سقوط ڈھاکا سے ہنوز اٹھتا دھواں!

’’اگر آزادی ایک مثبت قدر ہے تو آپ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو ’’سانحہ‘‘ کیوں کہتے ہیں ۔ جس طرح ہندستان سے پاکستان بن گیا ، اسی طرح پاکستان سے بنگلہ دیش علیحدہ ہو گیا ۔ ‘‘ ہماری پوسٹ پر ایک عالم فاضل دوست نے براہ راست تبصرہ کیا ۔
’’ سر ، اگر مشرقی پاکستان کی کوئی سرحد پاکستان سے نہیں ملتی تھی تو یہ ایک ملک کیسے رہ سکتا تھا؟ کیا ایسا کبھی پہلے تاریخ میں ہوا تھا ؟ ‘‘ ہماری ایک طالبہ نے پوچھا تھا۔
’’سر، مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر ہماری کتاب میں کوئی باب یا آرٹیکل کیوں نہیں ، کیا یہ اہم واقعہ پاکستان کی تاریخ کا حصہ نہیں ؟ اگر آپ ہمیں ’مطالعہ پاکستان ‘ کے نصاب میں تقسیم ہند سے پہلے کا واقعہ ’’تقسیم بنگال ‘‘ پڑھاتے ہیں تو مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا کیوں نہیں پڑھاتے ؟ ‘‘اگر دوسرے طالبعلم نے خاصے تنک لہجے میں پوچھا تھا ۔یاد رہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے ڈگری لیول کے مطالعہ پاکستان کے نصاب میں تقسیم بنگال کا سوال شامل ہے کئی دفعہ امتحان میں پو چھا جا چکا ہے ۔
’’ ہم نے دو قومی نظریے کو بحر الہند میں ڈبو دیا ہے ۔ ‘‘ بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گا ندھی نے فخریہ انداز میں کہا ۔
’’ اس سے بھی پہلے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تقریروں اور انٹرویوز میں تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر واضح الفاظ میں کہا تھا کہ مشرقی پاکستان متحدہ پاکستان کا حصہ نہیں رہ پائے گا۔اور دوقومی نظریہ صرف یہاں تک ہی نہیں رکے گا ، نفرت کے اس بیج سے بہت کچھ اگے گا ۔ ‘‘
اس حادثے کا وقوع پذیر ہونا اس قدر واضح تھا کہ نیم پاگل مگر انتہائی قابل ریاضی دان عنایت اللہ مشرقی نے اپنی کتاب میں برسوں پہلے سن بھی بتا دیا تھا کہ مشرقی پاکستان 1971میں علیحدہ ہو جائے گا ۔
لاہور پریس کلب میں کچھ صحافیوں کی موجودگی میں ایک سڑے ہوئے غصیلے صحافی نے ایک دوسرے ’ کلاسیکی پاکستانی صحافی‘ کی حب الوطنی میں ڈوبی کسی بات کے جواب میں کہا :’’ ہاں ہماری فوج کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے جب محسوس کیا کہ وہ بنگالیوں کے سیاسی اور انسانی حقوق ادا نہیں کر سکتی ، تو اس نے اپنی انا کو قربان کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے تاکہ بنگالیوں کو آزادی مل سکے !لیکن اس سے بھی سڑے ہوئے ایک دوسرے صحافی نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیتے ہوئے دھویں کا بڑا سا مر غولہ چھوڑا اور جب اس کی شکل اس میں گم ہو گئی تو بولا:’’اور اس سے بھی بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اپنا ہی وطن کم از کم تین دفعہ فتح کیا اور کوئی خون نہیں بہایا ۔‘‘
مجھے تسلیم ہے کہ ان تمام سوالوں ، تبصروں اور تجزیوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ۔بس ایسے ہی کبھی کبھی خود کلامی کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ بے شک یہ ایک سانحہ ہے ۔ ہم نے برصغیر کے مسلمانوں کو کہا کہ قومیں نہ زبان کی بنیاد پر بنتی ہیں، نہ علاقے کی بنیاد پر ،نہ مشترکہ تہذیبی میراث کی بنیاد پر، نہ مشترکہ سیاسی مفاد کی بنیاد پر ، وہ صرف اور صرف مذہب کی بنیاد پر بنتی ہیں ۔لیکن یکساں مذہب کے ہوتے ہوئے بھی جب بنگالیوں نے اردو کو قومی زبان ماننے سے انکار کیا تو پہلی تلخ حقیقت سامنے آئی ۔ کشمیر کی کی خاطرجب ہم نے 1965میں اپریشن جبرالٹر کے فیل ہونے کے بعدایک بے مقصد اور غیر نتیجہ بخش جنگ لڑی تو بنگالیوں نے شدید احتجاج کیا ۔ انھوں نے پہلی دفعہ اس وقت کی فوجی حکومت کو اپنا احتجاج نوٹ کرایا کہ اگر بھارت مغربی محاذ کے ساتھ ساتھ مشرقی محاذ بھی کھول دیتا توہمیں بچانے والا کون ہوتا ؟ بنگالیوں کا یہ کہنا بھی تھا کہ بھارت کے ساتھ ہمارا کوئی سرحدی جھگڑا نہیں ، پھر ہم دفاع پر اپنے وسائل کیوں برباد کریں ؟ یوں بنگالی ہماری یہ غلط فہمی دور کرتے رہے کہ مشترکہ سرحد نہ ہونے سے مشترکہ ملکی مفاد جنم نہیں لے سکتے ۔ اسی طرح مغربی پاکستان ہر سال سیلاب کے بعد زیرو زبر ہو جانے والے مشرقی پاکستان سے بہت تنگ تھا۔شکر ہے کہ ہمارے ملک میں اس وقت ایک ہی دن عید منانے کو ملکی وملی اتحاد کی علامت نہیں سمجھا جاتا تھا ورنہ ’’اسلام‘‘ بھی ہمارے ایک ملک ہونے کی مخالفت کرتا ۔یوں سوچنے سمجھنے والے لوگ جان چکے تھے کہ دور جدید میں قومیں مذہب نہیں علاقے ،زبان اور مشترکہ سیاسی مفاد سے وجود میں آتی ہیں لیکن سانحہ یہ اس وقت بنا جب یہ بات سمجھنے کے باوجود ہم نے خون کے دریا بہا دیے !کاش ہماری فوجی اور سیاسی اشرافیہ اپنے مفاد اور انا سے اوپر ہو کر فیصلے کر سکیں ۔جنھوں یہ سمجھا انھوں نے برلن کی دیوار ڈھا دی اور ایٹمی طاقت نہ ہونے کے باوجود عالمی طاقتوں کو اپنی بات منوانے والے بن گئے۔
میرے پاس اندرا گاندھی کی اس ’’ بکواس ‘‘ کا بھی کوئی جواب نہیں تھا جو اس نے دو قومی نظریے کے حوالے سے کی تھی ۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں پاکستان کو ہر مسلمان کے لیے پاکستانی قومیت (نیشنیلٹی ) کے دروازے کھول دینے چاہیے تھے، لیکن ہم اس کے باوجود قومیت حاصل کرنے کے وہی قواعد اور اصول رکھتے ہیں جو دنیا کی تمام ’’ غیر نظریاتی ‘‘قومیں رکھتی ہیں ۔ حتیٰ کہ اس حوالے سے سعودی عرب انتہائی ’’ غیر نظریاتی ‘‘ ملک ہے ۔مزید یہ کہ ہمارا بنگالی بھائیوں سے مشترکہ نظریاتی اسا س ’’ مذہب‘‘ پر تو کوئی جھگڑا ہی نہیں تھا ۔ ہو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ملک پر نہ ’اسلامی نظام‘ نافذ ہوا تھا، نہ شتم رسول کی سزاکا مقد س قانون جزبہ ایمانی ماپنے کے آلے طور پر متعارف ہوا تھا۔ حقیقت میں سارا معاملہ سیاسی اقتدار کا تھا ۔ اگرشیخ مجیب الرحمان یحییٰ خاں کو صدر اور ذوالفقار علی بھٹو، شیخ صاحب کو وزیر اعظم تسلیم کر لیتے تو یہ نظام لشتم پشتم کچھ برس مزید چل سکتا تھا۔لیکن افسوس دو قومی نظریہ مولانا آزاد کی پیشن گوئی کے مطابق اتحاد و اتفاق کے بجائے افتراق و انتشار کا باعث ہوا یا اس نے مسلم اور ہندو کے بجائے بنگالی اور پاکستانی کی جگہ لے لی تھی۔
رہی بات نصاب کا حصہ بنانے کی بات توکاش ہمارے طالب علم یہ جان پاتے کہ یہ نصاب قانون کے تقاضے پورے کرنے کے لیے بنائے اور پڑھائے جاتے ہیں ، ان کا تاریخی یا علمی شعور بلند کرنے کے لیے نہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *