کیمیکل کے استعمال کی وجہ سے بد ترین کمپنی قرار

" ٹفنی کیری، دینا شنکر "

ہول فوڈز کمپنی پیکچ کیمیکل کے استعمال کی وجہ سے بد ترین کمپنی قرار پائی

ہول فوڈز مارکیٹ  جسے صحت مند کھانے کے معیار کی وجہ سے قابل تعریف سمجھا جاتا تھا  ، تازہ ترین امریکی گروسری چین کی تحقیقات میں سب سے بری کمپنی قرار دی گئی ہے۔ جواب میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے پیکیجنگ میں استعمال ہونے والے  پیپر پراڈکٹ ختم کر دیے ہیں  اور بائیو گریڈ ایبل پیکجنگ کے نئے طریقوں پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

سیفر کیمیکلز ،  ہیلدی فیملیز اینڈ ٹاکسک فری فیوچر نامی ادارے کی طرف سے جاری اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ امیزان ڈاٹ کام انک کے گروسر نے فوڈ کنٹیکٹ پیپر کے معاملے میں سب سے زیادہ قانون کی خلاف ورزی کی ہے  کیونکہ پیپر کے اندر  ایک خاص کیمیکل استعمال کیا گیا  جن سے کینسر کی بیماری کے بھی چانسز پیدا ہو جاتے ہیں۔ 17 آئٹمز میں سے 5 میں فلورین نامی کیمیکل استعمال کیا گیا تھا۔ ان میں سے چار کنٹینر  سلاد اور گرم کھانا رکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اپنے ای میل میں دئیے گئے بیان میں کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا: ہول فوڈز مارکیٹ  نے کمپوسٹیبل کنٹینر  متعارف کروائے تھے  تا کہ ماحولیاتی اثرات پر قابو پایا جا سکے  لیکن پی ایف اے ایس کی موجودگی کے خدشات  کی وجہ سے  ہم نے تمام کھانے اور بیکری فوڈز  جن کا ذکر رپورٹ میں تھا ہم نے تلف کر دیے ہیں ۔ ہم اپنے سپلائیرز کے ساتھ مل کر نئی پکیجنگ آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

جانچ پڑتا ل میں بہتری

اس ڈویلپمنٹ سے  پتا چلتا ہے کہ پی ایف اے ایس نامی کیمیکل  صارفین کی بہت توجہ حاصل کر چکا ہے۔ یہ مواد  اماحولیاتی پروٹیکشن ایجنسی کی نئی جانچ پڑتال کا بنیادی ٹارگٹ بن چکا ہے ۔

پالیسی مین تبدیلی سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے Whole Foods جیسی کمپنیاں جو قدرتی اور صحت کی ضامن کھانے کی   اشیاء فروخت کرنے کا دعوی  کرتی ہیں ابھی تک مکمل طور پر اس سلسلے کی ہر کڑی میں اس دعوے کو پورا کرنے مین نا کام ہیں۔تحقیق کےمطابق فلورین کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ  آئٹمز کے ساتھ پی ایف اے ایس  کی ایک قسم سے تیار کیے گئے تھے ۔ اس کیمیکل سے جڑے مسائل کئی طرح کے ہیں۔ اس کے اثرات کنٹینر میں موجود کھانے میں شامل ہوسکتے ہیں  اور انسانی جسم میں کافی عرصہ تک رہ سکتے ہیں۔

کچھ قسمیں ایسی بھی ہیں جو انسانی جسم کے اندر کیسنر کے خلاف نظام دفاع کو متاثر کر سکتے ہیں ۔ ابھی نئی ورائٹی کو ٹیسٹ کرنا باقی ہے لیکن جن کی تحقیق ہو چکی ہے ان میں مسائل موجود ہیں ۔ چونکہ یہ کبھی ڈی گریڈ نہیں کرتے اس لیے لینڈ فلڈ اور کومپوسٹ   والی پیکجنگ مٹی اور پانی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہول فوڈز کے کنٹینر کو بایو پلس ٹیرا 2 کا نام دیا گیا  ۔ رپوٹ میں بتایا گیا کہ  فولڈ پیک  نامی کمپنی جہاں یہ چیز تیار کی جاتی ہیں  وہ کیسکیڈز سونوکو انک  کی طرف سے فراہم کردہ پراڈکٹ استعمال کرتی تھی۔ تب سے اس کمپنی نے پی ایف اے ایس  کا پراڈکٹ سے خاتمہ کر دیا ہے۔ فولڈ پیک اور سونوکو نامی کمپنیاں  اس معاملے میں تبصرے کے لیے  تیار نہیں تھیں۔

البرٹسنز، کروگر

 دوسرے  گروسز جن میں ایلبرٹ سنز، کروگر، اور آ ہولڈ ڈیلہیزی این وی ، کے ہاں ایسے بہت کم ایسی اشیا ملیں جن میں اس طرح کے خوفناک کیمیکلز موجود ہوں۔ چند اشیا کی پیکیجنگ میں  کچھ مقدار میں کیمیکلز پائے گئے ۔ زیادہ تر کیمیکلز  ڈیلی اور بیکری پیکنگ میں موجود تھے۔ ٹریڈر جیو واحد ایسی کمپنی تھی جس کے پاس کوئی بھی ایسی اشیاء نہیں تھیں۔

کمپنی کے ایک ترجمان نے بتایا: ٹریڈر جو نے اپنے وینڈرز کو پی ایف اے ایس جیسے کیمیکلز کے استعمال سے منع کر رکھا ہے ۔ اور یہاں فوڈ بار اور ڈیلیز بھی دستیاب نہیں ہوتے اس لیے ان سٹورز میں ٹیک آوٹ فوڈ کنٹینر موجود ہی نہیں ہوتے۔

PFAS ذیادہ تر واٹر پروف اور سٹئین پروف کپڑا، الیکٹرونکس، اور تفلن بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے کھانے میں موجود ذائید تیل جزب کرنے میں مدد ملتی ہے۔

  بہت ساری PFAS کی اقسام امریکہ کے پینے کے پانی میں ملیں اور ریاست  اور دوسرے اداروں نے  عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوے دعوی کیا ہے کہ  انڈسٹیریل سائٹس کی وجہ سے علاقےمیں آلودگی بھی پیدا ہو رہی ہے۔

"یہ سیدھے راستے کی طرف ایک قدم ہے"، سیفر کیمیکلز کی جانب سے  ہال فوڈز کا حوالہ دیتے ہوئے مائیک سکیڈ نے کہا ۔ تحقیق کھانے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کو اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ وہ کھانے محفوظ کرنے کےلیے بہتر پیکجنگ کے طریقے استعمال کریں۔ اسی تحقیق کے مطابق یہ بھی پتہ چلا کہ 2017 میں فاسٹ فوڈ بنانے والے بھی اسی کیمیکل کا استعمال کر رہے تھے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *