وہ وزراء اعظم جو تاریک راھوں میں مارے گئے۔

عمران خان آج اپنے سیاسی کیریر کے اس مقام پر کھڑے ھیں ۔ اور جنرل باجوہ کی سرپرستی میں ھیں ۔ جس مقام پر کبھی ذولفقار علی بھٹو جنرل ایوب کے ساتھ کھڑے تھے۔ نواز شریف جنرل ضیاء الحق کی سرپرستی میں تھے۔ بے نظیر بھٹو جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت دے رھی تھی۔ اور نواب اکبر بگٹی مقتدرہ کی حمایت سے اقتدار میں تھے۔ پھر ان تمام اصحاب نے مقتدرہ کو چیلنج کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو، نواب اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو مارے گئے۔ نواز شریف زندگی سے تنگ کر دیے گئے۔ مقتدرہ کو محمد خان جونیجو ، ظفراللہ جمالی اور یوسف رضا گیلانی بطور وزیراعظم راس نہیں آئے۔ جنرل مشرف نے شوکت عزیز کی شکل میں ایک تجربہ کیا۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کھلے عام یہ کہتا کہ جنرل مشرف اس کے باس ھیں ۔ اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے اسے عملی طور پر ثابت بھی کیا۔ مقتدرہ کو چناچہ بطور وزیراعظم ایک شوکت عزیز کی ھی ضرورت ھے۔ ایک ایسا وزیراعظم جو مقتدرہ کے چیف کو اپنے باس سمجھے۔ اور اسے عملی طور پر ثابت کرے۔ وزیراعظم عمران خان کو یہ ثابت کرنا ھے۔ وہ اپنا نام کن وزراء اعظم میں شامل کرتے ھیں ۔ وہ وزراء اعظم جہنوں نے مقتدرہ کو چیلنج کیا اور زندگی سے گئے۔ یا زندگی سے تنگ ھوئے۔ وہ وزراء اعظم جہنوں نے مقتدرہ کو ناراض کیا اور وزارت عظمی سے گئے۔ یا وزیراعظم شوکت عزیز جو جنرل پرویز مشرف کو اپنا باس کہتے اور مانتے۔ اور اپنی ملازمت کی مدت پوری کی۔ عمران خان ابھی اپنی وزارت عظمی کے ابتدائی دور میں ھیں ۔( عمران خان کے پاس ایک آپشن اور بھی ھے۔ )
لیکن ائیے تب تک ان تمام وزراء اعظم کو خراج تحسین پیش کریں ۔ جہنوں نے اس حقیقت کے باوجود کہ وہ مقتدرہ کی سرپرستی میں سیاست میں آئے ۔ (سیاست میں آنے کے لیے ملک میں یہی ایک راستہ ھے) لیکن انہوں نے سچ جاننے کے بعد ھمت کی۔ اور اسی مقتدرہ کو چیلنج کیا۔ اور وہ جانتے تھے۔ وہ مارے جائیں گے۔ اقتدار سے نکال دیے جائیں گے۔ لیکن وہ پیچھے نہیں ھٹے ۔ اور تاریک راھوں میں مارے گئے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *