خطرے میں گھرا ہوا میڈیا

ملٹری  کی اصطلاح میں scorched-earth پالیسی سے مراد تباہی ، راستے مین آنے والی ہر شے کو ختم کرنا  مراد ہے جس میں انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا اور فصلوں تک کو برباد کر دینا شامل ہے۔

پاکستانی حکام کی زبان میں ایسا لگتا ہے کہ جو کوئی ریاستی بیانیہ کی مخالفت کرتا ہے اسے ایک غاصب فوج کا سپاہی مان لیا جاتا ہے  جو بیرونی قوتوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہو رہا ہو۔ چونکہ  اختلاف کرنے والوں کا واحد ہتھیار ان کی آراء ہوتی ہیں اس لیے انہیں ان آرا ء کو عوام کے سامنے لانے کے لیے ذرائع کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے سول حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں اس کے طاقتور محافظ  یہ یقین دہانی کر رہے ہیں کہ وہ لوگ جو ان سے متفق نہیں ہیں انہیں پلیٹ فارم پر نہ آنے دیا جائے۔  اس بیانیہ پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ  پاکستان کی موجودہ سویلین حکومت نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی میڈیا ریگولیشن پالیسی  پر عمل پیرا ہونے کی ٹھان لی ہے  جس میں صرف ایسے میڈیا کو تحفظ فراہم ہے جو حکومت کے حق میں بول رہا ہو۔ روسی تجزیہ نگار الیکسی کووالیو نے 2017 میں دی گارڈین  اخبار میں شائع ہونے والی تحریر میں روسی حکومت کے بارے میں یوں لکھا: ''ان کے  مطابق نیوز پورٹر  جو ریاستی اداروں کے لیے کام کرتے ہیں  جن میں تقریبا تمام روسی میڈیا گروپ شامل ہیں  وہ پہلے پبلک سرونٹ ہیں اور پھر صحافی۔ ''ہمارے ملک میں  بھی لگ بھگ یہی صورتحال ہے۔ بلکہ تھوڑا زیادہ بری صورتحال کا شکار ہے۔ کیوں کہ یہاں ایسی توقعات نجی سیکٹرز میں کام کرنے والے صحافیوں سے بھی متعلق کر لی گئی ہیں ۔ ہمیں نہ صرف حکام کی طرف سے بلکہ ان کے تھنک ٹینک  میں موجود  دلالوں کی طرف سے بھی لگا تار بتایا جاتا ہے کہ  ہمیں کیسے مثبت رپورٹنگ کرنی چاہیے۔  یقینا ایسا زبر دستی نافذ کیا جانے والا مثبت رویہ میرے یا آپ کے لیے کوئی  راستہ پیدا نہیں کرتا کہ  جس کے ذریعے ہمیں یقین ہو جائے کہ  کوئی چیز ایسی ہے جو قومی مفاد کے خلاف ہے  اور ہم اس کی مخالفت کریں  کیونکہ ہمارا ضمیر ہمیں ایسا کرنے پر ابھارتا ہے۔   قومی مفاد کی آپ کی اور میری  تعریف کوئی خاص معنی نہیں رکھتی۔ ٹی وی چینل بدلیں  اور دیکھیں کہ  بے شمار چینلز پر صبح اور شام کیا  کیا باتیں زیر بحث لائی جاتی ہیں۔ بہت جلد آپ کو معلوم ہو جائے گا  کہ معاملات کو کیسے ایک خاص دائرہ کے اندر محدود کر کے زیر بحث لایا جاتا ہے۔ کسی بھی طرح  اس حد کو پھلانگا نہیں جا سکتا۔ کچھ سیاسی جماعتیں اگرچہ وہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتی ہوں  اور ایک بڑے طبقہ کی حمایت رکھتی ہوں  وہ بھی میڈیا میں بہت کم نمائندگی حاصل کر پا تی ہیں  اور ان کے لیڈرز کے نام صرف سوشل میڈیا پر سننے کو ملتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ  میڈیا کے کچھ حصے  چونکہ حکومتی اشتہاروں پر انحصار کرتے ہیں اس لیے  وہ اس طرح کی صورتحال کو اپنانے پر مجبور ہیں۔لیکن پھر ہاکروں کے ذریعے کیبل پر ٹی وی چینلوں کی بندش اور اخبارات کی تقسیم  کے سلسلہ میں  سکیورٹی ایجنسیوں کی مداخلت  نے بھی ان زرائع کو محدود کر رکھا ہے  اور کمرشل ایڈورٹائزنگ مارکیٹ  کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ معاشی  ترقی میں آنے والی  رکاوٹ  کی وجہ سے  بہت سے آزاد میڈیا گروپس  جن میں 1000 سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں  جن میں صحاافی بھی شامل ہیں  ان کو  نئی حکومت کے آنے کے بعد نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں ۔ایک ٹی وی چینل اور کچھ اخباروں کو بند کر دیا گیا ہے، دوسرے  بہت سے میڈیا زرائع پر بندش کی تلوار لٹک رہی ہے  اور پوری صنعت میں  اخراجات  میں بھی کمی آ گئی ہے۔ حتی کہ معروف میڈیا ہاؤسز جو صحافیوں کو ملازمت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرواتے تھے اور وقت پر تنخواہیں دیتے تھے ان کو بھی اپنی بقا کی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے  اور خطرہ ہے کہ وہ یہ جنگ جیت نہیں پائیں گے۔   ٹویٹر اور دوسرے سوشل میڈیا ذرائع پر حکومت کی طرف سے اکاونٹ بند کرنے کی درخواستیں  بھی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت تنقیدی آوازوں سے کس قدر خوفزدہ ہے ۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ مخصوص سوشل میڈیا اکاونٹس پاکستان کے قوانین اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث ہیں جس پر انہیں سوشل میڈیا سے ہٹایا جانا چاہیے۔ میڈیا پر شائع ہونے والے مواد اور ٹویٹس پر بھی نظر  ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اکاونٹ کسی قسم کی عدم برداشت، نفرت اور شدت پسندی کا  پرچار نہیں کرتے  بلکہ صرف سویلین بالا دستی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ آئین کی پابندی کا مطالبہ اور شہریوں کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کا  ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کا مشکل وقت پاکستان میں آ پہنچا ہے ۔  میرے مطابق روسی، چینی، سعودی اور ترکی جیسے طریقے اختیار کر کے میڈیا پر سختی سے  دباو کی پالیسی اپنائے رکھنے سے  فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے اگرچہ اس طرح کے اقدامات حکومت اور اس کے پیچھے کھڑی قوتوں کو  یہ بہت پرکشش اور مفید معلوم ہوتا ہے۔  میں وضاحت کیے دیتا ہوں۔  ہمارے لوگوں نے آزادی کو چکھا ہے، اور جیسا کہ ووٹنگ کا طریقہ ہمیں بتاتا ہے کہ ملک میں زیادہ تر عوام  برسراقتدار پارٹی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ ایک آزاد میڈیا اقتدار سے محروم ہونے والوں  کے لیے ایک  سڑیم ریلیز والو کے طور پر کام کرتا ہے۔  اگر سختی سے ریگولیشن کر کے کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے کوئی بیانیہ زبردستی تھونپا جائے تو  یہ چیز بہت کم حد تک فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔  زیادہ تر پریشر ککروں سے بھاپ خارج کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ورنہ وہ پھٹ جاتے ہیں۔  ماضی کے بہت سے اہم مواقع پر افسوس ناک قومی حادثے پیش آئے کیوں کہ میڈیا  کو دباو میں رکھ کر خطرے کا الارم بجانے سے روکا گیا ۔  پاکستان  کی طویل المدتی  ترجیحات اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود  کا تحفظ تبھی ممکن ہو گا جب  تمام اہم پالیسیوں کے فوائد اور نقصانات پر آزادی سے بحث و مباحثہ کی آزادی ہو۔  اگر ایسا نہیں ہوتا یا اس کی اجازت نہیں دی جاتی  تو یہ نیند میں ایک  خواب سے دوسرے خواب تک چلنے جیسا ہو گا۔ کیا اب مجھے ایسے واقعات کو ایک ایک کر کے گنوانا ہو گا جو ہم نے مثبت رپورٹنگ کی اس زبردستی کی پالیسی کی وجہ سے اپنی تاریخ میں واقع ہونے دیے؟ اگر ہم ظالمانہ طاقتوں کے گھیرے میں ہیں اور دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں  تو  اس چیز کی ضرورت ہے کہ  اس پالیسی کا تجزیہ کریں جس کی وجہ سے ہم اس حالت میں ہیں۔ ملک کے طول و عرض  میں قابل قبول  پالیسیاں بنانے  کے لیے عوام کو اوپن ڈیبیٹ کی اجازت دینا اور تنقید کو برداشت کرنا ایک بہتر طریقہ ہو سکتاہے۔ میرے لیے  کھل کر بات کرنا اور اختلاف کو برداشت کرنے کی پالیسی زیادہ قابل ترجیح ہے  برعکس  زبردستی کی مثبت رپورٹنگ کے  جو پہلے ہی رئیلٹی چیک پر ڈگمگاتی اور بے فائدہ ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *