شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں !

ایف ڈی مخمور کے متعلق روایت ہےکہ جب وہ پیدا ہوا تو اسے شہد چٹانے کی کوشش کی گئی مگر اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔جب اس کا منہ کھولنے کی کوشش کی گئی تو اس نے مضبوطی سے ہونٹ بند کر لئے اور نیم وا آنکھوں سے بائیں جانب طاق پر رکھی ہوئی کوڈین کف سیرپ کی سیل بند بوتل کی طرف دیکھنے لگا۔ چنانچہ موقع پر موجود ایک جہاں دیدہ بزرگ نے شہد والا چمچ پرے سرکا کے وہ بوتل کھولی جس پر ایف ڈی مخمور نے فوراً منہ کھول دیا اور پھر ایک سانس میں آدھی بوتل غٹا غٹ پی گیا۔ باقی بوتل یہ بزرگ ڈیک لگا کر خود چڑھا گئے۔ بعدازاں مخمور کے والدین الکوحل سے لبریز دوا اسے مستقل پلاتے رہے کیونکہ اسے شام ڈھلتے ہی کھانسی کا دورہ پڑتا تھا اور یہ دورہ اس وقت شدید ہو جاتا جب آسمان پر کالی گھٹائیں بھی چھائی ہوں۔

ایف ڈی مخمور نے جوانی میں قدم رکھتے ہی ایکسائز کے محکمے میں نوکری حاصل کرنے کے لئے تگ ودو شروع کر دی چنانچہ اس کے نتیجے میں وہ سب انسپکٹر بھرتی ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔مخمور ایک ذمہ دار اور کامیاب افسر تھا وہ شراب کے خفیہ ٹھکانوں پر کامیاب چھاپے مارتا اور اس کے نتیجے میں شراب کی سینکڑوں بوتلوں پر قابض ہو جاتا ۔ شنید یہ ہے کہ جب پہلی تاریخ کو اس نے تنخواہ وصول کی تو وفور حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں چنانچہ اس نے شدید حیرانی کے عالم میں اپنے ایک ساتھی سے کہا : ہمیں تنخواہ بھی ملتی ہے !۔

ایف ڈی مخمور نے ملازمت ملنے کے کچھ عرصے بعد شادی کرلی اس کی بیوی بہت خوبصورت تھی یہ مخمور کا اپنا بیان تھا کیونکہ اس نے جب بھی اسے دیکھا مدہوشی کے عالم میں دیکھا چنانچہ اس چندے آفتاب اور چندےماہتاب خاتون کے بطن سے گیارہ بچے پیدا ہوئے ۔مخمور اکثر رات گئے گھر لوٹتا تھا چنانچہ ایک روز آدھی رات کو کسی نے دروازے پر دستک دی اس نیک بخت نے دروازہ کھولا تو مخمور اور اس کے چند دوست نشے میں دھت کھڑے تھے۔ ان میںسے ایک نے پوچھا مخمور صاحب کا گھر یہی ہے ؟ اس نیک بخت نے ہاں میں جواب دیا تو اس نے لڑکھڑاتے ہوئے کہا آپ براہ کرم ہم میں سے اپنے خاوند کو ذرا جلدی پہچان کر اندر لے جائیں ابھی ہم سب نے اپنے اپنے گھروں کو جانا ہے۔

مخمور ایک نہایت خلیق اور منکسر المزاج انسان تھا خصوصاً عالم سکر میں وہ اپنوں اور غیروں کے سامنے بچھ بچھ جاتا تھا۔ وفور محبت سے ان کے بوسے لیتا اور پائوں کو ہاتھ لگاتا۔وہ بہت حساس بھی تھا ایک روز رات کے دو بجے اپنے ایک مے نوش دوست ساغر جام پوری کی کسی حرکت سے آزردہ ہو کر وہاں سے اٹھ آیا اور اپنے ایک عزیز دوست کے گھر کنڈی کھڑکائی ۔ دوست کے ساتھ اس کے گھر والے بھی اٹھ بیٹھے کہ خدا خیر کرے اتنی رات گئے دروازے پر دستک کیوں ہوئی ہے ؟دوست پریشانی کے عالم میں باہر نکلا اور اس وقت آنے کی وجہ دریافت کی تو مخمور نے اپنی مخمورآنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کوئی ایسی بات نہیں میں نے صرف یہ پوچھنا تھا کہ یہ ساغر جام پوری شے کیا ہے ؟ اور پھر کوئی دوسری بات کئے بغیر فوراً اس سے رخصت ہو گیا۔ وہ اتنی رات گئے اپنے دوست کے آرام میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔

ایف ڈی مخمور کی وفات بہت حسرتِ آیات تھی یہ وفات ایک غلط فہمی کی وجہ سے ہوئی میں اس کی زیادہ تفصیل میں نہیں جائوں گا بس مختصر یہ کہ ایک روز مخمور اپنے دوستوں کی محفل میں بیٹھا شراب پی رہا تھا اور کباب کھا رہا تھا اس دوران ساقی نے اس کے ہوش کچھ یوں اڑائے کہ اس نے شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں ۔ اور پھر یہ ’’شراب‘‘ پینے کی کوشش میں شراب یعنی سیخ اس کے حلق میں پھنس گئی جس سے موصوف موقع پر ہی دم توڑ گئے ۔

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگq\q

اور اب آخر میں حامد ولیدکی ایک غزل کے چند اشعار

چمن کب ایسے کاموں سے سنورتا ہے

ہوا جب تیز چلتی ہے تو شیرازہ بکھرتا ہے

ہمیں اڑنے نہیں دیتا ہماری اپنی مرضی سے

ہمارے شہر کا حاکم ہمارے پر کترتا ہے

وہ جب بھی بیٹھ جاتا ہے بڑے صاحب کی کرسی پر

وہ ایسی بے تکی باتیں تو آئے روز کرتا ہے

ہوا بھر کر غبارے میں وہ خود ہی پھاڑ دیتا ہے

اسے وہ مار دیتا ہے ادا پر جس کی مرتا ہے

میں اس کی آنکھ میں کھٹکوں میں اس کے دل میں لرزاں ہوں

ڈراتا ہے مجھے جتنا وہ اتنا خود بھی ڈرتا ہے

بھلے تم شوق سے مسلو چمن کے سارے پھولوں کو

مگر یہ ذہن میں رکھنا جو کرتا ہے وہ بھرتا ہے

ولید اس گھر میں لگتا ہے کہ جنوں کا بسیرا ہے

یہاں سناٹا رہتا ہے، یہاں ہر شخص ڈرتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *