گورنمنٹ کالج لاہور کی دیوار سے گورنر ہائوس تک

ہر انسان اپنی دوزخ اور جنت ساتھ لے کرپیدا ہوتا ہے۔ زندگی گزارنے کے لئے پوری عمر کی ضرورت کبھی بھی نہیں ہوتی۔ایک لمحہ میں پوری زندگی جینا اور کئی دہائیوں زندہ رہ کر بھی زندگی سے آشنا نہ ہونا مقدر کی بات ہے۔ غالب نے اپنی روح سے پوچھا تھا۔

دلی کیا ہے؟

جواب ملا تھا۔

’’دنیا جسم ہے اور دلی اس کی زندگی ‘‘

میری زندگی اپنے گائوں رتوّ والی اور شہر منڈی بہائو الدین سے ہجرت کے بعد لاہور ہے ، اب تقریباً 5دہائیوں سے یہاں میری روح زندہ اور جسم سانسیں لیتا ہے جس میں گرد بھی اڑتی ہے اور غبار بھی۔وہ لوگ واقعی خوش قسمت ہیں جو حاصل پر شکر اور لاحاصل پر انا للہ کہہ کر راضی بہ رضا رہتے ہیں۔ غریب الدیار کا حال میر تقی میرکا سا ہے ، جو کہتا ہے ’’اہل لکھنو میری زبان نہیںسمجھتے اور مجھے ان کی سمجھ نہیں آتی۔ ان کی اجنبی سر زمین میں، میں انہیں اپنی داستان کیسے سنا سکتا ہوں۔ میں ایک ایسی زبان بولتا ہوں، جس کی تفہیم کا وہ شعور نہیں رکھتے۔ وہ نہیں جانتے کہ میر کے ایک ایک لفظ میں ہزاروں معانی پوشیدہ ہیں‘‘۔

شہرو ں کے شہر دلی کی المناک کہانی اپنی جگہ لیکن میں تو اس لاہور کا خانماں برباد ہوں جس کی کھولی میں ، میں نے تقریباً پانچ دہائیوں سے زائد اپنی بھرپور زندگی گزاری، صبح، دوپہر، شام دوستوں سے ملاقاتیں ، محبت کی راگنیاں ، شعر و شاعری کی محفلیں، ادبی بیٹھک، گنگناتے دن اور جاگتی راتیں، خالی جیب آوارہ گردیاں،وہ کوچہ و بازار جو میرے قدموں کی چاپ پہچانتے اور جن کا میں اسیر تھا۔

باغوں اور پھولوں کے اس شہر لاہور کے بے مثال لارنس گارڈن میں سرما کی سہ پہر یں ، اس کے گھنے اور سایہ دار درختوں کے نیچے بیٹھ کر دھوپ تاپنا، اس کی نرم گرم گھاس کے روح پر ورلمس کو محسوس کرنا، اس دسمبر میں مجھے نصیب نہیں۔ ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی، قدموں کی رفتار سست، اور زیادہ لکھنے اور پڑھنے کا یارا بھی نہیں رہا۔کیا کوئی جائے اماں ملے گی یا پھر میری ذات بے ثبات کو بھی اس پانی کی طرح بہنا ہو گا جو دنیا کے باغوں میں بہتا ہے۔

جانے لوگ موت کے بارے میں اتنی ڈرائونی کہانیاں کیوں سناتے ہیں جبکہ ایک کارواں ہے جو اس راستے پر چلا جاتا ہے میں نے اپنی زندگی میں متعدد محبتیں کیں۔ جن میں ایک اسٹڈی، دوسری کتاب اورتیسری لاہور سے محبتیں بھی شامل ہیں۔ پروردگار ہی جانتا ہے کہ میں صابر ہوں یا شاکر؟

پاکستان سمیت میرے جان عزیز شہر لاہور پر نیا پاکستان بنانے والوں کے انقلابی قائد ، انقلابی تحریک اور انقلابی کارکنوں کی یلغار ہے جو تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہر عمارت اور ہر چوراہے کو تجاوزات کی زد میں لاکر مسمار کرنے کے درپے ہیں۔

ایوان صدر،ایوان وزیر اعظم، ایوان ہائے وزارئے اعلیٰ، اور گورنر ہائوسز کو غلامی کی یادگاریں قرار دے کر انہیں ڈھانے پر بضد ہیں جس کا آغاز لاہور کے گورنر ہائوس کی دیوار گرانے کا حکم دے کر کیا گیا۔ کوئی انہیں بتانے والا نہیں کہ وطن عزیز کا عدالتی نظام، لوکل گورنمنٹ، ایگری کلچر، پاکستان کے ریلوے اسٹیشنز اور ریلوے لائنیں ، بیورو کریسی کا مسکن دفتر لاٹ صاحب ، حتیٰ کہ کرکٹ کا کھیل اور آکسفورڈ کا نظام تعلیم سب کے سب غلامی ہی کی تو یادگاریں ہیں۔ محض عمارتیں بدلنے سے غلامانہ ذہنیت نہیں بدلتی۔ نعرے لگانے سے انقلاب نہیں آیا کرتے۔ قائدین حالات اور ماحول کے بہائو میں نہیں بہتے بلکہ حالات اور ماحول کی آبیاری اپنی فکر تازہ سے کرتے ہیں۔ تبدیلی کا میک اپ کر کے اقتدار تو حاصل کیا جا سکتا ہے مگر عوامی حقوق کے حصول کے لئے بسا اوقات جیلیں بھی کاٹنا پڑتی ہیں۔ اور پھانسی کے پھندوں پر جھولنا پڑتا ہے۔

بے جان ہوتا جسم، بے چین تھکی روح، مائوف ہوتا دماغ اور نیند سے بوجھل ہوتی بے خواب آنکھیں شہر لاہور پر اترتی صبح کاذب سے پوچھتی ہیں قانع کیسے ہوا جائے؟

کچھ دیر اذیت ناک لمحوں کے بعد اونچے میناروں سے جواب گونجتا ہے۔

’’اپنی خواہشوں کو آخری حد تک سمیٹ لو۔ اپنے نفس کو تسخیر کرو۔‘‘

پاکستان میں گھروں سے لے کر ریاست کے اہلکاروں اور حکمرانوں سے کہیں روایت کے نام پر، کہیں قانون کے نام پر ، کہیں تجاوزات کے نام پر، کہیں منی لانڈرنگ کے نام پر، کہیں نیب کے نام پر، کہیں تبدیلی کے نام پر من مرضی کا ایک ایسا بازار گرم کر دیا گیاہے جس کی نہ نشاندہی کی جا سکتی ہے نہ اس کے اندر برپا کی جانے والی برباد یوں اور بے عزتیوں کا کوئی جسمانی ثبوت دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی ان دیکھی دنیا ہے جس کے اتے پتے سے صرف حکمران آشنا ہیں ، چاہے وہ گھروں میں بیٹھے با اختیار مردہوں،ریاستی اہلکار ہوں یا حکمران ہوں۔

دنیاوی خودسری اور اقتدار کے عارضی خمار کا شعور نہ علاقے کی بنا پر اس شہر میں حسن تعمیر کے خلاف سب سے بدترین اقدام کا آغاز نواز شریف صاحب نے کیا تھا جب انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کی سرخ اینٹوں سے چنی ہوئی چار دیواری کے نظروں میں بھاتے حسین وجود کو اپنی کم نگاہ ضرب سے ، اس کی ایک پسلی کاٹ کر،وہاں لوہے کا جنگلا لگا دیا، ملک کی عظیم خدمات کے ساتھ ساتھ انہوں نے شعبہ زندگی میں تہذیب و قانون کی معاشرتی سطح پر قریب قریب مل کر تدفین کردی جس میں سے غالباً ان کا یہ پہلا پستترین اور بدصورت کارنامہ تھا۔ نواز شریف کے حوالے سے اس پیراگراف کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کے ساتھ جو زیادتیاں ہورہی ہیں ان کا جواز فراہم کیا جائے۔

گورنر ہائوس لاہور کی دیوار گرانے کے واقعہ پر یہ رستا زخم اپنی توانائی کے ساتھ تازہ ہوا کہ ریاض احمد سید (غالباً سابق سفارتکار ہیں) اس کا المناک تذکرہ کئے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے لکھا، ’’بعینہٖ ایک ایسی غلطی ہم چند برس پہلے بھی کر چکے ، لاہور کے ماتھے کا جھومر گورنمنٹ کالج کی دیوار گرا کر لوہے کی گرل نصب کی گئی تھی۔ آج تک ایک غلطی اور بدنما تبدیلی کے طور پر جانی اور پہچانی جاتی ہے،کہاں گورنمنٹ کالج کی ہمزاداور پرشکوہ دس فٹ بلند آرٹ کا نمونہ ڈیڑھ صدی پرانی دیوار اور کہاں بدنما اور رنگ برنگی گرل‘‘ ، چنانچہ گورنر ہائوس کی دیوار کے تناظر میں انہوں نے کہا ہے ’’گرل پر ہتھوڑے کی ضرب صاحبان فکر و دانش نے اپنے دل پر محسوس کی‘‘!

یادگاروں اور دور غلامی کی نشانیاں مٹانے کے پس منظر میں ہزاروں دلائل تحریک انصاف کی حکومت کو دئیے جا سکتے ہیں ، اس کا مگر فائدہ کوئی نہیں، وزیر اعظم کا تو بہرحال کوئی منہ ماتھا ہے تاہم جوگر وہ ارد گرد ہے اس کے دائرے میں تو ہر لمحے ظرف کا پیمانہ چھلکنے کے مناظر دیکھے اور محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ شکر ہے، لاہورہائی کورٹ نے گورنر ہائوس کی دیوار گرانے کے مسئلے پر حکم امتناعی جاری کر دیا،اب ہمارے قومی مقدر میں کیا لکھا ہے، اس کا انتظار کرتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *