ڈرامہ 'آنگن' پر مداحوں کو غصہ کس بات پر آرہا ہے؟

رواں سال جس ڈرامے 'آنگن' کا صارفین کو شدت سے انتظار تھا وہ رواں ماہ ہم ٹی وی سے نشر ہونا شروع ہوگیا۔

20 دسمبر کو شروع ہونے والے ڈرامے کو ناظرین نے تو پسند کیا ہی اس کے ساتھ ساتھ ناقدین نے بھی اداکاروں کی کردار نگاری اور کہانی کو خوب سراہا۔

احسن خان اور سونیا حسین کی لو اسٹوری نے لوگوں کو متاثر کیا جبکہ ہر ایک ہی سجل علی، احد رضا میر اور ماورا حسین کی تکون کے شدت سے منتظر ہیں۔

مگر ہم ٹی وی نے اس ڈرامے کے ساتھ مداحوں کو ایک دل توڑ دینے والا سرپرائز بھی دیا ہے۔

درحقیقت ٹی وی چینیل نے اعلان کیا کہ یہ ڈرامہ صرف ٹی وی پر ہی نشر ہوگا اور اسے یوٹیوب پر ریلیز نہیں کیا جائے گا۔

اس پر لوگوں نے فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے کو مسترد کردیا۔

اور اب ڈرامے کی دوسری قسط جمعرات کو نشر ہوئی اور اب بھی یوٹیوب پر اسے ریلیز نہ کرنے پر مداحوں میں کافی اشتعال دیکھنے میں آیا۔

ایک صارف نے ٹوئیٹ کیا ' میں آنگن کے لیے بہت پرجوش تھی اور اب مجھے اس کی کوئی پروا نہیں، میں اسے اب کسی صورت نہیں دیکھوں گی، آپ کی مارکیٹنگ حکمت عملی ناکارہ ہے'۔

کچھ کو لگا جیسے ہم ٹی وی نے انہیں دھوکا دے دیا ' ہم ٹی آپ نے بڑی تعداد میں ناظرین کو کھو دیا، یہ دل توڑ دینے والا ہے کہ یہ وہی لوگ ہے جن کے سامنے اس ڈرامے کی تشہیر ایک برس سے کی جارہی تھی، ناظرین کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہئے تھا'۔

بیرون ملک رہنے والوں کے لیے یہ زیادہ بڑا دھچکا ہے۔

ایک صارف نے ٹوئیٹ کیا ' بین الاقوامی ناظرین ہی بڑی وجہ ہیں جن کی وجہ سے ٹی وی شوز جیسے ہمسفر، زندگی گلزار ہے اور دیگر مقبولیت کی انتہا پر پہنچے اور اب آپ نے ہمیں ہی مکمل نظرانداز کردیا، میرا خیال ہے کہ اب آنگن کو ویسا موقع نہیں ملے گا'۔

ایک نے سوال کیا ' تو بین الاقوامی ناظرین آنگن کو کہاں دیکھیں؟'


ایک نے تو واہگہ بارڈر پر دھرنے کی دھمکی بھی دے دی۔


کچھ کا دل اس اعلان سے ٹوٹ گیا۔


اسی طرح کچھ نے ڈرامے کو ہی الوداع کہہ دیا۔


ایسی افواہیں سامنے آرہی ہیں کہ آنگن کو نیٹ فلکس کو فروخت کیا جائے گا، جس پر کچھ افراد پرجوش اور کچھ نے تنقید کی ہے۔

مگر کچھ مداحوں نے نیٹ فلکس صارفین سے درخواست کی کہ وہاں سے اس ڈرامے کو ڈاﺅن لوڈ یا ریکارڈ کرکے دیگر تک پہنچانا نہ بھولیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *