دلوں کا بٹوارہ

" الطاف حسن قریشی "

16دسمبر قریب آن پہنچا ہے جس کے باعث ہماری تاریخ کی دھڑکنیں تیز ہو گئی ہیں۔ یہ بنگال ہی تھا جس کے زعما نے 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی جس کے پلیٹ فارم سے حکیم الاُمت علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے جداگانہ وطن کا تصور پیش کیا۔ قائد ِاعظم کی قیادت میں اِسی جماعت نے منٹو پارک کے عظیم الشان اجتماع میں قراردادِ لاہور منظور کی جو بنگال کے وزیرِاعظم مولوی فضل الحق نے پیش کی تھی۔ 1945-46ء کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ نے مرکز اور صوبوں میں 90فیصدسے زائد مسلم نشستیں جیت لیں۔ قائد ِاعظم نے منتخب نمائندوں کا کنونشن اپریل 1946ء میں دہلی میں طلب کیا جس میں بنگال کے وزیرِاعظم حسین شہید سہروردی نے ریاستوں کے بجائے صرف ریاست پاکستان کے قیام کی قرارداد منظور کی جس کی بنیاد پر برطانوی حکومت کو ہندوستان کی تقسیم کے منصوبے میں تشکیل ِپاکستان کا مطالبہ منظور کرنا پڑا۔ اب دکھ کی بات اور غور طلب امر یہ ہے کہ اس خطے میں صرف ربع صدی کے اندر پاکستان کے خلاف بغاوت کیوں ہوئی اور مسلم قومیت پر بنگلہ قومیت کیوں حاوی ہو گئی۔

بلاشبہ پاکستان کے دونوں بازوؤں کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا اور درمیان میں بھارت واقع تھا جو شروع ہی سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اِس کے علاوہ دونوں بازوؤں کے عوام کا مزاج بھی ایک دوسرے سے قدرے مختلف تھا اور زبان کا فرق بھی قومی یکجہتی میں حائل تھا، مگر دونوں بازوؤں کے شہریوں نے قیامِ پاکستان کے لیے مشترکہ جدوجہد کی تھی اور مشرقی بنگال کی اسمبلی نے مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے قائدین کو دستور ساز اسمبلی کے لیے منتخب کیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جو عامل بہت خطرناک ثابت ہوا، وہ مشرقی بنگال کی طرف مغربی پاکستان کی بیورو کریسی اور سیاست دانوں کا انتہائی اہانت آمیز اور تکلیف دہ رویہ تھا۔ عزیز احمد جو وہاں پہلے چیف سیکرٹری تعینات ہوئے، اُنہوں نے وہاں کے وزیروں، سرکاری اہل کاروں اور عوام کے ساتھ آقا اور غلام کا طرزِعمل اختیار کیا جس سے اِس تاثر کو تقویت ملتی رہی کہ مشرقی بنگال، مغربی پاکستان کی کالونی ہے۔ مغربی پاکستان میں رہنے والے بنگالیوں کا مذاق اُڑاتے اور اُن کی عزتِ نفس پر چوٹ لگاتے رہے کہ وہ تو چھوٹے قد کے نالائق باشندے ہیں اور تہذیب سے ناآشنا ہیں۔ چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے اُنہیں فوج میں بھرتی کیا جاتا نہ اُن کی رائے کو اہمیت دی جاتی۔ احساسِ کہتری میں مبتلا ہو جانے کے باعث مشرقی بنگال والے مغربی پاکستان کے لوگوں سے دل ہی دل میں نفرت کرنے لگے اور اُن کے مزاج میں احتجاج کا عنصر غالب آتا گیا۔ حکمران جن کا تعلق بالعموم دوسرے بازو سے ہوتا، اُن کی ضد، ہٹ دھرمی اور طاقت کے بےمحابا استعمال سے مشرقی بنگال کے عوام کے اندر سخت بیزاری اور لاتعلقی پیدا ہوتی گئی جس کے سبب معاشرتی ہم آہنگی فروغ نہ پا سکی۔

دوسرا اہم عنصر وہ استحصال تھا جو مغربی پاکستان کی بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ مشرقی بنگال کے بھائیوں کا کرتی آ رہی تھی۔ اُنہیں صوبائی خودمختاری سے محروم رکھا جا رہا تھا۔ مشرقی پاکستان کے عوام کو پہلا دھچکا اُس وقت لگا جب گورنر جنرل غلام محمد نے وزیرِاعظم خواجہ ناظم الدین کو اُن کے منصب سے برطرف کر دیا، حالانکہ اُنہیں ایسا کرنے کا آئینی اختیار نہیں تھا۔ اِس اقدام نے مشرقی بنگال کو احساس دلایا کہ سیاسی نظام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگلے سال وزیرِاعظم محمد علی بوگرا کی قیادت میں دستورساز اسمبلی نے آئین منظور کر لیا جسے قائد ِاعظم کی تاریخ ولادت کی نسبت سے 25دسمبر 1954ء کو نافذ کیا جانا تھا۔

اِس دستور میں مشرقی بنگال کو اس کی آبادی کے تناسب سے قومی اسمبلی میں نمائندگی دی گئی تھی اور ایک ایسا میکانزم وضع کیا گیا تھا کہ تمام اہم فیصلوں میں دونوں بازوؤں کے نمائندے شامل ہوں۔ مغربی پاکستان کے طاقت ور طبقات مشرقی بنگال کو اکثریت دینے پر آمادہ نہیں تھے، چنانچہ گورنر جنرل غلام محمد نے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ سے سازباز کر کے دستورساز اسمبلی توڑ ڈالی اور 1954ء کا منظورشدہ آئین ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ قابلِ ذکر امر یہ کہ جب دستورساز اسمبلی آئین منظور کر رہی تھی، تو اس وقت جنرل ایوب خاں لندن کے ایک ہوٹل میں نئے دستور کا خاکہ تیار کر رہے تھے اور اُنہی کے طےشدہ خدوخال کے مطابق 1956ء کا دستور منظور ہوا جس میں مساوات (پیریٹی) کا اصول اپنایا گیا۔ مشرقی بنگال کی نمائندگی کم کرنے پر دوسری دستورساز اسمبلی میں شیخ مجیب نے احتجاج کیا۔ اس دستور میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے نام سے دو صوبے قائم کیے گئے۔ اس پر مشرقی بنگال کے قائدین نے سخت مزاحمت کی کہ مشرقی بنگال کے بجائے مشرقی پاکستان کا نام دے کر بنگال کی شناخت ختم کی جا رہی ہے۔ دو سال بعد صدر اسکندر مرزا اور فیلڈ مارشل ایوب خاں نے اکتوبر 1958ء میں دستور تحلیل کر دیا، اِس طرح وہ بنیاد ہی منہدم ہو گئی جس پر اکٹھا رہنے کی آئینی عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ مشرقی پاکستان کے احساسات کا خیال کیے بغیر ایوب خاں نے 1962ء کا دستور نافذ کیا جو پارلیمانی کے بجائے صدارتی تھا اور اس میں صوبائی اسمبلیوں کے اختیارات سلب اور صوبائی خودمختاری کے تقاضے پامال کیے گئے تھے۔ مشرقی پاکستان کے عوام نے یہی محسوس کیا کہ آئندہ اقتدار میں اُن کا کوئی حصہ نہ ہو گا۔

رہی سہی کمی 1970ء کے انتخابات نے پوری کر دی۔ جنرل یحییٰ خاں نے ایک سال تک انتخابی مہم چلنے دی جس میں شیخ مجیب الرحمٰن نے بنگلہ قومیت کو اس قوت سے ہوا دی کہ مارشل لا انتظامیہ بالکل بےبس ہو گئی۔ اس نے مخالف سیاسی جماعتوں کو انتخابی جلسے کرنے دیے نہ اُنہیں پولنگ اسٹیشن تک آنے دیا اور اس طرح 162میں سے 160نشستیں جیت لیں۔ شیخ مجیب کو جب عوام کا جعلی مینڈیٹ مل گیا، تو مغربی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے سے گریز کرتی رہی اور جنرل یحییٰ خاں اپنے اقتدار کو طول دینے کی سازش میں مصروف رہے جس کے ردِعمل میں پورے مشرقی پاکستان میں بغاوت پھیل گئی جس نے خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی۔ ڈیڑھ سال خون بہتا اور دل کا بٹوارہ ہوتا رہا۔

اِس ہولناک انجام سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حکومتیں شہریوں کی عزتِ نفس کا پورا پورا خیال رکھیں، آئین اور قانون کے مطابق معاملات چلائیں اور جعلی مینڈیٹ کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں۔ اِس کے علاوہ صحت مند سیاسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ سیاسی طور پر بالغ نظر سیاسی جماعتیں ہی ملکی سالمیت کی ضمانت دے سکتی ہیں اور ووٹ کے احترام سے جمہوریت مستحکم ہوتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *