شاہ لطیف بھٹائی سندھ ہے

مستنصر حسین تارڑMHT

ہمیں رات سے پہلے بِھٹ شاہ پہنچنا تھا۔۔۔ اس ٹیلے پر پہنچنا تھا، اس بِھٹ پر جہاں آبادی سے دور ایک شاعر نے قیام کر لیا تھا اور اس ویرانے میں اس کی شاعری کی جادوگری سے بہار آ گئی تھی۔۔۔ وہ بِھٹ شاہ ہو گیا تھا۔
سندھ یاترا میں میری جو تین خواہشیں، دیکھ کہ دل کہ جاں سے اٹھتی ہیں۔ اُن میں سے دو پوری ہو چکی تھیں۔۔۔ سچل سرمست اور عثمان مروندی سے میل ہو چکا تھا اور اب شاہ عبداللطیف بھٹائی سے ملاقات ہونے والی تھی۔۔۔ کہاوت ہے کہ بھٹائی سندھ ہے۔۔۔ بھٹائی نہ ہوتا تو سندھ نہ ہوتا تو ہم دراصل سندھ سے ملاقات کرنے کو جا رہے تھے۔۔۔
کاگا سب تن کھائیو، چُن چُن کھائیو ماس
پیا ملن کی آس، دو نیناں مت کھائیو
چنانچہ یہ شاہ لطیف تھا جس کے ڈیرے کی منڈیر پر میں گناہوں کی ایک سیاہ پوٹلی کوّے کی صورت میں آبیٹھا تھا۔۔۔ پر میں وہ کاگا تھا جو اپنا ہی ماس کھاتا تھا اور کائیں کائیں کرتا کہتا تھا۔۔۔ میں آیا مُکھ ویکھن کو۔۔۔ شاہ لطیف محض ایک شاعر نہ تھا، ایک کائنات تھا جس میں گھومتے سیّاروں اور ستاروں کا کچھ شمار نہیں ہو سکتا۔۔۔ وہ ایک گھٹا گھنگھور تھی جو پیاسی سر زمین سندھ پر برسی، ایسے کہ سندھی زبان، ادب اور یہاں جتنے بھی دل دھڑکتے تھے، آج تک اسی سے سیراب ہو رہے ہیں۔۔۔ فہمیدہ ریاض جس سے میری شناسائی بھی ہے اور میں اس کی شاعری کی اثر انگیزی کا شکار بھی ہوں اُس نے کیا عمدہ کہا کہ۔۔۔ تمام فنون لطیفہ کی طرح ادب میں بھی ایک الوہی صفت موجود ہے جو ’’ناممکن‘‘ میں ’’سہل‘‘ کا بیج بوتی ہے۔۔۔ سوچو تو مشکل اور محسوس کرو تو آسان۔۔۔ یہی ادب عالیہ کا خاصہ ہے۔۔۔ روسو ہو کہ شیکسپیئر یا بِھٹکا شاہ ،ان کی تخلیقات اسی لیے لازوال ہیں۔
رحیمن دھاگا پریم کا، مت توڑو چھٹکائے
ٹُوٹے تو پھرنا جُڑے، جُڑے گانٹھ پڑ جائے
انگریز محقق ڈاکٹر سورلے کا کہنا ہے کہ جو کچھ رُومی، جامی، حافظ نے کہا ہے شاہ لطیف نے اُسے کہیں بہتر انداز میں بیان کیا ہے۔۔۔ اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے کہ شاہ اِن عظیم صوفی شعراء سے برتر ہے۔۔۔ بلکہ جو کچھ وہ بیان کر چکے شاہ نے وہ سب کچھ بہتر انداز میں تخلیق کیا ہے۔ شاہ نے عوامی کہانیوں کو اپنے عشق اور معرفت کے چولے پہنا کر ایک نئی معنویت سے آشکار کیا۔ سُورٹھ اور رائے ڈیاچ، نُوری جام تماچی، سسی پنّوں، مومل رانو، عُمر ماروی یہاں تک کہ پنجاب کا قصہ سوہنی مہینوال، یہ سب قصے شاہ کے الوہی قلم میں سے نئی داستانوں اور نئی معنویت کی صورت نکلے۔
اب یہاں میں تھوڑا سا بھٹک جانا چاہتا ہوں اور اپنے پڑھنے والوں کو اپنی ایک حیرت میں شریک کرنا چاہتا ہوں۔
سوہنی گجرات کے ایک کمہار کی بیٹی تھی، وہ اپنے شہزادے عزت بیگ سے ملاقات کرنے، اپنے مہینوال سے ملنے یہ جاننے کے باوجود کہ اُسے ہر شب چناب کے پار لے جانے والا گھڑا بدل دیا گیا ہے، ایک کچے گھڑے کے آسرے دریا میں اتر گئی۔۔۔
سوہنی گھڑے نُوں آکھدی، اَج مینوں پار لنگھا گھڑیا
کچّا گھڑا اس کی منت سماجت کے باوجود اُسے پار نہ لے جا سکا۔۔۔ چناب کے پانیوں میں گھل گیا اور سوہنی ڈوب گئی۔ ایک بار میں اور گلوکار شوکت علی اسلام آباد سے لاہور ایک فوکر فرنیڈ شپ جہاز میں آ رہے تھے اور کھڑکی تلے ہمیں دریائے چناب نظر آیا جسے عاشقوں کا دریا بھی کہا جاتا ہے تو شوکت کہنے لگا، تاڑ بھائی، لوگ پوچھتے ہیں کہ سوہنی کی قبر کہاں ہے تو چناب کا کُل بہاؤ سوہنی کی قبر ہے۔۔۔ میں حیرت کا شکار تب ہوا جب 24 مارچ کے روزنامہ ’’ڈان‘‘ میں ریما عباسی کا تحقیق کردہ ایک مقالہ ’’دے شرائن آف ڈیفائنٹ لَو‘‘ کے عنوان سے نظر نواز ہوا۔ سوہنی بے شک چناب میں ڈوب گئی لیکن جانے کیسے اس کی قبر شہداد پور کے قصبے سے کچھ فاصلے پر موجود ہے۔ اگرچہ لوک داستان کے مطابق سوہنی اور مہینوال ایک ہی قبرمیں دفن ہو گئے، لیکن جس مقام پر دریا کی لہروں نے اُن کی لاشوں کو کنارے کے سپرد کیا انہیں وہیں دفن کر دیا گیا لیکن ایک غیر محرم مرد کے ساتھ ایک عورت کا دفن ہونا کچھ لوگوں کو منظور نہ تھا چنانچہ۔۔۔ وہاں صرف سوہنی دفن ہے اگرچہ اُس کے مقبرے پر لکھا ہے ’’مائی سُتھی مزار‘‘ سوہنی کو سندھی میں سُتھی کہا جاتا ہے۔ شہداد پور کے بہت گھنے اور لوگوں کے ہجوم سے ٹھنسے پڑے سنار بازار کے درمیان میں سوہنی کی قبر ہے۔ اس مزار میں سوہنی کے چاہنے والے فقیروں اور فقیرنیوں کی ڈھیریاں ہیں جن پر چنریاں سجی ہیں۔ سوہنی کے مزار کا کتبہ کسی ایرانی کاریگر کے ہاتھوں کا تراشا ہوا ہے اور اُس پر فارسی میں ا یک دُعا نقش ہے۔۔۔ دُعا پانیوں کی خواہش کی ہے۔۔۔ کہ سوہنی کے صدقے جو چناب کے پانیوں میں ڈوب گئی اس دھرتی کو پانیوں سے سیراب کر دے۔
اور سوہنی کی قبر پر کس کا کلام ثبت ہے۔۔۔ شاہ لطیف کا۔۔۔ اُس کے ’’سُر سوہنی‘‘ کے اشعار درج ہیں۔۔۔ مزار پر موجود ایک اجنبی کہتا ہے ’’شاہ لطیف اکثر سوہنی کے مزار پر حاضری دینے آیا کرتے تھے اور رات بھر گاتے رہتے تھے۔۔۔ اب بھی اُن کی دُعاکا آغاز یہاں سے ہوتا ہے۔ یہ محبت کا مندر ہے، یہاں محبت کے مارے لو گ آتے ہیں اور سوہنی کی قبر کے پاؤں میں دیئے جلاتے ہیں، اگر بتیاں سلگاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سوہنی مہینوال سندھ اور پنجاب کی سب سے زیادہ غمناک اور المیہ رومانوی داستان ہے۔ سوہنی کی قبر پر چراغ روشن کرتی سلطانہ نام کی ایک خاتون نے کہا ’’ہم جانتے ہیں کہ سوہنی اُن پانیوں کی حکمران ہے۔ اُن پر راج کرتی ہے جنہوں نے اُسے ڈبو دیا۔۔۔ پانی اُس کے تابع ہیں، وہ چاہے تو وہ سیلاب ہو جائیں اور چاہے تو سمٹ جائیں‘‘۔ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد یہ طے ہے کہ کبھی نہ کبھی میں نے شہداد پور کا سفر اختیار کرنا ہے۔۔۔ اُس سے شکایت کرنی ہے کہ میں اور تم چناب کے پانیوں کے پروردہ ہیں تو۔۔۔ اتنی دور کیوں آ دفن ہوئی ہو۔۔۔ اپنے گجرات اور چناب کے آس پاس کہیں تمہاری قبر ہوتی تو ہم بھی تم سے التجا کرتے۔۔۔ کہ ہماری سوہنی ہم سے ملا دے۔۔۔ کچھ دیئے جلا دیتے۔ جیسے بلھے شاہ نے مختلف کافیاں کلاسیکی راگوں کے سُرسنگیت کے سُروں میں تخلیق کیں۔۔۔ اور یاد رہے کہ شاہ بھٹائی کی مانند بلھے شاہ بھی کمال کے گلوکار اور موسیقار تھے۔ شہر قصور میں جو اُن کا مزار ہے اس کے پہلو میں ایک ’’عجائب گھر‘‘ ہے جس میں اُن کی ٹوپی، لبادے کے علاوہ اُن کا وہ قدیم ستار نما ساز بھی دیکھا جا سکتا ہے جسے وہ بجاتے تھے گاتے تھے۔۔۔ ایسے ہی شاہ لطیف کی ستار بھی ابھی تک ایک شوکیس میں محفوظ ہے۔۔۔ چنانچہ بلھے شاہ کی مانند شاہ لطیف نے بھی مختلف راگوں سے اپنی شاعری کو ہم آہنگ کیا۔۔۔ سُر کلیان، سُر کھنبات، سُر آسا، سُر بلاول، سُر رام کلی، سُر سارنگ اور سُر سوہنی۔۔۔ میں نے شاہ کی شاعری کے صحرائے اعظم میں سے ریت کے چند ذرّے چُن کر نشاندہی کی ہے۔۔۔ ورنہ اس صحرا میں کیسے کیسے مجنوں بھٹکتے ہیں، کیسے کیسے غزال چوکڑیاں بھرتے ہیں، میں ان کا کھوج لگانے سے قاصر ہوں۔
سکھیوں نے کی تیاری۔۔۔ اب دُور دیس ہے جانا
تیرے نینوں میں ہے نندیا
کر لے کچھ یاد سجن کی، جیون ہے رین بسیرا
تیرے نینوں میں ہے نندیا
سُن اس کو کان لگا کر، باجے ہے کُوچ کا ڈنکا
تیرے نینوں میں ہے نندیا
مایا ہے آنی جانی، رکھ دھیان سدا سجن کا
تیرے نینوں میں ہے نندیا
جگ جیون کا ہے سپنا، بہتے پانی پر چھایا
تیرے نینوں میں ہے نندیا
’’آں۔۔۔ غاں۔۔۔ غا۔۔۔ آ۔۔۔ آ۔۔۔ ہوں آں‘‘ اُس کے حلق سے عجیب سی آوازیں برآمد ہو رہی تھیں اور وہ اپنے تئیں کبھی دونوں ہاتھ بلند کر کے کبھی سینے پر باندھ کر مجھ سے باتیں کرتا مجھے کچھ سمجھانے کی سعی کر رہا تھا۔
درمیانی عمر کا شخص، ایک پرانی سندھی ٹوپی پہنے جو لگتا تھا کہ اُس نے کہیں جوانی میں پہنی ہو گی اور آج تک اُسے اپنے سر سے جدا نہیں کیا۔ قدرے باؤلا لگتا شاہ لطیف کے مزار کا رکھوالا، غلام حسین مجھ سے لپٹتا جاتا تھا اور ایک گونگے کی مانند جو کہ وہ پیدائشی طور پر تھا۔۔۔ غاں غاں غوں غوں کرتا اپنی مسرت کا اظہار کرتا چلا جاتا تھا۔ اُس نے مجھے پہچان لیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *