جمعے اور سوموار میں کوئی فرق نہیں

یہاں نواز شریف کو احتساب عدالت سے سات سال قید اور پچیس ملین ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ سزا کی تفصیلات سے قطع نظر‘ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ وہی آیاجس کی امید تھی۔ یہ ''امید‘‘ کسی تعصب یا خواہش کی ہرگز تابع نہ تھی‘ بلکہ دوران سماعت جو کچھ ہوتا رہا‘ اس کے پیش نظر قائم کی گئی تھی اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ دراصل آمدنی سے زیادہ اثاثوں والے معاملات میں سارا بار صفائی مدعی کی بجائے ملزم پر ہوتا ہے کہ اپنے اثاثوںکو جائز ثابت کرے‘ ان کی خرید پر صرف ہونے والی رقم کو اپنی آمدنی کے ذرائع سے جوڑے اور اس رقم کی منی ٹریل فراہم کرے۔ میاں نواز شریف ان سارے کاموں میں قطعاً ناکام رہے۔ وہ اپنی اسمبلی میں کی گئی اس شہرہ ٔآفاق تقریر سے‘ جس میں انہوں نے نہایت تیقن سے فرمایا کہ ''جناب یہ ہیں‘ وہ ذرائع جن سے یہ جائیداد خریدی گئی‘‘ سے دستبردار ہو گئے۔ ان کی اسمبلی کی تقریر کے بعد حمد بن جاسم کا قطری خط اور پھر اس خط کا ایک عدد ضمنی خط بھی جے آئی ٹی میں پیش کیا گیا۔ جناب میاں صاحب ‘اس عالمی شہرت یافتہ خط سے بھی منکر ہو گئے اور کوئی نیا ثبوت دینے میں بری طرح ناکام رہے‘ یعنی گزشتہ دئیے جانے والے تمام تر بیانات اور دستاویزات سے وہ دستبردار ہو گئے اور نئے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام ہو گئے۔ دوسرے لفظوں میں ان کا سارا کیس کسی قسم کی صفائی کے ثبوتوں سے یکسر محروم تھا۔ ایسی صورتحال میں یہی کچھ ہونا تھا‘ جو ہوا۔ سو پپو امتحان میں بری طرح فیل ہو گیا۔
ملک خالد‘ روزانہ صبح نو بجے (اپنے وقت کے مطابق) فون کرتا ہے۔ شاذ ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ فون نہ کرے‘ وہ یہ فون سیاست پر اپنا چسکا پورا کرنے کیلئے کرتا ہے۔آج کل وہ لندن میں ہے‘ اس لیے کل اس کا فون آیا تو چھوٹتے ہی پوچھنے لگا: کل کیا ہوگا؟ میں نے کہا :وہی ہوگا ‘جس کا تمہیں بھی خوب اندازہ ہے۔ ملک خالد‘ مجھ سے پوچھنے لگا: تمہارا کیا خیال ہے‘ سزا کے بعد کیا ردعمل ہوگا؟ میں نے کہا: غیب کی باتیں خدا جانتا ہے‘ لیکن میرا اندازہ ہے کہ سب کچھ کنٹرول میں رہے گا۔ میاں صاحب جی ٹی روڈ والے مارچ کے بعد خود بھی خاموش ہیں۔ ہنسنا تو ایک طرف‘ وہ اب کھل کر رو بھی نہیں رہے۔ ایسے میں بھلا کوئی اور ان کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ وہ خود‘ ان کی صاحبزادی اور ان کی ساری منہ پھٹ ٹیم ایک عرصے سے ایسی خاموش ہے کہ ''سکوت مرگ‘‘ والا محاورہ یاد آتا ہے۔ ان کی پارٹی کا مورال ڈاؤن ہے۔ کارکن نکڑ لگے ہوئے ہیں۔ طلال چوہدری اور دانیال عزیز خدا جانے کس کونے کھدرے میں گھسے ہوئے ہیں۔ ایک مریم اورنگ زیب ہے‘ جو بیانات دے رہی ہے اور ایک پرویز رشید ہے ‘جو میاں صاحب کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر عدالتوں میں بھی چکر لگاتا نظر آتا ہے اور کبھی کبھار بیان بھی جاری کر دیتا ہے۔
ملک خالد‘ ہنسا اور کہنے لگا: یہ پرویز رشید ‘تمہارا دوست ہے‘ لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ میاں صاحب کو مروانے میں پرویز رشید وغیرہ کا بڑا ہاتھ ہے۔ نہ وہ انہیں ''پھوک‘‘ دیتے اور نہ ہی میاں صاحب آمادہ پیکار ہو کر واپس پاکستان آتے۔ آرام سے لندن میں مزے کرتے۔ حکومت نے کون سا الطاف حسین کو وہاں سے واپس پاکستان بلوا لیا ہے‘ جو میاں صاحب کو طلب کر لیتی۔وہاں اپنے بچوں کے پاس مزے کرتے‘ بیانات جاری کرتے رہتے۔ ملکی سیاست میں خیر سے بھونچال تو کیا لاتے؟ لیکن ہلچل پیدا کیے رکھتے‘ لیکن انہیں پرویز رشید جیسے جنگجوؤں نے ہوا بھر کر مروا دیا۔ میں نے پوچھا: مثلاً کس کس نے؟
ملک خالد ‘کہنے لگا: فی الحال تو مجھے صرف پرویز رشید ہی کا نام ذہن میں آ رہا ہے‘ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اگر دوسرا نام پوچھو تو وہ ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف تھی‘ جس نے والد محترم کو کونڈا کروایا۔ وہ خاتون بھی بہت Ambitious تھی اور زور بازو سے اپنے آپ کو منوانے پر تلی ہوئی تھی۔ وزیراعظم ہاؤس کا سارا میڈیا سیل وہ چلا رہی تھی اور آخری دنوں میں تو وزیراعظم کو بھی وہی چلا رہی تھی۔ تم نے ہی بتایا تھا کہ ہیلتھ کارڈ تقسیم کرنے کی مہم کا افتتاحی پروگرام رحیم یار خان میں ہوا تھا‘ اس میں میاں نواز شریف کو ہر دوسرے منٹ جو پیچھے سے ''پرچی‘‘ آ رہی تھی‘ وہ یہی مریم بی بی بھجوا رہی تھیں۔ یہ تو پھر ہونا ہی تھا۔
ملک خالد‘ کہنے لگا: دراصل میاں صاحب کو پانامہ پیپرز کے آنے کے فوراً بعد ہی پیدا ہونے والی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپریل 2016ء میں ازخود مستعفی ہو جانا چاہئے تھا اور شاہد خاقان کو جس طرح بعد میں وزیراعظم نامزد کیا تھا‘ اسی طرح کوئی اپنی مرضی کا وزیراعظم نامزد کرتے۔ میاں شہباز شریف کو اپنا سیاسی جانشین بناتے اور ولایت پدھار جاتے۔ دوسرا موقع تھا‘ جب وہ دل کے مرض کے باعث لندن گئے تھے۔ خرابی صحت کو جواز بناتے اور وہیں پڑے رہتے۔ تیسرا اور آخری موقع جو بہت ہی مناسب تھا‘ وہ تھا؛ جب وہ اپنی شدید بیمار اہلیہ کی عیادت کے لئے لندن گئے تھے‘ یہ ان کے لیے بہت ہی بہترین موقع تھا کہ وہ اس کی تیمار داری کے لیے لندن ٹھہر جاتے اور جس مرض میں وہ مبتلا تھیں اور جو ان کی حالت تھی ‘اس کے پیش نظر ان کے پاس وہاں رکے رہنے کا اخلاقی جواز بھی تھا اور وہ موقع بھی‘ لیکن انہوں نے کسی بھی موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا اور واپس پاکستان آ گئے۔ ملک خالد کہنے لگا: مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ نااہل ہونے اور سزا سن لینے کے بعد ان کا پاکستان کی سیاست میں کیا مقام رہ گیا تھا؟ انہیں کیا امید تھی کہ وہ واپس چلے آئے؟
اگر وہ پانامہ پیپرز کے فوراً بعد مستعفی ہو جاتے تو یقینی طور پر نااہلی سے بچ جاتے اور مستعفی ہونے کے بعد اخلاقی طور پر بہت بہتر پوزیشن میں آ جاتے۔ اسی دوران پارلیمنٹ کے ذریعے کمیشن بنا کر پتلی گلی سے نکل بھی جاتے۔ وہ بھلے وقتی طور پر سیاست سے علیحدہ ہو جاتے ‘لیکن واپسی کا راستہ بھی کھلا رہتا اور سزا وغیرہ سے بھی بچ جاتے‘ لیکن اپنے اقتدار کو طاقت سمجھتے ہوئے‘ وہ حالات کا درست ادراک نہ کر سکے اور سب کچھ گنوا بیٹھے۔ انہیں یقینا علم ہوگا کہ لندن کی جائیدادوں اور دیارِ غیر میں سرمایہ کاری کا ان کے پاس کوئی قانونی ثبوت نہیں کہ وہ اس سرمایہ کاری کی منی ٹریل دے سکیں‘ تو انہیں اس سارے معاملے کو دبائے رکھنے کی پیش بندی کرنی چاہئے تھی اور پنڈورا بکس کو کھلنے سے پہلے ضائع کرنے کے فارمولے پر عمل کرنا چاہئے تھا‘ مگر ان کے مشیروں نے ان کو ہر طرف سے مروایا۔ واپس بلوایا۔ اعلان جنگ کروایا۔جی ٹی روڈ پر میلہ لگوایا۔ مجھے کیوں نکالا کا نعرہ لگوایا۔ طاقت کے ہر مرکز کو للکارا ‘ مروایا اور بالآخر مروا دیا۔ میاں صاحب کا مسئلہ ہے کہ انہوں نے کبھی صحیح وقت پر صحیح فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے ہمیشہ غلط وقت پر درست اور صحیح وقت پر غلط فیصلہ کیا اور بالآخر سیاست سے نا صرف آؤٹ ہوئے‘ بلکہ جیل جا پہنچے۔
ان کے تو بچے ہی عقلمند نکلے۔ جے آئی ٹی سے بچ کر باہر بھاگے تو پھر واپس آنے کا نام نہ لیا؛ اگر موجودہ مقدمات کے دورانِ سماعت‘ پاکستان آ کر والد کی بجائے خود کو آگے کر لیتے تو شاید صورتحال کچھ مختلف ہوتی ‘مگر وہ تو ایسے سمجھدار نکلے کے والد صاحب کی علالت کے دوران اُن کو گھر سے یخنی بھی بنوا کر نہ بھجوائی اور علیل وزیراعظم کو لندن میں سرکاری خرچ پر کھانا کھانا پڑا۔ اندازہ کریں‘ دو ارب پتی بیٹے ‘اسی شہر میں باقاعدہ ان گھروں میں موج میلا کرر ہے ہوں‘ جو ان کے والد کی کمائی سے خریدے گئے ہوں اور ان کی فیملی بھی وہیں ہو‘ بلکہ ایک کی تو دو بیویاں اسی شہر میں ہوں اور ایک ٹفن پرہیزی کھانا بھی ہسپتال نہ پہنچا سکیں تو بھلا ایسے خود غرض اور ''سمجھدار‘‘ بیٹے بھلا باپ کی مشکل میں مدد کیلئے پاکستان کیسے آتے؟
اب اپیلیں ہوں گی اور اپیلیں در اپیلیں بھی ہونگی‘ لیکن وقت کا دھارا اب واپس نہیں بہہ سکتا۔ میاں صاحب نے اقتدار اور مفادات کی تقسیم کے زور پر اپنی ایک وفادار فوج تیار کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ یہ ''وفادار‘‘ ان کی جنگ لڑیں گے‘ لیکن مفاد پرست سوائے اپنی‘ کبھی کسی کی جنگ نہیں لڑتے۔ کچھ ضعیف العتقاد لوگوں کا خیال تھا کہ سوموار والے دن ہونے والا فیصلہ جمعے والے دن ہونے والے فیصلوں سے مختلف ہوگا‘ لیکن معاملہ از خود خراب ہو تو جمعے اور سوموار میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *