ایمپائر کا سال

جیسے کہ 2018 ختم ہونے جا رہا ہے ،اگرچہ آپ کنٹرولڈ جمہوریت اور سول ملٹری عدم توازن پر تنقید کرنے والے بھی ہوں تو بھی آپ کو لوگوں کو ان کے کام کا کریڈٹ دینا ہو گا۔ ہمارے 10 سالہ سویلین اور  فوجی اقتدار کے چکر میں کچھ  ایسے سال آئے جن میں کچھ طاقتوں نے براہ راست کنٹرول سنبھالا ، لیکن 2018 میں اس قدر بہترین طریقےسے پردے کے پیچھے چھپ کر کنٹرول حاصل کیا گیا کہ اسے امپائر کا سال قرار دیا جانا چاہیے۔ اگرچہ پورا کنٹرول امپائر کے پاس تھا لیکن آپ یہ کسی صورت ثابت نہیں کر سکتے۔

یہ غالبا ایم کیو ایم پراجیکٹ کی کامیابی تھی جس نے اس ماڈل کو پورے ملک پر نافذ کرنے کے لیے راہیں ہموار کیں۔  یاد کیجیے کہ ایم کیو ایم نے کراچی میں کس طرح حکومت کی۔ کراچی کی فضا میں خوف، نہ ختم ہونے والے فون خطاب اور گانے، شٹر ڈاؤن، بھتہ، کراچی کے ساتھ میڈیا کا جنون، حتی کہ ایم کیو ایم کے بارے میں ہر چیز ایک بریکنگ نیوز تھی۔ اور ثبوت؟ کوئی نہیں، ۔ ہمارے پاس ایم کیو ایم بہادر آباد، ایم کیو ایم پی آئی بی، پاک سر زمین پارٹی اور ایم کیو ایم لندن کی پارٹیاں  آ گئیں۔  اور پھر وہ سب محدود ہو کر اپنے ماضی کا سایہ  بن کر رہ  گئیں جن کا کام اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لیے ایمپائر کی نوکری کرنا تھا۔

2018 بلوچستان میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ساتھ شروع ہوا۔کیا امپائر نے اس حرکت کی ترغیب دی؟  کیا اسی نے پراجیکٹ سنجرانی کی راہ ہموار کی؟  رکیے۔ کیا آصف زرداری نے پی ایم ایل۔ این کو بلوچستان میں باہر پھینک کر ان سے سینیٹ کی سیٹ چھیننے کا کریڈٹ نہیں لیا؟ کیا پی ٹی آئی نے پی پی پی کے ساتھ مل کر سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے ووٹ نہیں دیا؟ امپائر نے ضرور ترغیب دی ہو گی۔ لیکن یہ آصف زرداری اور پی ٹی آئی تھے  جنہوں نے عملی طور پر یہ کام سر انجام دیا اور اسی طرح ٍآصف زرداری  بھی  اینٹ سے اینٹ والی تقریر سے رجوع کر کے   سنجرانی کے انتخاب میں اہم کردار ادا کیا۔

2018 کے لیے بنیاد 2017 میں بنائی گئی۔ لیکن کیا امپائر نے پانامہ لیکس کی تصنیف کی؟ کیا اس نے جے آئی ٹی بنائی اور نواز شریف کو کرسی سے ہٹایا؟ یہ سپریم کورٹ تھی۔ کیا اس نے نواز شریف کی سزا احتساب عدالت سے لی؟ نہیں۔ یہ نیب تھا۔ کیا نواز شریف کو امپائر کی طرف سے سزا سنائی گئی اور جیل بھجوایا گیا؟ نہیں۔ احتساب عدالت نے سپریم کورٹ کے زیر نگرانی ایسا کیا۔ سپریم کورٹ خود مختار ذہنیت کے ججوں پر مشتمل ہے جو خدا نخواستہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہو سکتے۔ کوئی کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ امپائر کا نواز شریف کے باہر ہونے سے کوئی لینا دینا تھا؟

چلیں 2018 کے انتخابات کی طرف چلتے ہیں۔ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ الیکشن فکس تھے؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ ہماری تاریخ میں ہر الیکشن کی نگرانی ہوتی رہی؟ امپائر کا انتخابات کے نتائج کے ساتھ کیا لینا دینا تھا؟ پی ٹی آئی کی شہرت 2011 سے عروج پر تھی۔ یہ 2013 میں ایک پر زور اپوزیشن پارٹی بن کر ابھری۔ کیا آدھے ملک نے 2013 میں نہیں سوچا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے؟ ہم نے دھرنے دیکھے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو دیکھنے کے لیے ایک کمیشن بنایا۔ یہی چیز 2018 میں واقع ہوئی۔ ہم بس ہار نہ ماننے والا ایک گروہ ہیں  ہیں۔ جو بھی ہارتا ہے، چیختا ہے۔

کیا الیکشن کمیشن نے 2018 الیکشن کے انتظامات نہیں کیے جس کے ارکان کو پی ایم ایل این اور پی پی پی نے تعینات کیا تھا ( نہ کہ پی ٹی آئی اور امپائر نے)؟ کیا سپریم کورٹ نے اعلان نہیں کیا کہ یہ یقین دہانی کی جائے گی کہ یہ آزادانہ انتخابات ہوں گے؟ اگر پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ سٹیشنوں سے باہر پھینک دیا گیا یا اگر فافن کا  دعویٰ ہے کہ 95 فیصد 45-فارم پر ایجنٹوں کے دستخط نہیں ہوئے، کسی طرح کے مصدقہ ثبوت نہیں ہیں جو الیکشن کمیشن یا ہماری خود مختار ی کی دعویدار سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے جا سکیں، تو  اس کا الزام امپائر پر کیسے لگا یا جا سکتا ہے؟  ایک جنگ ہوئی۔ بہترین شخص جیت گیا۔

کیا امپائر نے بار بار اعلان نہیں کیا کہ یہ جمہوری عمل کا تسلسل چاہتا ہے؟  کیا ہمارے منتخب وزیر اعظم کو شان کے ساتھ جی ایچ کیو میں مدعو نہیں کیا گیا اور کیا سب کو آنکھوں دیکھی تصدیق مہیا نہیں کی گئی کہ یہ وزیر اعظم تھے جو جرنیلوں کے انچارج تھے؟ وزیر اعظم عمران خان نے بار بار انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے اپنے مقصد کا اعلان کیا۔ کیا امپائر نے ان کے دشمن کے ساتھ پیار جتانے پر انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی؟ کیا آرمی چیف کرتار پور راہداری کے افتتاح پر وزیر اعظم کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں ہوئے؟ کیا نقاد نہیں سمجھتے کہ امپائر حکومت کی انڈیا پالیسی کا حمایتی ہے؟

اور کیا امپائر نے اپنے کاموں پر ایک حد سے زیادہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی؟ شکریہ راحیل شریف اور تمام دوسرے  شہرت حاصل کرنے کے اقدامات کو یاد کیجیے۔  کیا موجودہ چیف نے اس طرح کے پراجیکشن کی کوشش کی ہے؟ پھر میڈیا کی سیلف سنسرشپ  یا  غلط طریقے سے معاملات چلانے پر امپائر سے شکوہ کیوں؟ یہاں درجنوں چینل ہیں۔ کیا خفیہ ہاتھ پردے کے پیچھے رہ کر ان سب کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور انہیں ہدایات دے سکتے ہیں کہ کیا کہنا اور کیا کرنا ہے؟ اگر انہیں  مجبور کیا جا رہا ہے تو کیا وہ آزاد اور خود مختار عدلیہ کے سامنے اپنی شکایات لے کر نہیں جا سکتے؟

ہم سنتے ہیں کہ نواز شریف اور آصف زرداری کو 2018  کے اختتام سے  قبل گرفتار کر لیا جائے گا ۔ نواز شریف غیر قانونی طور پر قومی دولت کو لوٹنے کی وجہ سے عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔ سپریم کورٹ ان احتسابی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہی ہے اور اگر نواز شریف کو جیل ہو جاتی ہے، تو اس وجہ سے ہو گی کہ  سنوائی کرنے والا جج اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ نواز شریف مجرم ہیں۔ تو امپائر کا عدالتی عمل کے ساتھ کیا لینا دینا؟ آصف زرداری کے کیس میں نیب دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ کے الزامات کی چھان بین کرتا رہا ہے۔ اگر اسے ثبوت مل چکے ہیں اور یہ سپریم کورٹ کو ان پر آمادہ کر سکتا ہے کہ زرداری غلط کاموں میں ملوث ہیں  تو پھر امپائر سے شکوہ کیوں؟

ہمارے پاس چیف جسٹس پاکستان ہیں جو اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس نیب چیئر مین ہے جو تمام برے لوگوں کو جیل میں بند کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے پاس ایک وزیر اعظم ہے جو ہر طرح کی رشوت خوری اور کرپشن کو ختم کرنا چاہتا ہے جو نظام کی خرابی کا باعث ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ عدلیہ تبدیلی میں ایک وسیلہ رہی ہے،  کیا پاکستان 2019 میں ایک مختلف سرزمین ہو گی؟

اگر ہم رولف ڈوبیلی کی کتاب 'دی آرٹ آف تھنکنگ کلیرلی' میں دئے گئے اصول fundamental attribution errorکو مد نظر رکھین تو لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ ان کے مطابق اس سے مراد کسی بھی شخص  یا بیرونی اور اندرونی حالات کی طاقت کو انڈر اسٹیمیٹ کرنے کا خیال ہے جو منفی واقعات کو فائدہ مند اشئیا میں بدلنے میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈوبیلی کہتے ہیں کہ ہم جب زندگی کی رنگینیوں میں کھوئے ہوتے ہیں تو یہ نہیں دیکھ پاتے کہ سٹیج پر موجود لوگ کبھی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ خود پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس کی بجائے وہ حالات کے مطابق ڈگمگاتے رہتے ہیں۔ اگر آپ ڈرامہ کی حقیقت کو جاننا چاہتے ہیں تو  کرداروں سے پیچھے دیکھنا سیکھیں۔ ان حالات کو دیکھیں جو کرداروں کو مختلف کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں صرف ایمپائر ایسا ادارہ بن کر ابھرتا ہے جو حقیقت میں ایک آزاد ادارے کی طرح کام کر سکتا ہے۔  بات یہ نہیں ہے کہ افراد اہمیت نہیں رکھتے۔ وہ اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ شخصی ترجیحات سے بھی کچھ ہی وقت میں فیصلے بدلے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایک عزم شخصی سطح پر پورا نہ ہو پا رہا ہو تو کیوں نہ اس طاقت کو اختیار کر لیا جائے جو ذمہ داری سے بھی آزاد کر دے اور الزام بھی نہ آ پائے؟  اگر ایمپائر نے پردے کے پیچھے چھپ کر اختیار کا استعمال کرنا سیکھ لیا ہے تو پھر اسے کیا ضرورت ہے کہ طریقہ بدل کر خود کو سامنے لائے۔

اگر ایم کیو ایم پراجیکٹ کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ جب کسی پارٹی کو کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے تو پھر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو ڈیل آفر کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر نواز شریف کو چھوڑنا ہوتا تو اسے چور قرار دینے کا بیانیہ کیوں آزمایا جاتا؟ اگر وہ اپنی ضد پر اڑا ہے اور ہمارے اشاروں پر نہیں نا چ رہا تو کیوں نہ اس کو ہٹا کر ایسے لوگوں کو لایا جائے جو ہمارے اشااروں پر چلنے پر راضی ہیں؟ آصف زرداری کو کیوں نہ عدالت سے سزا دلوائی جائے کیونکہ وہ پچھلی دو دہائیوں سے رٹ لگا رہا ہے کہ اس کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا؟ 2018 کے سال کی طرح آصف زرداری اور نواز شریف کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ سیاست کے میدان سے ہٹ جائیں اور ملک کے نظام کو چلنے دیں؟

ہمارے وزیر اعظم ایک کرشماتی شخصیت ہیں۔ ان کے بہت سے فالورز اور مداح ہیں۔ ان کے پاس قابلیت ہے کہ وہ آصف زرداری اور نواز شریف کے خلاف سخت کاروائی کی نگرانی کریں کیونکہ حالات و واقعات کے اثرات کے مطابق ناچنے کی ان کی خوبی ثابت شدہ ہے۔ جب تک وہ امپائر سے اختیارات کا مطالبہ کر کے اپنے پاوں پر خود کلہاڑی نہیں مارتے تب تک وہ قابل قبول ہی رہیں گے۔ عدلیہ اور فوج کے بیچ فرق بھی اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ یہ دونوں ادارے پاکستان کو سیاستدانوں سے پاک کر کے ترقی کی راہوں پر ڈالنے پر متفق ہیں ۔ کیا اس طرح کا حسین موقع پہلے کبھی پاکستان کی تاریخ میں آیا ہے؟

اب یہ پوچھ کر اپنے چھٹیوں کا مزہ خراب کرنا بے وقوفی ہو گی کہ یہ ماڈل قابل عمل ہے بھی یا نہیں۔ فی الحال صرف جشن منانے کا وقت ہے۔ بہت اچھا کیا ہے صاحب آپ نے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *