"بسنت "کی مدینہ جیسی فلاحی ریاست میں کوئی گنجائش نہیں.....!!

اطلاعات ہیں کہ پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کی داعی حکومت کے صوبائی وزیر اطلاعات نے پنجاب کی عوام کو خوشخبری دی ہے کہ نئے پاکستان کی حکومت پنجاب نے ,نئے سال سے بسنت پر عائد پابندی کو اٹھا لیا ہے، صوبائی وزیر اطلاعات کایہ بھی فرمانا ہے کہ اس سے اربوں روپے کا" کاروبار" وابستہ ہے،اور یہ ہمار"اخالصتا" ثقافتی ،روایتی اورمعاشرتی ورثہ ہے، اس ضمن میں وزیر اعلی پنجاب نے بسنت کو" احسن طریقے" سے منانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے،جس میں پنجاب کے وزیر قانون اور وزیر اطلاعات و ثقافت،سیکریٹری اطلاعات وثقافت سمیت سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندہ ارکان شامل ہیں،اس کمیٹی سر جوڑ کر بیٹھے گی،اس کی سفارشات کی روشنی میں وزیر اعلی پنجاب فروری کے دوسرے ہفتے میں اس "بابرکت" تہوار کو منانے کی حتمی منظوری دیں گے...،سابقہ حکومت نے گلے پر ڈور پھرنے،بچوں کے چھتوں سے گر کر اپاہج ہونے،بجلی کی تاروں کے شارٹ ہو جانے کی وجہ سے ٹرانسفارمر پھٹ جانے اور دیگر کئی ناخوشگوار واقعات کی بنا پر سال 2007 سے اس پر پابندی لگا کر کئی ذندگیوں کو محفوظ کیا ہوا تھا،اوران کو کئی نقصانات سے بچایا ہوا تھا،جو کہ سابقہ حکومت کا بہت اچھا اقدام تھا،وزیر موصوف کے اس اعلان سے سنجیدہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، شاید جناب وزیر اطلاعات پنجاب کے علم میں نہیں کہ بسنت ہمارا تہوار نہیں ہے، یہ " خالصتا " ہندوؤں اور سکھوں کا تہوار ہے،بہار کا سنسکرت میں لفظی مطلب بہار کا ہے،یہ ماگھ کی پانچ تاریخ کومنایا جاتا ہے،جو کہ عموما فروری کے مہینے میں آتا ہے، اس لئے اسے بسنت پنچمی بھی کہا جاتا ہے ،اور یہ "خالصتا" ہندوؤں کا تہوار ہے،ویدوں میں اس کا تعلق سرسوتی دیوی سے بتایاجاتا ہے،جو ہندو مت میں موسیقی اورآرٹ(فن) کی دیوی سمجھی جاتی ہے،اس دن خوشی منائی جاتی ہے،اور دیوی کی پوجا کی جاتی ہے،خوشی کے اظہار کیلئے نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں،پتنگیں اڑائی جاتی ہیں،موسیقی سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے، مستی اور"موج میلہ" کیا جاتا ہے،یہ ہندوؤں اور سکھوں کا مشترکہ تہوار ہے،ایک ہندو مؤرخ بی ایس نجار نے اپنی کتاب "punjab under the later mughals" میں لکھا ہے کہ " حقیقت رائے بھاگ مل پوری" سیالکوٹ کے ایک ہندو کھتری کا اکلوتا لڑکا تھا،حقیقت رائے نے حضور پاکؑ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں انتہائی گستاخانہ اور ناذیبا الفاظ استعمال کئے،اس جرم پر حقیقت رائے کو گرفتار کر کے عدالتی کاروائی کیلئے لاہور بھیجا گیا،جہاں اسے سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا،اس واقعے سے پنجاب کے ہندوؤں کو شدید دھچکا,اور کچھ ہندو افسر سفارش کیلئے اس وقت کے پنجاب کے گورنر ذکریا خان کے پاس گئے،کہ حقیقت رائے کو معاف کر دیا جائے،لیکن ذکریا خان نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا،لہذا اس گستاخ کی گردن اڑا دی گئی،ہندوؤں میں صف ماتم بچھ گئی،انہوں نے حقیقت رائے کی ایک مڑھی(یادگار) قائم کی ،جوکوٹ خواجہ سعید (کھوجے شاہی)لاہور میں واقع ہے،یہ جگہ اب " باوے دی مڑھی" کے نام سے مشہور ہے،اس مقام پر ایک ہندو رئیس " کالورام" نے حقیقت کی یاد میں اسکی موت کے دن کوایک میلے کی شکل دی،اور ہرسال بہار کے موسم میں بسنت میلے کا آغاز کیا،پنجاب کا بسنت میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے،یہ مکتب فکر بسنت کو موسمی نہیں بلکہ مذہبی تہوار سمجھتا ہے،سکھوں کے حوالے سے تاریخی طور پر راجہ رنجیت سنگھ کے دور میں بہار کا خیر مقدم کرنے کیلئے یہ تہوار منایا جاتا تھا،تہوار کی تقریبات پر مذہبی رنگ غالب تھا،مہاراجہ کے میلے میں باقاعدہ گرنتھ صاحب سننا اورگرنتھی کوتحائف دینا مذہبی رسومات کے زمرے میں آتا ہے،ہندو برہمنوں کو نذرانے دیتے اورسکھ گرنتھیوں کو تحائف دیتے ہیں،سکھ مذہب میں بسنتی یا زرد رنگ کو بھی ایک خاص تقدس کا مرتبہ حاصل ہے،بسنت منانے میں بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں،جس کی وجہ پتنگ کی ڈور کا گلے پر پھر جاناہے،کچھ بچے پتنگ بازی کرتے ہوئے چھتوں سے گر جاتے ہیں،کچھ پتنگ بازوں کی فائرنگ سے زخمی یا موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں،دھاتی تار کے استعمال سے بجلی کی تاروں میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے جانی نقصان ہو جاتا ہے،اور ٹرانسفارمر کے پھٹ جانے سے علاقہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے،ان تمام خدشات کے باوجود بھی "نومولود حکومت " اگر ان اللے تللوں کی اجازت دیتی ہے،تو تمام تر نقصان کی ذمہ دار بھی وہی ہوگی،اس سلسلے میں "کچھ "ذمہ داری وفاقی حکومت کی بھی ہے، کہ وہ ایسے کاموں کا نوٹس لے، کوئی مثبت اور تعمیری منصوبے بنائے،قوم سے کئے گئے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے ،پچاس لاکھ گھروں کے فارم بیچنے کی حد سے آگے بڑھے،ایک کروڑ نوکریاں دینے بارے کچھ "تو سوچ بچار" کرنا شروع کرے،ڈالر کو نیچے کیسے لانا ہے،معیشت کی گرتی ہوئی صورت حال کو کیسے کنٹرول کرنا ہے ،اس بارے کسی "ایکسپرٹ" سے مدد لے،عافیہ صدیقی کو واپس پاکستان لانے بارے اپنے وعدے کی تکمیل کرے،پٹرول،روز مرہ اشیاء کی اڑان بھرتی قیمتوں کو "بو کاٹا" کرے،اور بھی بے شمار ایسے کام ہیں جن پر سوچنے اور منصوبے بنانے کی فوری ضرورت ہے،نہ کہ بسنت جیسے ہندوؤں کے خونی تہوار کو اپنی ثقافت ،روایت اور معاشرت گردانا جائے،ویسے بھی مدینہ جیسی فلاحی ریاست میں اس طرح کے" اللے تللووں" کی کسی طرح سے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے،اگر حکومت واقعی طور پر پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانا چاہتی ہے...،بصورت دیگر بسنت کی اجازت پر پتنگ بازی کی آڑ میں فائرنگ،موسیقی،موج میلہ،مستی،شراب،شباب ....سب کچھ چلے گا....،جسکے تدارک کیلئے پھر" ذمہ داران" کو لازمی سوچنا ہو گا....!!،

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *