پروین شاکر کی موت کا سانحہ کیسے ہوا؟

" عرفان جاوید "

" 25ء دسمبر 1994ء کو سرکاری دفاتر میں چھٹی تھی۔ پروین اپنے بالوں میں مہندی لگایا کرتی تھی۔ اس روز بھی اس نے مہندی لگائی اور گھر کے کام نمٹائے۔ رات بھر بارش ہوتی رہی۔

اگلی صبح اس نے سبز رنگ کا لینن کا سوٹ زیب تن کیا، کالے رنگ کی جوتی پہنی اور کالے رنگ کا پرس تھاما اور صبح نو بجے دفتر جانے کے لئے گاڑی میں آ بیٹھی۔

پروین کی عادت تھی کہ وہ پہاڑ کے ساتھ چلنے والی مارگلہ روڈ پر سفر کرتی ہوئی دفتر جایا کرتی تھی۔ یوں یہ خوب صورت سفر خوش گوار دن کا پیغام ثابت ہوتا تھا۔

اس روز لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے رستے کے اشارے بند تھے۔ بارش ہو رہی تھی۔ جب فیصل مسجد کو جانے والی سڑک اور مارگلہ روڈ کے سنگم پر پہنچی تو فیصل مسجد کی جانب سے ایک بس تیز رفتاری سے آئی جسے اس کا کلینر چلا رہا تھا۔ وہ بس پروین کی چھوٹی نیلے رنگ کی کار کو ٹکرائی تھی سو کار کا ڈرائیور موقع پر دم توڑ گیا۔ پچھلی سیٹ پر بے ہوش اور زخمی پروین نیم دراز تھی۔ اس کے پیروں میں اس کی بیاض کھلی پڑی تھی اور سر سے خون بہہ رہا تھا۔ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ وہ پروین کو پہچان نہ سکے تھے۔ انھوں نے ایک راہ گزرتی وین کو رکنے کا اشارہ کیا اور خاتون کو وین میں لٹایا۔ وین کے ڈرائیور نے خاتون کے بیگ سے تعارفی کارڈ نکالا تو اس پر "پروین شاکر" لکھا دیکھ کر دہل گیا۔

ادھر اسلام آباد کے ایک گوشے میں رقص اجل جاری تھا۔ ادھر ایک اور گوشے میں واقع دفتر میں پروین کی عزیز ترین ہم درد سہیلی پروین قادر آغا کو دس بج کر بیس منٹ پر پروین کے بیٹے مراد کا فون آتا ہے۔ وہ گاڑی اور ڈرائیور مانگتا ہے۔ اس روز ان کا ڈرائیور ایک شادی کے انتظامات میں مشغول ہوتا ہے، لہذا وہ معذرت کر لیتی ہے۔ مراد گلوگیر لہجے میں انھیں اپنی امی کے حادثے کا بتاتا ہے۔ پروین قادر آغا کا دل دہل جاتا ہے۔ وہ پریشان ہو کر سوچتی ہیں کہ کہیں پروین شاکر کو زیادہ چوٹیں نہ آئی ہوں۔ وہ اسپتال کی جانب لپکتی ہیں۔ وہاں شعبہ ء حادثات میں اس وین کا ڈرائیور موجود ہوتا ہے جو زخمی پروین کو اسپتال لایا ہے۔ وہ پروین قادر آغا کو بتاتا ہے کہ کار ڈرائیور فوت ہو گیا ہے۔ یہ سن کر ان کی ٹانگوں سے جان نکل جاتی ہے۔ اچانک سامنے کمرے کا دروازہ کھلتا ہے، اسٹریچر پر پروین کو لایا جاتا ہے اور اسے ایکس رے روم کی جانب لے جایا جاتا ہے۔ اتنے میں معصوم مراد (گیتو) ٹیکسی پر اسپتال پہنچ جاتا ہے۔ وہ اپنی امی کے لئے بے حال ہو رہا ہے۔

آپریشن تھیٹر کے ڈاکٹر مراد کی امی کو پہچان نہیں پائے اور جب انھیں بتایا جاتا ہے کہ وہ پروین شاکر ہے تو وہ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ پروین کے سر میں شدید ضربیں آئی ہیں اور ناک منہ سے خون بہہ رہا ہے۔

اتنے میں ایک نرس باہر آتی ہے اور پروین قادر آغا کے ہاتھ میں پروین کے ناک کی لونگ اور کلائی کی گھڑی رکھ جاتی ہے۔ وہ ہکا بکا کھڑی ہیں۔ اتنے میں وہی وین کا ڈرائیور آتا ہے اور کہتا ہے۔ "وہ نہیں رہی، چل بسی۔" پروین قادر آغا کا بیٹا ڈاکٹر جہاں زیب بھی وہاں پہنچ چکا ہے اور ماں سے نظریں چرا رہا ہے۔ پروین شاکر کی موت کی اطلاع شہر بھر، ملک بھر اور دنیا بھر میں آناً فاناً پھیل جاتی ہے۔

دنیا کے لئے وہ پروین شاکر ہے، مراد کی تو امی ہیں۔
مراد کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ وہ سبھی بچے جن کی مائیں مر جاتی ہیں، شروع میں تو ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔

پروین شاکر کی ماں اور بہن کراچی سے اسلام آباد پہنچ جاتی ہیں۔ ان کے دل دوز بین دلوں میں چھید ڈالتے ہیں۔ ماں پکارتی ہے۔ "پارو! تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ میری پارو! تم خاموش کیوں ہو؟ جواب دو، مجھ سے باتیں تو کرو۔"

جنازہ اٹھتا ہے تو گھن گرج سے بارش شروع ہو جاتی ہے، بالکل ویسی ہی بارش جیسی پارو کی پیدائش کے وقت ہوئی تھی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *