کراچی: ایم کیو ایم کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ندیم ہاشمی گرفتار

201211194562_samaa_tvپاکستان کے تجارتی حب کراچی میں پولیس نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک کارروائی کے دوران سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن سندھ اسمبلی ندیم ہاشمی کو حراست میں لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے ندیم ہاشمی کو نارتھ ناظم  آباد میں دو پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا جس کے بعد ان کو پیر آباد تھانے منتقل کردیا گیا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے ندیم ہاشمی کی گرفتار کی مذمت کی گئی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے سندھ اسمبلی کے سابق رکن ندیم ہاشمی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت قوم کو جواب دے کہ گرفتاری کس قانون کے تحت کی گئی ہے۔

ایم کیو ایم لندن آفس سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں الطاف حسین کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کو ہمیشہ صبر کرنے کا درس دیا ہے اور آج بھی صبر کی تلقین کرتا ہوں۔

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں الطاف حسین نے کہا کہ تاہم ‘میں آج سے عوام، کارکنان اورپارٹی کودرپیش مسائل کے حل کی تدبیر کرنے کا اختیار رابطہ کمیٹی کے اراکین اور تنظیمی شعبہ جات کے ذمے داران کے ہاتھ میں دیتا ہوں۔ آج سے یہ لوگ تمام تر تنظیمی فیصلے کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ اپنے تمام تر فیصلے مکمل ایمانداری کے ساتھ تنظیمی نظم وضبط کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں گے’۔

کراچی میں کارکنوں کی گرفتاری پر لائحہ عمل کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس کراچی اور لندن میں جاری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ کراچی میں قانون اپنا کام کرے گا اور بے گناہوں کو پکڑا نہیں جائے گا لیکن کسی نے قانون کا راستہ روکا تو اچھا نہیں ہو گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ کراچی کو دوبارہ کراچی بنانے کے لیے رائے عامہ کو ہموار کیا گیا اور تمام جماعتوں سے مشاورت کی گئی۔

پرویز رشید نے کہا کہ ٹارگیٹڈ آپریشن میں کسی بے گناہ کو نہیں پکڑا جائے گا، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ خود آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ قانون اپنا کام کرے گا لیکن اگر کسی نے مداخلت کی تو اسے بھگتنا پڑے گا۔

اس سے قبل ندیم ہاشمی کی گرفتاری کے بعد سندھ اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن متحدہ قومی موومنٹ کے متعدد اراکین سندھ اسمبلی اور کارکنان کے ساتھ پیرآباد تھانے پہنچ گئے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ متحدہ کو کراچی میں فوج بلانے کی سزا دی جارہی ہے اور جرائم پیشہ افراد کے بجائے متحدہ کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ٹارگیٹڈ آپریشن کے خلاف نہیں لیکن بے گناہ کارکنوں کی جھوٹی ایف آئی آر کے تحت گرفتاریاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔

خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ کارکنان کی گرفتاری نے آپریشن کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور چیف جسٹس، وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *