’’عالمی ضمیر‘‘ کو جھنجوڑنے کی تحریک اور ’’مفتوحہ‘‘ کشمیر

سری نگر سے چالیس کلومیٹر دور واقع پلوامہ کے ایک گائوں سرنو میں ہفتے کی صبح 12بے گناہ شہریوں کی شہادتیں مقبوضہ کشمیر کے موجودہ ماحول میں ’’معمول‘‘ کی خبر تصور کی جاسکتی ہیں۔ قابض افواج کی وحشیانہ سفاکی کا ا یک اور اظہار۔ اس پر احتجاج لازم۔

واقعہ کی تفصیلات پر لیکن ذرا غور کریں تو احساس ہوگا کہ یہ ’’معمول‘‘ کی خبر نہیں ہے۔تحریک آزادی میں آئی مزید شدت سے کہیں زیادہ یہ تفصیلات آگاہ کرتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اکثریت کسی منظم سیاسی تحریک کی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مزاحمت کو محض برقرار نہیں رکھ رہی۔ اس میں ایک حیران کن موڑ آیا ہے جہاں نہتے عوام گھروں سے بے ساختہ نکل کر قابض افواج کو فقط نعروں اور پتھروں سے اشتعال دلاتے ہوئے لاٹھی چارج،آنسو گیس یا گرفتاریوں کی توقع نہیں رکھتے۔ قابض افواج کی برسائی گولیوں کا سامنا کرتے ہوئے شہادت پانے کو تیار ہیں۔ آتشِ نمرودمیں بے خطر کودنے والا منظر ہے۔

مزاحمتی تحریک کے عمومی تناظراور تاریخ میں رکھ کر اس نئے موڑ کو سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔شاید اسی باعث روایتی احتجاج ومذمت بھی اس نئی صورت حال کا ازالہ نہیں۔ اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟ کاش میرا ذہن اس سوال کاجواب فراہم کرسکتا۔

برہان وانی کی شہادت کے بعد سے کشمیر کے جنوبی اضلاع میں مزاحمت کی تاریخ نے ایک نیا رُخ اختیار کیا ہے۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان معاشی اعتبار سے اپنے مستقبل کو دنیاوی اعتبار سے روشن بنانے کے بجائے ازخود مزاحمتی گروہ منظم کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔خالصتاََ دفاعی نقطئہ نظر سے سوچا جائے تو نوجوانوں پر مشتمل یہ چھوٹے چھوٹے گروپس جدید ہتھیاروں سے لیس قابض افواج کے لئے ٹھوس نوعیت کا خطرہ نہیں۔ وہ زیادہ تر فیس بک اور Whatsappکے کے ذریعے اپنا پیغام پھیلاتے ہیں۔اپنے گھروں سے ’’غائب‘‘ ہوکر پہاڑوں اور جنگلوں میںچلے جاتے ہیں۔ وہاں ٹھہرے وہ کسی نہ کسی صورت قابض فوج کو مسلح مزاحمت سے دو چارکرنے کی ترکیبیں سوچتے رہتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک گروہ بھی ابھی تک کوئی ایسا جارحانہ حملہ نہیں کر پایاجسے قابض افواج اپنے لئے ’’سنگین‘‘ قرار دے سکے۔ بنیادی طورپر نوجوانوں کے یہ گروہ مزاحمت کی علامتیں اور پیغام ہیں۔ ٹھوس فوجی Threatنہیں ۔

کشمیری عوام کی بے پناہ اکثریت کو اپنے ان بچوں کی معصوم خواہشات کا خوب علم ہے۔ وہ انہیں شفقت سے اپنا مہمان بناتے ہیں۔سمجھانے کی کوشش نہیں کرتے۔

بھارت مگر ان نوجوانوں کی معصومانہ خواہشات وخوابوںکو ’’تخریبی‘‘ سوچ ٹھہراتا ہے۔ اپنے مخبروں کے ذریعے ان کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ان کے ’’ٹھکانوں‘‘ کا علم ہوجائے تو وہاں نام نہاد(IBDOPS) Intelligence Based Operationsکے نام پر دھاوا بول دیا جاتا ہے۔

جمعہ اور ہفتے کی صبح سرنوگائوں میں تین ایسے نوجوانوں کی اطلاع تھی۔بھارتی فوج کے ایک انتہائی تربیت یافتہ یونٹ نے ان کے ٹھکانے کا محاصرہ کرلیا۔ نوجوانوں کے بچ نکلنے کی کوئی اُمید نہیں تھی۔ ماضی میں نوجوانوں کے ٹھکانوںکا مکمل محاصرہ کرنے کے بعد انہیں ہتھیار پھینکنے کے لئے لائوڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کئے جاتے رہے ہیں۔عموماََ یہ کوششیں بھی ہوئیں کہ محاصرے کے دوران گھروں میں چھپے نوجوانوں کے کسی عزیز کو ڈھونڈکر ان کے پاس بھیجا جائے۔ کسی عزیز کی عدم موجودگی کی صورت گھیرے میں لئے گائوں کے کسی معزز شخص یا امام مسجد کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب کے لئے مجبور کیا جاتا تھا۔

جمعہ اور ہفتے کی رات کو یہ روایت ختم کردی گئی۔ گھیرے میں لئے مکان پر براہِ راست دھاوا بول دیا گیا۔مزاحمت ہوئی تو Ongoing Encounterکے شور سے پورے گائوں کو خبر ہوگئی۔ لوگ گھروں کو چھوڑ کر ’’مقابلے‘‘ کے مقام پر پہنچنا شروع ہوگئے۔گائوں کی مساجد کے لائوڈ سپیکروں کے ذریعے سارے علاقے میں اطلاع پھیل گئی اور چند ہی لمحوں میں فقط چند ہزار نفوس پر مشتمل اس گائوں کے سینکڑوں نوجوان اپنی دانست میں ایک گھر میں چھپے نوجوانوں کے لئے ’’انسانی ڈھال‘‘ فراہم کرنے کی جستجو میں مصروف ہوگئے۔ بھارتی فوج نے انہیں سیدھی گولیوں کا نشانہ بنایا اور Targetکو ہر صورت حاصل کرنا چاہا۔ وہ یقینا اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اگرچہ پورے گائوں کو ’’تخریب کاروں‘‘ کا ’’سہولت کار‘‘ تصور کرتے ہوئے اجتماعی طورپر نشانہ بنایا گیا ہے۔Combatantاور Non Combatantکے درمیان تفریق ختم کردی گئی۔

نام نہاد Counter Insurgencyکے بارے میں لکھی کتابوں میں یہ تفریق قائم رکھنا ضروری شما ر ہوتا ہے۔ یہ تفریق برقرار نہ رہے تو نام نہاد Hearts & Mindsکو جیتنے والی کاوشیں بھلادی گئی شمار ہوتی ہیں۔ کشمیری عوام اجتماعی طورپر قابض بھارتی فوج کے لئے The Otherیعنی دشمن ٹھہرا دئیے گئے ہیں۔ جن کا ہر صورت خاتمہ مقصود ہے۔ درمیان کی کوئی راہ باقی نہیں رہی۔ مقبوضہ کشمیر کو اب ’’مفتوحہ‘‘ کشمیر بنانا ہے۔

اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کے ساتھ بھی کئی برسوں سے یہ رویہ اپنارکھا ہے۔میں نے برہان وانی کی شہادت کے بعد لکھے چند کالموں میں کشمیر کی Ghazaficationہوجانے کے امکانات کا ذکر کیا تھا۔بہت فکر مندی سے اس کا عملی اظہار دیکھنے کا اعتراف کررہا ہوں۔

مجھے اب خدشہ یہ بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض افواج کے ہاتھوںہوئے سفاکانہ احتجاج کے بعد ہونے والا روایتی احتجاج Ghazaficationکے اس عمل کو روک نہیں پائے گا۔یہ احتجاج کسی ’’عالمی ضمیر‘‘ کو جھنجھوڑتے ہوئے بھارت پر یہ دبائو ڈالنے کا خواہاں ہے کہ وہ کشمیریوں کو انسان تصور کرے جن کے چند بنیادی حقوق ہوا کرتے ہیں۔

’’عالمی ضمیر‘‘ سے ہماری مرادامریکہ یا یورپی ممالک ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں فیصلہ سازی مگر اب ٹرمپ کے پاس ہے،Brexitکے مسائل ہیں،فرانس میں Yellow Vest Movementپھوٹ پڑی ہے، جرمنی میں نسلی اور قومی تعصب توانا تر ہورہا ہے۔ یورپی یونین کا مستقبل خطرے میں دِکھ رہا ہے۔

یہ ’’عالمی ضمیر‘‘ شام میں کئی برسوں سے جاری خانہ جنگی سے لاتعلق رہا۔ یمن میں ایران اور سعودی عرب کے Proxiesکے مابین جاری جنگ کی وجہ سے ہزار ہا بچے قحط سالی کا شکار ہوئے۔’’عالمی ضمیر‘‘اس کے بارے میں فکرمند نہیں ہوا۔

چند ہی روز قبل نیویارک ٹائمز کے ایک مشہور کالم نگار نے اپنے اخبار کے لئے ایک مختصر ترین کالم لکھا۔ اس کالم میں یمن کی ایک 11سالہ بچی کی تصویر بھی ہے جو مناسب خوراک نہ ملنے کے سبب محض ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی۔میں اس تصویر کو دیکھنے کے بعد رات بھر سو نہیں پایا۔ حیران کن بات مگر یہ بھی ہے کہ نیویارک ٹائمز جیسے مؤقر اخبار میں چھپے ایک باقاعدہ کالم کو جب Facebookکے ذریعے Shareکرنے کی کوشش ہوئی تو اس کی انتظامیہ نے اسے ’’فحاشی‘‘ اور لوگوں میں نسلی تعصب پھیلانے کی بنیاد پر قابل اعتراض ٹھہرایاکیونکہ اس کے کئی ’’صارفین‘‘ کی جانب سے اسے ایسی شکایات موصول ہوئی تھیں۔

’’عالمی ضمیر‘‘ تو نیویارک ٹائمز جیسے ایک اخبار میں ایک معتبر کالم نگار کی لکھی مختصر ترین تحریر بھی برداشت نہیں کرپارہا۔پلوامہ میں ہوئی وحشت پر غور کیوں کرے گا۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *