تیزی سے بخارات میں تبدیل ہونے والا سیارہ دریافت

سوئزرلینڈ: ہماری کائنات عجائبات سے بھری ہوئی ہے اور اب ماہرین نے ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جو تیزی سے بخارات میں بدل رہا ہے۔ یہ سیارہ ہماری نظامِ شمسی سے باہر دریافت ہوا ہے۔

ان نایاب ترین سیاروں کو فلکیات کی اصطلاح میں ’گرم نیپچون‘ کہا جاتا ہے۔ اب تک ہم کائنات کے مختلف گوشوں میں 3,869 ایسے سیارے دریافت کرچکے ہیں جنہیں ’ایگزوپلانیٹ‘ کہا جاتا ہے اور ان میں سے صرف چند ہی ایسے ہیں جو گرم نیپچون کی فہرست میں شامل ہیں۔

ماہرین نے گلائیس 3470 بی نام کا ایک سیارہ دریافت کیا ہے جس کی فضا تیزی سے بھاپ بن کر اڑ رہی ہے اور اب تک کی ہماری معلومات کے مطابق یہ سب سے تیزی سے فضا کھونے والا ستارہ ہے۔ اس سیاروں کو دیکھ کر ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ بہت جلد اپنی فضا کھوکر ہوا سے پاک سیارہ بن جائے گا اور یوں اسے چھوٹا نیپچون کا خطاب ملے گا۔ ناسا کے کیپلر مشن نے جو سیارے دریافت کئے ہیں ان میں سب سے ذیادہ چھوٹے نیپچون ہی ہیں۔

یہ سیارہ یونیورسٹی آف جنیوا کے ونسنٹ بوریئر اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا ہے۔ فلکیاتی اصطلاح میں گرم نیپچون ایسے سیارے کو کہتے ہیں جو کم و بیش ہمارے نظامِ شمسی میں موجود سیاروں یورینس یا نیبچون کی جسامت جیسا ہوتا ہے اور سورج سے بہت قریب ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ بہت گرم ہوتے ہیں اور ان کا درجہ حرارت 927 درجے سینٹی گریڈ تک جاپہنچتا ہے۔

اگرچہ اسی طرح کے نیپچون زدہ سیارے سورج سے قدرے دور ہوتے ہیں اور ان کی فضا برقرار رہتی ہے جبکہ گرم نیپچون بہت نایاب ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انہوں نے گلائس 3470 بی سے زیادہ تیزی سے کمیت کھونے والا سیارہ نہیں دیکھا ۔ اگلے چند ارب برس میں یہ پورا سیارہ غائب ہوجائے گا۔

یہ سیارہ ایک ایسے سرخ بونے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے جو صرف دو ارب سال پرانا ہے لیکن اپنی گرمی کی شدت سے یہ اطراف کے سیاروں کو بھاپ بنا کر اڑارہا ہے۔ اسے دریافت کرنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ 2021 میں خلا میں بھیجی جانے والی جدید ترین جیمز ویب خلائی ٹیلی اسکوپ سے سیارے جو مزید سمجھنے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ اس پر سیاروں کی فضا کو پرکھنے والے انتہائی حساس آلات بھی نصب ہوں گے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *