محصولات اور معاشی انصاف

dr ikram ul haqٹیکس پالیسی کا ایک اہم کردار معاشی انصاف کا قیام ہے۔ معاشی انصاف سے مراد ٹیکس کے بوجھ کو طاقتور طبقوں پر منتقل کرنااور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو عوام پر خرچ کرتے ہوئے معاشرے میں ہمواری لانا ہے۔ یہ اُس سماجی انصاف کا وسیع تر پہلو ہے جو دولت کی منصفانہ تقسیم کرتے ہوئے نسبتاً غریب طبقات ، بے سہارا خواتین اور بے آسرا بچوں کی نگہداشت کرتا ہے۔ سماجی انصاف کا ایک کردار معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنا بھی ہے، تاہم معاشی ہمواری کے بغیر محض نظریات کے بل بوتے پر معاشرے کو استحکام نہیں دیا جا سکتا۔ٹیکس پالیسی دولت کی منصفانہ اور مطلوبہ خطوط پر تقسیم کا ایک جمہوری طریقہ ہے۔ اس پالیسی کے اہم اجزااس طرح ہیں: (1) آمدن، دولت اور جائیداد کی خریدو فروخت پر بتدریج براہ ِراست ٹیکس عائد کرنا۔ (2) ایسی اشیا پر ٹیکسز۔۔۔ کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز لیوی اور سیلز ٹیکس۔۔۔ جو عام طور پر معاشرے کے طاقتور اور زیادہ آمدنی والے طبقات خریدتے ہیں۔ (3)ایسی اشیا پر سبسڈی دینا جن کا نسبتاً کم آمدنی والے افراد کے لیے خریدنا ضروری ہوتا ہے۔
1977ء سے لے کر اب تک بنائی گئی اور مستعمل معاشی پالیسیوں کا ایک جائزہ یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان لچکدار ٹیکسیشن سے سخت اور غیر لچک دار ٹیکسیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ موخر الذکر ایک تباہ کن پالیسی ہے کیونکہ اس سے عام شہری کی زندگی میں مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ یہ پاکستان جیسے ملک، جہاں سماجی تفریق کی لکیر دولت، جغرافیائی خدوخال ، لسانیت اور نسلی اور قبائلی بنیادوں پر کھنچتی ہے، کے لیے بہت خطرناک ہے۔ٹیکس کے نظام کا بنیادی مقصد حکومت کے محصولات میں اضافہ کرتے ہوئے اسے اس قابل بنانا ہوتا ہے کہ وہ عوامی فلاح پر رقم خرچ کرسکے؛ چنانچہ ترقی کا لائحۂ عمل طے کرتے ہوئے یہ مقصد پیش ِ نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ عوام کا معاشی استیصال نہ ہونے پائے۔ اس ضمن میں یہ بات برملا کہی جاسکتی ہے کہ پاکستانی ٹیکس سسٹم اس مقصد کی بجاآوری میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔ اس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ ایک طرف تو گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مالیاتی خسارہ انتہائی اونچارہاجبکہ اس دوران ٹیکس کے مقرر کردہ اہداف، جو پوٹینشل کے مقابلے میں بہت کم رکھے گئے تھے، بھی حاصل نہ کیے جاسکے‘ دوسری طرف اس کی وجہ سے رونما ہونے والی معاشی ناہمواری نے سماجی ڈھانچے کو تباہ کردیا۔ چنانچہ ٹیکس کے نظام کا دوسرا اہم ترین مقصدسماجی مساوات کا قیام ہوتا ہے۔ بھاری انکم ٹیکس، سرمائے کی منتقلی پر ٹیکسز اور دولت ٹیکس کی بھاری شرح یقینی بناتے ہوئے یہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں یکساں اور ہموار ٹیکسز (Equitable Taxes) سے ناہموار ٹیکسز (Inequitable Taxes)کی طرف بتدریج شفٹ دیکھنے میں آئی۔ ان کے نتیجے میں لگنے والے بالواسطہ ٹیکسز نے سماجی انصاف کے تمام نظام کو تباہ کردیا ہے۔محصولات کے غیر لچکدار نظام کی وجہ سے ٹیکس کا بوجھ امیر آدمی سے ہٹ کر غریب آدمی پر منتقل ہوگیا ہے۔
ہمارے ہاں رائج محصولات کے موجودہ نظام کی قدر کو دیکھتے ہوئے اس میں تبدیلی مشکل دکھائی دیتی ہے کیونکہ بہت سی پالیسیاں اسی کی بنیاد پر وضع کی جاتی ہیں۔چار مئی 2015ء کو وسط مدتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے ٹیکس ریفارم کمیشن نے سابقہ رپورٹس کی طرح ان معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کی زحمت نہیں کی۔ ان سوالوں کا جواب دینے کی بجائے اس نے صرف کھوکھلے اور سطحی معروضات پر ہی بات کی، یا پھر اُس نے مزید سخت قوانین اور ایسے اقدامات کا ذکر کیا جس سے اگر کسی چیز میں اضافہ ممکن ہے تو وہ بدعنوانی ہی ہے۔ ٹیکس کمیشن یہ بات زیر ِ بحث لانے کے لیے تیار نہیں کہ ٹیکس پالیسی کا کیا کردار ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میںدولت کی مساوی تقسیم اور سماجی ہمواری کی منزل طے کی جاسکے۔ یقینا یہ ایک مشکل سوال ہے لیکن اس پر بات کی جانی چاہیے کیونکہ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کے بغیر یہ مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔
اس ضمن میں ایک بات یادر کھی جانی چاہیے کہ ٹیکس پالیسی کے بہت سے مقاصد باہم مربوط ہوکر بعض اوقات فعال دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے درمیان کشمکش کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ چونکہ کسی بھی ملک کا ٹیکس کا نظام وہاں مروج سیاسی اور معاشی اقدار کے ماتحت ہوتا ہے، اس لیے اگر سیاست دان محصولات پر سمجھوتہ کرتے ہیںیاجب ذاتی مفاد کا پہلو غالب ہوتا ہے تو ٹیکس پالیسی بناتے وقت قومی مفاد سے روگردانی دیکھنے میں آتی ہے۔ درحقیقت سیاسی ضروریات اور معاشی نظریات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلی کا در آنا لازمی امر ہے کیونکہ یہ دنوں ساکت و جامد نہیں رہ سکتے۔ رچرڈ برڈ کا کہنا ہے۔۔۔'' ٹیکس میں اصلاحات نہ ختم ہونے والا عمل ہے۔ یہ ایک قدم نہیں جو ایک مرتبہ جس سمت میں اٹھ گیا، قطعیت حاصل کرگیا۔ درحقیقت اس میں ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کی لچک موجود ہونی چاہیے۔‘‘
پاکستان میں یکے بعددیگرے مختلف حکومتوں نے بھاری بھرکم غیر لچکدار ٹیکسز اور ریگولیٹری پالیسیوںکے ذریعے لاکھوں افراد کو خط ِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔معاشی معاملات کی فہم رکھنے والے طبقے میں اس بات پر کم و بیش اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ٹیکس کی موجودہ پالیسی میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ ہمیں ایک ایسی پالیسی درکار ہے جو دولت مند طبقے کی جیب سے ٹیکس نکلوا سکے لیکن اس کا بوجھ وہ عوام تک منتقل نہ کرسکے۔ اس کے لیے عملی، مثبت، لچکدار اور بزنس فرینڈلی پالیسی اور ٹیکس وصول کرنے کا عزم درکار ہے۔ اس کے قوانین ایسے ہوں جو عام آدمی کو بھی سمجھ میں آجائیں تاکہ ٹیکس افسران اُس کی زندگی جہنم نہ بنادیں۔ ہر آدمی سمجھے کہ اُس نے ٹیکس ادا کرکے اپنی قومی ذمہ داری پوری کرنی ہے، لیکن کسی مربوط اور منظم پالیسی کی عدم موجودگی میںپاکستان کا موجودہ بالواسطہ ٹیکسز کا نظام کم آمدنی والے طبقوں پر بوجھ ڈالتا ہے۔
ٹیکس پالیسی کا مقصد دولت کی مساوی تقسیم ہونا چاہیے۔ حکومت کو ایسے پروگرام بنانے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے وہ بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ کرسکے۔ طاقتور طبقوںسے ٹیکس وصول کرکے عام آدمی کو کم قیمت پر رہائش، صحت ، تعلیم اور پینے کے صاف پانی کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ صرف اسی صورت میں ہم قیام ِ پاکستان کا مقصد پورا کرسکتے ہیں۔ اس کو بھی اتناہی اہم سمجھنا چاہیے جتنا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو۔ اُس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کا قلع قمع ہے اور اِس کا مقصد آئندہ دہشت گردی کا راستہ روکنا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *