دل پہنچانے کے لیے امریکہ میں پرواز کی راستے سے واپسی

پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے سمیت دنیا میں ایسی بہت سی فضائی کمپنیاں ہیں جن سے سرزد ہونے والی غلطیاں خبروں کی زینت بنتی رہتی ہیں لیکن پرواز پر آنے والے ایک انسانی دل کو جہاز سے اتارنا ہی بھول جانا اور پھر اسے اتارنے کے لیے جہاز کو آدھے راستے سے واپس بلانے کے بارے میں شاید پہلے آپ نے نہ سنا ہو۔

امریکہ کی ساؤتھ ویسٹ ایئر لائنز کی سیاٹل سے ڈیلس جانے والے مسافر طیارے کو پرواز کے کئی گھنٹے بعد واپس بلایا گیا کیونکہ اس میں موجود انسانی دل کو عملہ اتارنا بھول گیا گیا تھا۔

ساؤتھ ویسٹ ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ دل کو مسافر طیارے کے ذریعے کیلیفورنیا سے سیاٹل لایا گیا تھا اور یہاں سے اسے مقامی ہسپتال پہنچایا جانا تھا۔

لیکن اس کو جہاز سے اتارا نہیں گیا اور جہاز اپنی دوسری منزل مقصود کے آدھے راستے تک پہنچ چکا تھا کہ غلطی کا احساس ہوا۔

اس واقعے کے بارے میں تفصیلات اتوار کو سامنے آئی تھیں اور جمعرات کو میڈیا نے اس کے بارے میں خبر دی۔

طیارے میں سوار مسافروں کا کہنا ہے کہ انھیں شدید حیرت ہوئی جب جہاز کے کپتان نے انھیں جہاز میں رہ جانے والے سامان کے بارے میں اور فلائٹ کے واپس موڑے جانے کے بارے میں آگاہ کیا۔

بعض لوگوں نے اپنے سمارٹ فونز کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انسانی دل کتنی دیر تک ٹراسپلانٹ آپریشن کے لیے قابل استعمال رہتا ہے اور ماہرین کے مطابق ایسا چار سے چھ گھنٹے کے اندر ممکن ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جہاز تقریباً تین گھنٹے تک پرواز کرتا رہا تھا۔ جہاز کے مسافروں میں شامل ایک ڈاکٹر نے سیئٹل ٹائمز کو بتایا کہ یہ ’ سنگین غلطی کا ایک بدترین واقعہ ہے۔‘

اخبار کے مطابق دل کو مقررہ مدت کے اندر اندر ہی ڈونر ہیلتھ سینٹر پہنچا دیا گیا تھا۔انسانی دل کسی مخصوص مریض کے لیے نہیں تھا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *