخابی نتائج کے خلاف ڈی چوک اسلام آباد میں 126دن کا  دھرنا دیا گیا۔جس میں کبھی سول نافرمانی کی تحریک چلانے کی دھمکی دی گئی تو کبھی پارلیمنٹ پر لعنت ملامت کی گئی۔ دھرنے کی وجہ سے چینی صدر

کا دورہ بھی ملتوی ہوا۔دھرنے کا مقصد صرف ایک نوازشریف کو اقتدار سے ہٹایا جائے۔ جاویدہاشمی نوازشریف سے اصولی اختلافات کے بعدتحریک انصاف میں شامل توہوگئے اور شمولیت کرتے ہوئے خان صاحب کو پیغام بھی دے گئےکہ "میں باغی ہوں" جس کو خان صاحب شاید سمجھ نہ سکے۔دھرنے کے دوران جاوید ہاشمی نے بغاوت کی اوردھرنے کے پیچھے مبینہ طورپر موجود کرداروں کو بے نقاب کیا اور تحریک انصاف سےعلیحدگی اختیار کرلی۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور اس وقت کے نگراں سیٹ اپ کے وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی پر 35پنچر کا الزام لگایا گیا، تحریک انصاف کا مؤقف تھا کہ عام انتخابات 2013 میں منظم دھاندلی ہوئی۔ ملک میں جگہ جگہ دھرنے دیئے گئے اور تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا، پھر ایوان میں عدم حاضری کی بنیاد اپوزیشن نے ڈی سیٹ کرنےکا مطالبہ کیا مگر یہ سب باتیں ماضی کی ہوئیں۔حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ہوئے شکایات دور کرنے کیلئے اس وقت کے چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں کمیشن بنا تحریک انصاف ایوان میں لوٹ آئی انتخابی دھاندلی کمیشن کا فیصلہ آیا اور تحریک انصاف کے 35 پنچر اورمنظم دھاندلی کاالزام رد کردیا گیا۔

 تحریک انصاف نے  کے پی کو اپنا مسکن بنایااور نئے خیبرپختون خواہ کے ذریعے نیاپاکستان بنانے بیڑا اٹھایا،خان صاحب نے پرویز خٹک کو کے پی کا کپتان بنایا۔ جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ خان صاحب نے اپنی تقریروں میں نوجوان کو قیادت دینے اور آگئے لانے کا وعدہ کیا تھا مگروہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے اور وہ بھی سیاسی وعدہ!!! 63سالہ پرویزخٹک پیپلزپارٹٰی، پیپلزپارٹی شیرپاؤ سے ماضی میں وابستہ رہے، مشرف دور میں ضلعی ناظم بھی رہے، کپتان نے نئے پاکستان میں پرانے کھلاڑی کو چنا خیریہ کپتان کی اپنی حکمت عملی تھی۔پاناما کیس کا معاملہ سامنے آیا کپتان کوپھرموقع ملا ایک اور دھرنے کی تیاری ہوئی،

کہانی طویل مگر تحریک انصاف نے وہ حاصل کرلیا۔ جس کی خواہش 126دن کے دھرنے میں کی جارہی تھی وہ نوازشریف کے اقتدار کا خاتمہ، اس سفر میں عمران خان کے اردگردن لیگ،پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے کپتان کی ٹیم کو جوائن کرلیا۔انتخابی موسم قریب آنے سے قبل سیاسی پنچھی اڑنے لگے عمران خان کا بیانیہ مضبوط ہوا ۔ 2018 کے انتخابات  کے بعد تحریک انصاف برسراقتدار آئی، کپتان نے کھلاڑیوں کا چناو کیا لیکن نئے کردار منظر عام سے غائب ہوگئے، نہ  کپتان کی ٹیم میں جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین، نہ جاوید ہاشمی، نہ ضیا اللہ آفریدی نظرآئے،  نہ فوزیہ قصوری ،  نہ حامد خان ،  نہ عائشہ گلائی، نہ  نازبلوچ  اور کچھ نے توخاموشی سے تحریک انصاف سے رشتہ توڑ لیا۔ انکی جگہ فوادچوہدری  ، اعظم سواتی ، شاہ  محمود قریشی، جہانگرین ترین،پرویز خٹک،خسرو بختیار، سردار عثمان بزدار، فیاض الحسن چوہان،حلیم عادل شیخ ، اعجاز چوہدری، چوہدری سرور ،میاں محمودالرشید، ڈاکٹر عامرلیاقت حسین اور اس کے علاوہ دیگر ایسے لوگ تحریک انصاف میں شامل ہوکراہم وزارتوں او رعہدوں پر فائز ہوگئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی  وابستگی ماضی میں کسی نہ کسی جماعت ہے رہی ، جن کو خان صاحب چور،ڈاکو، لوٹیرے،کرپٹ اورضمیر فروش  کہتے رہے  مگر 2018کے عام انتخابات سے قبل بڑی تعداد میں سیاسی پنچھی تحریک انصاف میں آگئے اور انصاف کے نام پر وجو میں آنے والی تحریک انصاف نے نظریاتی کارکنوں  کو نظرانداز کردیا اور ایکٹیبل کے نام پر لوٹوں کو ٹکٹ دیا اور توجہی پیش کی کہ الیکشن جیتنے کیلئے نظریاتی نہیں بلکہ ایکٹیبل ہونا چاہیئے ۔خان صاحب کی اپنی جماعت اپنا نظریہ جیسے چاہیں ٹکٹ دیں ، جیسے چاہیں وزارت اور جب چاہیں یوٹرن لے لیں۔ خان صاحب کے نئے پاکستان میں عوام کی امیدیں اس منگو کوچوان کی طرح دم توڑتی نظر آرہیں جو  اپنی کم عقلی کی وجہ سمجھ رہا تھا کہ  ’’نیا قانون ‘‘ آتے ہی اس کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی  مل جائے  لیکن ایسا نہ ہوسکا،مرادسعید کی تقریر سن کر معصوم عوام نے سمجھ لیا تھا کہ عمران خان وزیراعظم  بننے کے بعد ویسا ہی کر یں گے جیسا مراد سعید نے کہا، لیکن ایسا کچھ نہ ہوا پاکستان کے عوام کو نئے پاکستان میں الیکٹیبل کے نام پرانے کردار پھر مل گئے،تو پھر ہوا یوں کچھ کہ کبھی ڈی پی او پاک پتن کے تبادلہ کا کیس سامنے آیا ، تو پرویز خٹک  پر کرپشن کا الزام، اعظم سواتی پر آئی جی اسلام آباد کے تبالے کا الزام لگا تو بابراعوان کے خلاف  تحقیقات ہوئیں تو کہیں کسی وزیر کا بچہ قابل اعتراض میں پکڑے جانے کے بعد رہا ہوگیا ،تو کہیں گٹر کے ڈکھن لگانے والا اختیارات کا رونا رونے لگا، تبدیلی کی آس لگائے عوام نئےپاکستان میں پرانے کرداروں سے نبر آزماں ہیں  اور تحریک انصاف کی 100کارکردگی میں مہنگائی، بے روزگاری   ، معاشی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کے دو بڑے واقعات نے کپتان کو سوچنے پر مجبور کردیا ہوگا کہ  پرانے کرداروں کے ساتھ نیا پاکستان بنانا شاید مشکل  ترین کام ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *