ایک دن اپنے پاگل پن کے ساتھ!

میرے ایک دوست کو ٹی وی چینلز دیکھنے اور اخبارات پڑھنے کا بہت چسکا تھا جس کے نتیجے میں وہ پاگل ہو گیا ہے اور اس کے ذہن میں عجیب طر ح کے خوف اور واہمے جمع ہو گئے ہیں، ایک دن وہ میرے پاس آیا تو بہت گھبرایا ہوا تھا۔ کہنے لگا’’مجھے کچھ ہو گیا ہے‘‘ میں نے کہا ’’کیا مطلب‘‘ بولا کوئی ایک مسئلہ ہو تو بتائوں۔ میں جب اپنے گھر کی گھنٹی بجاتا ہوں اور اگر اندر سے چند منٹ تک جواب نہ ملے تو میرا ذہن وہ تمام کہانیاں تیار کرنے لگتا ہے جو روزانہ شہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ میں تصوراتی طور پر دیوار پھاند کر گھر میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے ٹی وی لائونج میں اپنے بچے خون میں لت پت نظر آتے ہیں۔ ان کی گردنیں تن سے اسی طرح جدا ہوتی ہیں جیسے اخباروں میں چھپی ہوئی تصویروں میں دکھایا گیا ہوتا ہے۔ میں چیختا ہوا گھر سے باہر نکل جاتا ہوں۔اہل محلہ مجھے دلاسہ دیتے ہیں، پھر اگلے روز کے اخبارات کی سرخیاں مجھے یاد آتی ہیں،جب سات جنازے اکٹھے اٹھے تو کہرام مچ گیا۔ برابر برابر پڑی ہوئی سات لاشوں کی تصویر بھی چھ کالم میں چھپی ہوتی ہے ۔ بین کرتی ہوئی عورتوں میں کسی خوش شکل خاتون کو خصوصاً آہ و زاری کرتے دکھایا جاتا ہے۔

دو منٹ دروازہ نہ کھلنے پر تمہارا یہ حال ہو جاتا ہے، تم پاگل تو نہیں ہو گئے ؟

میں تمہیں اپنے پاگل پن کا حال ہی تو بتا رہا ہوں۔ میری بیٹی ایک دن کالج سے شام تک گھر واپس نہ پہنچی تو میں نے محسوس کیا جیسے اس کی لاش اگلے روز سڑک پر سے پڑی ملی ہے ، اس کی جیب سے جو شناختی کارڈ برآمد ہوا تھا،اس میں لگی تصویرٹی وی اسکرین پر دکھائی گئی تھی رپورٹر کی تفصیلی کہانی بھی تھی جس کے مطابق اسے چند روز پیشتر ایک نامی گرامی سمگلر کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔میر ی بیٹی کی خالہ کے متعلق اس شبہے کا اظہار کیا گیا کہ وہ بدکردار خاتون ہے اور میری بیٹی کی اس ا سمگلر سے ملاقات اس خالہ کی وساطت سے ہوئی تھی۔

یار تمہاری دماغی حالت تو واقعی قابل رحم ہے۔

میں تم سے رحم کی بھیک مانگنے نہیں آیا، میں نے مظلوموں کی کہانیاں اتنی وافر تعداد میں پڑھی ہیں کہ ہر وقت مریضوں میں رہنے والے ڈاکٹروں کی طرح میں بھی بے حس ہو گیا ہوں چنانچہ نہ اب مجھے خود پر رحم آتا ہے اور نہ کسی دوسرے پر۔ جب ظلم کی داستانیں بے نتیجہ شائع ہوں تو پڑھنے والے سنگدل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا تم اپنی رحم دلی اپنے پاس رکھو۔

تم مجھے غلط سمجھتے ہو، میں تو ........

چلو چھوڑو اس بات کو کہ کون غلط ہے کون صحیح ہے ، سچ اور جھوٹ سب گڈ مڈ ہو کر رہ گئے ہیں ، میں تمہیں بتا رہا تھا کہ جب پولیس کی موبائل گاڑی دیکھتا ہوں تو خوف سے میرا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے، مجھے لگتا ہے ابھی پانچ چھ لوگ گاڑی سے اتریں گے اور مجھے رائفل کے بٹ مارتے ہوئے وین میں بٹھا کر لے جائیں گے اور اگلے روزمسنگ پرسنز میں میرا نام بھی ہو گا۔

مجھے تمہاری بات کی سمجھ نہیں آئی، جب تم نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا تو پھر تمہیں یہ خوف کیوں ہے۔

تم عجب آدمی ہو، کیا تم آئے دن اس طرح کی خبریں نہیں سنتے کہ فلاںملزم کی گرفتاری کے بعد اس کی جیب سے ٹیلی فون ڈائری برآمد ہوئی۔ جس میں درج ناموں کو شامل تفتیش کر لیا گیا ہے ، عنقریب ہولناک انکشاف ہوں گے۔

مجھے واقعی تمہارے بارے میں تشویش شروع ہو گئی ہے۔

تم اپنی تشویش اپنے پاس رہنے دو، فی الحال صرف میری بات سنو ۔یہ وہم مجھےروزبروز ہلکان کئے جا رہا ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ کسی دن سوتے میں مجھے ہارٹ اٹیک ہو گا اور میں اپنے بستر پر مردہ پایا جائوں گا۔ اس خیال کے ذہن میں آتے ہی ایک پوری فلم میرے دماغ میں چلنے لگتی ہے۔ صبح یہ خبر پڑھنے اور دیکھنے کو ملے گی کہ فلاںابن فلاں اپنے بستر پر پراسرار طور پر مردہ پایا گیا۔اس کیساتھ تصویر جس میں میری گردن ایک طرف کو ڈھلکی ہوگی۔ اگلے روز کرائم رپورٹر کی اسٹوری ہو گی کہ محلے داروں سے پتہ چلا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ایک عرصے سے چپقلش چلی آ رہی تھی۔ انہیں کئی دفعہ اونچی آواز میں جھگڑتے بھی سنا گیا۔شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مرحوم کو زہر دیا گیا،پھر پولیس والے میرے گھر میں آئیںگے۔ اور میرے خاندان کو بلیک میل کریں گے۔

بس کرو خدا کے لئے بس کرو، تمہاری بیماری خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، اب تمہارا علاج ضروری ہے،چلو میں تمہیں کسی ماہر نفسیات کے پاس لے چلوں۔

صرف مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جانے سے بات نہیں بنے گی، تم سروے کرا کر دیکھ لو، میری طرح لاکھوں لوگ اس نوع کی ذہنی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔

لیکن مجھے تو تم سے دلچسپی ہے، اٹھو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں

تمہیں صرف مجھ سے نہیں بلکہ پوری قوم سے دلچسپی ہونی چاہئے، اگر قوم اسی طرح ذہنی طور پر مفلوج ہوتی گئی تو قائد اعظم اور اقبال کا پاکستان دشمنوں کے لئے تر نوالہ بن جائے گا۔ تمہیں مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت نہیں میں تمہیں بعض میڈیا چینلز کے مالکان کے ایڈریس دیتا ہوں، ہو سکے تو انہیں کسی ماہر نفسیات کے پاس لے جائو۔

اب آخر میں افتخار عارف کی ایک بہت خوبصورت غزل:

سرِ بام ہجر دیا بُجھا تو خبر ہوئی

سرِ شام کوئی جدا ہوا تو خبر ہوئی

مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا

مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی

مرے سارے حرف تمام حرفِ عذاب تھے

مرے کم سُخن نے سُخن کیا تو خبر ہوئی

کوئی بات بن کے بگڑ گئی تو پتا چلا

مرے بےوفا نے کرم کیا تو خبر ہوئی

مرے ہمسفر کے سفر کی سمت ہی اور تھی

کہیں راستہ کوئی گُم ہوا تو خبر ہوئی

مرے قصہ گو نے کہاں کہاں سے بڑھائی بات

مجھے داستاں کا سرا ملا تو خبر ہوئی

نہ لہو کا موسمِ رنگ ریز، نہ دل، نہ میں!

کوئی خواب تھا کہ بکھر گیا تو خبر ہوئی

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *