محمد حفیظ کا کیریئر پیسہ رہا؟

" شان آغا "

نیوزی  لینڈ کے خلاف آخری میچ کی پہلی اننگز میں جب محمد حفیظ نے غصیلے بولٹ کی گیند کو کنارہ لگایا اور گیند سیدھی فیلڈر کے ہاتھ میں گئی تو  ابو ظہبی میں کچھ مر سا گیا۔

حفیظ نے گینڈ کو ہوا میں اڑتے ہوئے ٹم ساؤدی  کے محفوظ ہاتھوں میں جاتے دیکھا۔ لیکن ایمپائروں  نے پھر بھی تھرڈ ایمپائر سے مدد حاصل کرنا چاہا۔  یہ  بے معنی چیز تھی لیکن اس لمحے نے ایک سوچ میں کھوئے شخص کو مزید سوچنے اور اپنے ماضی  نہیں بلکہ مستقبل پر نظر ثانی کا موقع دیا۔ حفیظ کے لئے پاکستان کرکٹ میں آسانیاں نہیں تھیں یا کم از کم ان کا تو یہی دعوی ہے۔  کم بیک کرنے والے ہیزوز کی سر زمیں میں حفیظ بھی ایک  شمشیر زن ہیں۔ 2003 کی اپنی پہلی سیریز میں ان کی بیٹنگ اوسط 43 رنز تھی  اور دوسرے ہی میچ میں  انہوں نے ناقابل شکست سینچری سکور کی تھی ۔ اگلے تین سالوں کے لیے انہیں ڈراپ کر دیا گیا۔

2006 کی English summer میں 95 سکور بنا کر پہلی باری میں ہی  انہوں نے خود کو منوایا۔ اور اگلی آٹھ اننگز میں 47کی  اوسط سے سکور بنائے ۔ اور پھر وہ ساوتھ افریقہ کے خظرناک جنگل میں پہنچ گئے۔

ساوتھ افریقہ پاکستان کے لئے ایسا ہی ہے جیسے انڈیا رکی پونٹینگ کے لئے جو بلے بازی میں  26 کی اوسط پر محدود ہیں اور جو پاکستان ڈینس لیلی کے لئے ہے جنکی پاکستان کے خلاف بولنگ اوسط 110 ہے۔یعنی ایک قبرستان

ساؤتھ افریقہ میں پاکستان آج تک صرف دو ٹیسٹ میچ ہی جیتا ہے۔یہ ایسی جگہ ہے جہاں انضمام الحق ، محمد یوسف، مصباح الحق اور اظہر علی   اوسط37 اننگز کھیل کر بھی سینچری نہ بنا سکے۔ ان پلئیرز کی مشترکہ اوسط بھی صرف27 رنز فی اننگز تک محدود ہے۔ ساؤتھ افریقہ کی رفتار اور باونس حفیظ کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس وجہ سے وہ ٹیسٹ سکواڈ سے اگلے تین سال کے لئے 2007 سے 2010 تک ناک آؤٹ ہو گئے تھے۔

یہ انضما م الحق کے ریٹائیر ہونے کے بعد ٹیم کے برے سال تھے۔ اس وقت کی بات ہے جب یوسف ، یونس خان شعیب ملک، شاہد آفریدی اور سلمان بٹ نے ٹیسٹ کیپٹن بننے کے لئے میوزیکل چئیر  کھیلی، جب سری لنکن ٹیم  پر لاہورمیں  حملہ ہوا ورجب پاکستانی کھلاڑیوں کو غیر ملک میں جیل جانا پڑا، جب  پاکستان نے سڈنی ٹیسٹ میچ میں شکست کھائی ؛ اورجب  اعجاز  بٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیر مین تھے۔ایک وقت میں اتنے مسائل بہت کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاص کر پاکستانی کرکٹ میں تو بلکل نہیں۔  لیکن 2010 میں مصباح کمانڈر ان چیف کے طور پر ابھرے اور ان کے اچھے دوست حفیظ ایک بار پھر کھیل کے میدان میں اترے۔ وہ ایک دوسرے کو سرگودھا  اور پھر  فیصل آباد سے اور گلی محلے کی کرکٹ کے زمانے سے جانتے تھے۔ آخر کار حفیظ کے راستے ایک ایسے کپتان کہ وجہ سے ہموار ہوئے جو ان کے  پیچھے ہر وقت موجود رہے۔

تب پہلی بار ، بار بار واپسی کرنے والے اس کھلاڑی کو  واپسی پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ وہ19 کی  اوسط  سے 12 اننگر میں صرف ایک بار 50 کا ہندسہ عبور کر سکے۔  لیکن مصباح  نے انہیں ایک بھی گیم میں  ڈراپ نہیں کیا۔ اور پھر حفیظ کو اپنے کیریر کا پہلا پرپل پیچ ملا۔  انہوں نے ہزاروں رنز 54 کی اوسط  سے بنائے ۔انہوں نے مصباح کی بیٹنگ یونٹ کی قیادت جاری رکھی جب پاکستان متحدہ عرب امارات کو اپنا دوسرا ہوم گراونڈ بنانے میں مصروف تھا۔ اور ایک بار پھر حفیظ کو ساؤتھ افریقہ کے سفاری کی سیر کو جانا پڑا۔

انہوں نے چھ اننگز میں صرف 43 سکور بنائے۔ 17 میچز میں 19 بار آوٹ ہو کر وہ اس بےنام دورے پرڈیل سٹین کے لئے وہ بن گئے جو مائیک اتھرٹن  گلین میکگریتھ کے لیے تھے۔سٹین کے معمولی شکار  حفیظ اس سیریز میں 7 میچز میں 8.75 کی شرح سے سکور کے عوض 8 بار آوٹ ہوئے۔ ایک بہت  واضح شگاف تھا  جو سٹین نے تلاش کر لیا تھا جس سے وہ حفیظ کو شکار کر پا رہے تھے۔  حفیظ اپنے زخموں کو لئے زمبابوے کا دروازہ کھٹکھٹانے نکل پڑے اور وہاں بھی انہیں بری طرح شکست ہوئی۔ توقع کے عین مطابق سوشل میڈیا  اور خاص طور پر کبھی معاف نہ کرنے والے ہم وطن ناقدین نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کوئی اور موقع ہوتا تو حفیظ کو شاید نکال ہی دیا گیا ہوتا لیکن مصباح   کے ہوتے ہوئے ایسا نہ ہوا۔  2013 میں نیوزی لینڈ کے بد ترین دورہ کے بعد مصباح کی ٹیم اپنی سرحدی چوکی کے دفاع کےلیے یو اے ای واپس آئی۔ حفیظ بھی ٹیم کا حصہ تھے۔ کمال کا کھیل پیش کرتے ہوئے انہوں نے 60 کی  اوسط سے  1200  سے زائد سکور بنائے۔ پاکستانی ٹیم مصباح کی قیادت میں 7 سال   تک ناقابل شکست رہی۔ حفیظ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو فخر کر سکتے ہیں کیوں کے وہ اس پاکستانی ٹیم کا اہم  حصہ تھے جو  اعداد و شمار میں پاکستان کی سب سے کامیاب ٹیسٹ ٹیم قرار پائی۔ اور پہلی بار ICC  ٹیسٹ رینکنگ میں  2016 میں دنیا کے نمبر ون ہونے کا سہرا  بھی اپنے سر پر سجایا۔ بہر حال سب اچھی بری چیزوں کی طرح مصباح ٹیم کا  بھی دور اختتام پذیر ہو گیا۔ اور ٹیم کے ساتھ ہی حفیظ  کا بھی۔

اکتوبر 2018 میں دو سال بعدجب حفیظ پاٹیسٹ ٹیم میں 38 سال کی عمر میں دوبارہ واپس آئے  ۔ اپنی کم بیگ گیم میں حفیظ نے آسٹریلیا کے خلاف 208 گیندوں پر 126 رنز بنائے  اور پاکستان کو ڈرائیونگ سیٹ پر لا کھڑا کیا۔ تین میچز کے بعد  حفیظ اپنی کریز میں کھڑے تھے اور ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا  انتظار کر رہے تھے  لیکن انہیں اندازہ تھا کہ ایمپائر کا کیا فیصلہ ہو گا۔  نیوزی لینڈ بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے۔ جب کوئی کیوی کھلاڑی کیچ کرتا ہے تو درست کیچ کرتا ہے۔  ایمپائر نے کھلاڑی کے کیچ کی تصدیق کی اور حفیظ کو پویلین کی طرف لوٹنا پڑا۔ شاید یہ کیریر کی سب مشکل واپسی تھی۔ شاید حفیظ پویلین کی طرف واپس جاتے ہوئے یہ سوچ رہے تھے کہ یہی ان کا آخری میچ ہو سکتا ہے۔

اگلے چند ہفتوں میں پاکستان ساوتھ افریقہ کے خلاف تین ٹیسٹ کی سیریز کھیلنے والا ہے ۔ اگلے دس ماہ میں پاکستان کے لیے یہ واحد ٹیسٹ سیریز ہو گی۔ یہ عرصہ ختم ہونے تک حفیظ کی عمر 40 سال تک پہنچ رہی ہو گی۔ حفیظ ڈریسنگ روم میں گئے اور تھوڑی دیر بعد اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ۔ انہوں نے ساوتھ افریقہ کے ٹور کے لیے اپنے انتخاب کی جنگ نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ شاید انہیں اس سیریز کے لیے ویسے بھی منتخب نہ کیا جاتا۔ یہ کسی بورڈ ممبر کی طرف سے پیغام کا نتیجہ تھا  جیسا کہ اکثر ممالک میں  ہوتا ہے؟ اس بات کا علم شاید کبھی نہ ہو پائے۔ دو دن بعد  ساوتھ افریقہ کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا گیا۔

شان مسعود کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے  جس کی وجہ ان کی اے ٹیم میں بہترین کارکردگی ہے۔ لیکن اب تک انہوں نے 24 ٹیسٹ اننگز کھیل کر  صرف 23 کی ایوریج سے رنز بنائے ہیں۔ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی ان کی ایورج صرف 33اعشاریہ 85 ہے۔ کیا پاکستان کے پاس اس سے بہتر کوئی آپشن موجود نہیں رہ گئی؟  کیا ہم ابھی سے حفیظ کو مِس کرنے لگے ہیں ؟ نہیں کیونکہ اگلا دورہ ساوتھ افریقہ کا ہے۔

ایشیا میں  کھیلے 38 میچز میں حفیظ کی ایوریج 46.89رنز کی ہے  جس میں انہوں نے 3001 رنز بنائے  جو کل رنز کا 80 فیصد سے زیادہ ہیں اورا 10 میں سے 9 سنچریاں بھی انہوں نے ایشیا میں بنائی ہیں۔ ایک اوپنر کی حیثیت سے ان کی کیریر ایوریج  38 رنز ہے  جہاں انہوں نے 3531 رنز بنائے ہیں  اور سعید انور اور مدثر نذر کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں۔

حفیظ نے 34.11 کی اوسط سے ٹیسٹ کرکٹ میں 53 وکٹس بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ اگر آپ کے باولنگ اور بیٹنگ اوسط میں بڑا فرق نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک اچھے کرکٹر ہیں۔  لیکن حفیظ کے کیریر کو صرف اعدادو شمار کے لحاظ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔  انہوں نے ایسے موقع پر پاکستان کے لیے کھیلا جب بہت سے لوگ سٹریٹ فائٹنگ اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگے تھے۔  مصباح یونس اور اظہر شفیق جیسی جوڑیاں پاکستان کو  تحفظ فراہم کرتی تھی اور کچھ ایسے پلئیر بھی تھے جنہیں قابو کرنا مشکل ہوتا تھا۔

لیکن اس سب کے بیچ حفیظ کے کور ڈرائیو اور کٹ اور پُل شاٹس کی اپنی پہچان تھی۔ انہی شاٹس کی وجہ سے میں حفیظ کو بھول نہیں پاوں گا۔ جب حفیظ فارم میں ہوتے تو وہ اپنے ہم عصر کھلاڑیوں میں سب سے بہتر اور خوبصورت کھیل کا مظاہرہ کرتے تھے۔

کچھ ہفتے قبل ایک انٹرویو میں حفیظ نے کہا: مجھے معلوم تھا کہ یہ کم بیک میرا آخری چانس ہو گا۔ میرا پورا کیریر ایسا ہی رہا ہے۔ میں نے پورا کیریر اپنے بارے میں لوگوں کی رائے بدلنے میں گزار دیا  اور آج بھی مجھے یہی کرنا پڑ رہا ہے۔ جب بھی میں گیم ختم کرتا ہوں،  تو میں چاہتا ہوں کہ با عزت طریقے سےختم کروں۔ جب میں گراونڈ سے باہر آ رہا ہوتا ہوں تو دل کرتا ہے کہ اب چھوڑ دوں۔ یہی جذبہ ہے جس کی وجہ سے مجھے یہ آخری موقع ملا ہے۔

آپ کا آخری چانس آپ کے کیریر  کو ڈیفائن کرتا ہے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ کے آخری دن  حفیظ کو ایک اور موقع ملا۔ انہیں پہلے ہی صبح کے وقت گارڈ آف ہانر مل چکا تھا۔ انہیں ایسا موقع ملا تھا جس کے لیے اکثر کھلاڑی ترستے رہ جاتے ہیں  اور حاصل نہیں کر پاتے  کیونکہ وہ اپنی مرضی سے ریٹائر نہیں ہو رہے ہوتے۔

البتہ حفیظ کا کیریر ایک فئیر ی ٹیل کی طرح ختم نہیں ہوا ۔ آخری اننگز میں ٹم سودی نے انہیں ایک ایسی شاندار گیند سے بولڈ کیا کہ ان کے سٹمپ بکھر گئے۔ مایوس چہرے کے ساتھ حفیظ کو پویلین لوٹنا پڑااور انہوں نے اپنے بیٹ سے  خالی سٹینڈز کی طرف اشارہ کیا۔ اس سے ایسے کیریر کا خاتمہ ہو گیا جس سے ہہت امیدیں وابستہ تھیں جن میں سے کچھ امیدیں  پوری ہو گئیں  اور جب وہ پوری ہوئیں  تو ایسے انداز میں کہ ان کا کوئی مقابلہ نہ تھا  ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *