قائداعظمؒ ۔۔۔کی سحر انگیز شخصیت۔۔۔کہ جس کے غیر بھی معترف تھے

اربابِ علم و دانش اس بات کو بہت اچھی طرح نہ صرف جانتے ہیں بلکہ مانتے بھی ہیں کسی بھی قائد اور رہنمامیں اِن خصوصیت کا ہونا ضروری ہوتا ہے کہ۔۔۔وہ دلیر ہو، نڈراور بے باک ہو‘نہ حکومت کا جاہ وجلال اُسے مرعوب کر سکے ‘نہ شاہوں اور شہر پاروں کی بارگاہِ عظمت میں اُس کا دِل دھڑکے۔۔۔نہ تو‘فاتحوں ااور کشورکشاؤں کے سامنے اُسکی زبان گنگ ہواور نہ ہی سپہ سلاروں اور شمشیر آزماؤں کو دیکھ کر اُس پر لرزہ طاری ہو‘نہ توامارت وثروت کے جَلوے اُسکی نگاہوں میں خیرگی پیدا کرسکیں اور نہ ہی سچ بولنے سے کترائے۔
وہ حق بات ۔۔۔سب کے سامنے کہہ سکتاہو‘بھلے بادشاہ سلامت کی عدالت ہو‘یارائے عامہ کی مجلس۔۔۔ایوانِ گورنر ہو‘یاسَر پر لٹکتا ہوا نیزہ۔۔۔بادشاہ کی جاگیر ہاتھوں میں آئے ‘یاہیرے جواہرات۔۔۔وہ اپنی قوم کے لیے ایک سچا اور مخلص وکیل ثابت ہو۔۔۔جی ہاں
ایسے ہی سچے ‘مخلص انسانوں اورمسلمانوں میں ایک عظیم قائد ۔۔۔قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی تھے ۔جنہوں نے نہ صرف دنیا کے نقشے پر اسلامی مملکت ’’پاکستان‘‘کا نقشہ کھینچا ‘بلکہ اپنی جوانمردی ‘پائے استقلالی اور دانائی کی بے شمار مثالوں کے اَنمٹ نشان چھوڑے۔
اللہ عزوجل اور اُس کے پیارے حبیب ﷺاور اہلِ نظر کے سوا ۔۔۔بھلا اور کون جانتا تھا ۔۔۔؟ کہ25دسمبر1876ء کو طلوع ہونیوالا آفتاب ۔۔۔اپنی کرنوں سے ایک ایسے دِن کو مُنور کرے گا‘کہ جس دِن پیدا ہونیوالا ایک بچہ دنیا کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوائے گا ۔
کون جانتا تھا کہ ۔۔۔کراچی میں پیدا ہونے والے اس بچے کی جوانمردی‘شجاعت‘جواں ہمت‘ حوصلہ‘عزم واستقلال اور عقل ودانائی پر دنیا کے نامور ادیب ‘دانشور اور اربابِ علم و دانش ‘صفحات لکھیں گے۔۔۔کسے خبر تھی ؟کہ بڑے بڑے جلسوں‘کانفرنسوں‘تقریبات اور تقریروں میں اِس جواں ہمت شخص کی باتوں اور مثالوں کو پھولوں کی طرح پیش کیاجائے گا۔۔۔کس کے علم میں تھا کہ وطنِ عزیز پاکستان میں بڑے بڑے پارک‘لائبریریاں‘روڈز‘کالجز‘سکولز‘اداروں اور شاہراؤں کو ان کے نام کردیا جائے گا۔
بھلا کسے معلوم تھا کہ ۔۔۔قیامت تک اسکی تصویر ۔۔۔نوٹوں‘سِکّوں‘اسمبلی ہالوں ‘سکولوں کالجوں اور دفتروں کی زینت بنی رہے گی ۔کون جانتا تھا کہ اس پر ایک عالمی معیار کی فلم ’’جناح‘‘ بھی بنے گی
مگر اِن سارے مقامات کو حاصل کرنے کیلئے ‘انہوں نے اَنتھک محنت کی‘ابتدا ہی سے وہ کوئی عام سا شخص نہیں تھا‘تاریخ ایسی شخصیات صدیوں بعد ہی جنم دیتی ہے۔قائد اعظم نے اپنے ارادے کی پختگی سے ‘بچپن میں ہی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا اور اُن کا خیال تھا کہ وہ ’’بڑا‘‘ہو کر ضرور کوئی ’’بڑا ‘‘آدمی ہی بنے گا۔مگر جب اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ‘وہ بڑا آدمی بنا تو ایسا۔۔۔کہ بڑی بڑی شخصیات بھی اُسے خراجِ تحسین پیش کیے بغیر نہ رہ سکیں۔
قائداعظم بظاہر‘منحنی سے نظر آتے تھے ‘مگر لارڈماؤنٹ بیٹن جیسے معروف آدمی اور بخیل انگریز کو کہنا پڑا۔’’اوہ خدایا!وہ تو ایک چٹان کی مانندتھا۔۔۔جسے میں کبھی بھی اُسکی جگہ ۔۔۔اُس کے موقف سے ذرہ برابر نہ ہلاسکا۔‘‘
کچھ لوگ تو قائداعظمؒ کو Ambassdor of Peacaeیعنی امن کے سفیر کے لقب سے بھی یا د کرتے ہیں۔قائداعظم انتہائی ذہین اور حاضر جواب تھے،قائداعظم پر انگریز اور ہندو صحافیوں کی طرف سے سوالات کے حملے ہو رہے تھے اور قائداعظم بھی سب کا جواب مسکرا مسکرا کر دیتے رہے، ایک ہندو صحافی نے کہا کہ مسٹر جناح آج آپ کانگریس کو بہت برا بھلا کہہ رہے ہیں‘حالانکہ آپ خود کانگریس میں تھے اور وہیں سے ابھرے۔قائداعظم نے اُس کا بہت ہی پر لطف جواب دیا‘انہوں نے کہا ’’آپ کو معلوم ہے ؟میں کسی زمانے میں پرائمری میں بھی پڑھتا تھا ‘‘ایک معروف صحافی بیورلے نکولس نے جب ایک دفعہ قائداعظم کا انٹرویو لیاتو وہ کہہ اٹھا کہ ’’برصغیر کی آئندہ قسمت کا دارو مدار اس شخص پر ہے ‘میں نے اس سے زیادہ متاثر کُن شخص نہیں دیکھا۔‘‘
آکسفورڈ کے مشہور زمانہ پروفیسر سٹنلے والپرٹ نے جب برصغیر کی اہم شخصیات کی سوانح عمری لکھنے کا آغاز کیا تو ہر رہنما کے عقیدت مند چوکنے ہوگئے کیونکہ وہ انتہائی تحقیق اور مستند حوالوں اور کتابوں کے مطالعے کے بعد لکھتا تھا اور کمال یہ کرتا تھا کہ اس شخصیت کی تمام خوبیاں اور خامیاں بے دھڑک لکھ دیتا تھا ۔اُس نے نہرو کی نجی زندگی کے بارے میں ایسے ایسے انکشافات کئے کہ پورے ہندوستان میں صفِ ماتم بچھ گئی اور لوگ حیران رہ گئے ۔مگر اُس کٹیلے مصنف نے اپنی کتاب میں قائداعظم کے بارے میں لکھا’’کچھ رہنما سرحدیں تبدیل کر دیتے ہیں کچھ قوم کو بیدار کرکے فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور کچھ تاریخ کو ہی بد ل ڈالتے ہیں‘مگر قائداعظم دنیا کے واحد رہنما،قائد اور لیڈر ہیں کہ جنہوں نے یہ تینوں کارنامے سر انجام دیئے۔‘‘
پوری دنیا بانیء پاکستان کی مدبّرانہ قیادت کا لوہا مانتی ہے ۔۔۔ایک عالم اُسکی زندگی کے ہر گوشے کا جائزہ لیتا ہے اور کہیں کوئی معمولی سی دانستہ غلطی ‘قانون کی خلاف ورزی نہیں پاتا ۔۔۔یہی وجہ کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ لوگوں کے دِلوں میں زندہ تھے‘اور قیامت تک زندہ رہیں گے
اُنکی زندگی نہ صرف عام لوگوں کیلئے مشعلِ راہ ہے ‘بلکہ سیاستدانوں‘لیڈروں اور رہنماؤں کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے ۔امریکہ میں پاکستان کے سب سے پہلے سفیر ابوالحسن اصفہانی کچھ یوں انکے کردار کی جھلکیوں کو لفظوں میں سمیٹتے ہیں کہ’’میں مجلس قانوسازکا الیکشن لڑرہا تھا ایک دن ہمارے پرانے دوست عبدالرحمان صدیقی یہ خبر لے کردوڑے دوڑے آئے کہ انہوں نے میرے حریف سے طویل گفتگو کی ہے اور آخر کار اُسے اِس پر راضی کر لیا ہے کہ وہ اپنا نام واپس لے لے بشرطیکہ میں اُس کو اڑھائی سو روپے کی وہ رقم دے دوں جواُس نے کاغذات جمع کراتے ہوئے جمع کروائی تھی۔ قائداعظم نے اُن سے کہا کہ وہ اپنی بات دوبارہ دہرائیں کیونکہ انہوں نے اسے ٹھیک طور پرسُنا نہیں تھا‘صدیقی صاحب نے حکم کی تعمیل کی ‘اور قائداعظمؒ کی ڈانٹ اِس طرح آئی جیسے کسی کمان سے تیر چھوڑا گیا ‘’’روپیہ دیں؟کسی امیدوار کو نام واپس لینے کیلئے بلواسطہ رشوت دی جائے ؟نہیں ہر گز نہیں ‘ ایسی بات دوبارہ مت کیجئے گا ‘‘پھر مجھ سے کہنے لگے ’’بیٹا !سیاست میں اخلاقی استواری ‘نجی زندگی کی نسبت زیادہ اہم ہے کیونکہ اگر تُم عوام کی زندگی میں کسی غلطی کے مرتکب ہو گئے تو تُم بہت زیادہ ایسے انسانوں کو نقصان پہنچاؤگے ‘جو تم پر اعتماد کرتے ہیں۔‘‘
پاکستان کے سابق آرمی چیف آف دی سٹاف جنرل گل حسن کچھ اسطرح سے ان کی زندگی کی ورق گردانی کرتے ہوئے ہمیں بتاتے ہیں کہ ’’میں قائداعظم کا پہلا اے‘ڈی‘سی‘جی تھاایک مرتبہ ہم گاڑی پر جارہے تھے ‘گاڑی ایک ریلوے پھاٹک کے پاس پہنچی تو پھاٹک بند ہو گیا‘میں نے قائداعظم سے استفسار کیا ‘یہ پھاٹک چند لمحوں کیلئے کھولا جاسکتا ہے اِس سے ہمارا قیمتی وقت ضائع نہیں ہوگا ‘اگر آپ کہیں تو میں پھاٹک کھلواؤں‘قائداعظمؒ نے فرمایا ‘نہیں اگر میں گورنر جنرل قانون کی پابندی نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا؟‘‘
آیئے!اب ایک جھلک عجزوانکساری کی دیکھتے ہیں۔۔۔14اگست 1947ء کی خوبصورت شام تھی ۔۔۔ گورنر ہاؤس کے وسیع وعریض چبوترے پر قائداعظمؒ مسکراکر اپنے مداحوں سے مبارکبادیں وصول کر رہے تھے ‘ایک غیر ملکی صحافی نے قائداعظمؒ سے کہا ’’آپ کتنے خوش نصیب ہیں کہ آپ نے آج اپنی قوم کیلئے ایک ملک پاکستان حاصل کرلیا‘آپ بانیء پاکستان ہیں۔‘‘قائداعظم نے جواب دیا ’’میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پاکستان میری زندگی میں بن گیا ‘لیکن میں پاکستان کا بانی نہیں ہوں ۔‘‘
غیرملکی صحافی نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’اگر آپ اِس مملکت کے بانی نہیں ہیں تو پھر کون ہے ؟‘‘قائداعظم نے جواب دیا ’’ہرایک مسلمان۔‘‘
قائداعظمؒ کے حسین کردار کے واقعات بے شماراور مثالیں لامحدود ۔۔۔پیارے قائدؒ کے سنہری کارناموں کی بجا تعریف کرنے سے ہم قاصر ہیں ۔۔۔الفاظ ختم ہوجاتے ہیں ‘مگر اس عظیم قائد کی مثالیں اور حسنِ کردار ختم نہیں ہوتا۔آج قائداعظمؒ کا یومِ پیدائش منایا جارہا ہے۔اوریقیناًملک بھر میں سرکاری وغیر سرکاری سطح پر ان کی یاد میں بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا
دیکھنا یہ ہے کہ ۔۔۔کیا؟ہمارے حکمرانوں،سیاستدانوں،بیوروکریٹس اور ہم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو قائداعظم،ایسا بن سکے ،اور پاکستان اور اس میں بسنے والے شہریوں کو صحیح ڈگر پہ چلا سکے۔یا پھر اُن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے صرف تقریبات کا انعقاد ہی کافی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *