بد قسمتی؟

یاسر پیرزادہYasir Pirzada

 ہمارے ہمسائے میں ایک گھر ہے جس کے سرونٹ کوارٹر میں ایک خاندان رہتا ہے ‘ اس فیملی کی تمام عورتیں صبح سے شام تک گھروں میں کام کرتی ہیں ‘جبکہ گھر کا نام نہاد سربرا ہ اور اس کے دو جوان لڑکے کوئی کام نہیں کرتے ‘ یہ شخص بڑا دلچسپ کردار ہے ‘میرے پاس اکثر آتا جاتا رہتا ہے‘اس کے دماغ میں ہر وقت کسی بڑے کاروبار کی ’’فیزیبلٹی‘‘ہوتی ہے جس کے بارے میں اس کا خیال ہوتا ہے کہ اگر یہ بزنس شروع کیا جائے تو دنوں میں آٹھ سے دس کروڑ کمائے جا سکتے ہیں ‘ اس کا پسندیدہ جملہ ہے ’’سر‘ایک نئی اسکیم آئی ہے…!‘‘ اس کے بعد یہ مجھے بتاتا ہے کہ اگر لاہور کے فلاں مضافاتی علاقے میں کوڑیوں کے بھائو زمین ’’الاٹ‘‘ کروا لی جائے تو کیسے وہاں سے تیل نکل آئے گا۔پچھلے آٹھ سال سے میں اسے دیکھ رہا ہوں ‘ کبھی ا س شخص نے دو چار ماہ سے زیادہ کہیں نوکری نہیں کی ‘وجہ پوچھو تو بتاتا ہے کہ مالک حفظ مراتب کا خیال نہیں رکھتا تھا‘اسے اپنے ڈرائیور (یعنی موصوف ) سے بات کرنے کی تمیز ہی نہیں تھی لہٰذا میں نے نوکری کو لات مار دی۔اپنے لڑکوں کو بھی نوکری سے اٹھوا لینا اس کا محبوب کام ہے‘ اگر کہیں انہیں چھوٹی موٹی ملازمت مل جائے تو زیادہ سے زیادہ تین ماہ میں ان کی نوکری چھڑوا دیتا ہے کہ یہاں کام زیادہ ہے ‘واضح رہے کہ بچوں کی زیادہ سے زیادہ کوالیفکیشن پرائمری ہے !
ایک نوجوان کو میں برسہا برس سے جانتا ہوں‘ محنتی ہے ‘ ہنر مند ہے‘ ہر وقت کام میں مگن رہتا ہے ‘ کوئی ایسی برائی بھی نہیں جو خدا کی ناراضی کا سبب بنے ‘ ایک پرائیویٹ نوکری کرتا ہے جس سے اس کے گھر کا کرایہ ‘ بچوں کے اسکول کی فیس اور ماہانہ خرچ پوراہو جاتا ہے ‘ تنخواہ میں ہر سال تھوڑا بہت اضافہ بھی ہو جاتا ہے مگر اس کے باوجودگزشتہ دس برس میں اس کا معیار زندگی اس کے دوستوں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہوا‘ اس کے چند دوست جو اسی کی طرح لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے اب انہوں نے اپنا چھوٹا موٹا مکان تعمیر کر لیا ہے ‘ مناسب سی گاڑی خرید لی ہے اور اس کے دوست شاپنگ اور ہوٹلنگ بھی کرتے ہیں ‘ مگر یہ نوجوان ابھی دائرے کے سفر میں ہی ہے اور اس حصار کو توڑ کر باہر نہیں نکل سکا جس کے بعد کوئی شخص کم از کم اپنے ماہانہ خرچوں اور مستقبل کی جملہ پریشانیوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔
ایک اور نوجوان کو میرے کسی جاننے والے نے یہ کہہ کر میرے پاس بھیجا کہ یہ لڑکا قابل اور ذہین ہے ‘ حال ہی میں بی کام کیا ہے ‘ آگے تعلیم جاری رکھنے کے پیسے نہیں ‘ اگر ہوسکے تو کسی طریقے سے اس کی مدد کرو کہ یہ آگے پڑھ سکے۔ڈیڑھ منٹ کے انٹرویو کے بعد ہی اس نوجوان کی ذہانت اور قابلیت کھل کر سامنے آ گئی جب اس نے مجھے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی درخواست پیش کی جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ اگر اس ملک نے اُس کی تعلیم جاری رکھنے کا کوئی بند و بست نہ کیا تو مسلم امہ ایک گوہر نایاب سے محروم ہو جائے گی ۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انگریزی میں لکھی ہوئی اس درخواست میں املا اور گرائمر کی کم از کم سات غلطیاں تھیں (میرا اپنا ریکارڈ تین غلطیوں کا ہے)۔اس نوجوان کو میں نے تسلی دی کہ تم جیسا ہیرا ہم کھونا نہیں چاہتے ‘ تم ایم کام کرنے کی تیاری کرو‘داخلہ اور ماہانہ فیس کا انتظام ہو جائے گا‘البتہ دیگر اخراجات کے لئے تم ساتھ میں ٹیوشن وغیرہ پڑھا لیا کرنا۔جواب میں اس گوہر نایاب نے ایک تمسخرانہ مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھا‘درخواست میرے ہاتھ سے لی اور یہ کہہ کر رخصت ہو گیا کہ اگر میں نے ٹیوشن ہی پڑھانی ہے تو آپ کے پاس آنے کا کیا فائدہ! غربت کئی قسموں کی ہوتی ہے جس میں سے ایک قسم مطلق یا مکمل غربت ہے ‘ایک ایسا شخص جو جدی پشتی غریب ہو وہ تمام عمرایسی غربت کا شکار رہتا ہے جس سے چھٹکارہ پانا نہایت مشکل ہوتا ہے ‘ ایسے شخص کے دن کا آغاز اس سوچ سے ہوتا ہے کہ وہ کھانا کہاں سے کھائے گا اور اختتام اس بات پر کہ وہ کل صبح کیا کرے گا‘ بیمار ہو اتو دوا کہاں سے آئے گی‘ سردی میں بچوں کے تن پر کپڑا کہاں سے آئے گا ‘ نومولود کو بھوک لگے گی تو دودھ کے پیسے کہاں سے آئیں گے ‘ہاتھوں میں سکت نہ رہی تو کام کیسے کرے گا ‘ اور اگر کام نہ کر سکا تو زندہ کیسے رہے گا!ایک دوسری قسم وہ ہے جسے ہم relative povertyکہتے ہیں( جس کا اردو ترجمہ ’’اضافی غربت‘‘ عجیب سا ہے )‘یہ غربت کی وہ قسم ہے جس میں کوئی شخص اس لئے غریب مانا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے معاشرے اور ارد گرد کے لوگوں کے مقابلے میں ان سہولتوں سے محروم رہتا ہے جو عموما ً لوگوں کو حاصل ہوتی ہیں ‘ غربت کے اس ماڈل میں بنیادی سہولتوں کو سوسائٹی کے مروجہ معیار زندگی کے ساتھ جوڑ کر غربت کا تعین کیا جاتا ہے ‘ اس کی مثال یوں ہے کہ آج کل ہر ایسے ’’غریب‘‘ کے فون میں whatsappبھی ہے‘لیکن وہ ہے غریب!یہی وہ لوگ ہیں جن کی مثالیں میںنے دی ہیں ‘ بظاہریہ لوگ اپنی زندگی میں بہتری لانے کے خواہش مند بھی ہیں مگر اس کے باوجود ان کی زندگیوں میں کوئی خاص بہتری نہیں آتی ‘ان میں سے کچھ اسے بدقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ باقی جاگیرداری نظام‘ کرپشن‘ طبقاتی کشمکش اور حکومت کو گالیاں نکال کر خود کو تسلی دیتے ہیں ۔لیکن کیا واقعی ان کی زندگی میں بہتری نہ آنے کی یہی وجوہات ہیں ؟
اضافی غربت کی پہلی وجہ محنت نہ کرنا ہے ‘ آپ کسی آٹھویں فیل ضرورت مند کی نوکری کا بندو بست کر دیں اگلے ہی دن آپ کو طعنہ ملے گا کہ وہاں کام بہت زیادہ ہے ‘ گھر سے بہت دور ہے ‘ مالک بد تمیز ہے ‘ اور کچھ نہیں تو آپ کو بتایا جائے گاکہ جناب آپ نے میرے لڑکے کو کہاں بھیج دیا‘ وہ لوگ تو اس سے دفتر کی صفائی بھی کرواتے ہیں‘اب یہ تو کوئی کام نہ ہوا۔ایسے لوگو ں سے میں معذرت کرتا ہوں اور انہیں کہتا ہوں کہ آئندہ یہ غلطی نہیں ہوگی‘ چیف سیکریٹری پنجاب کی پوسٹ خالی ہونے والی ہے ‘انشاء اللہ وہاں لگوانے کی کوشش کروں گا۔اس غربت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی میں دوسروں پر انحصار کرنے کا رواج ہے ‘ کمانے والا ایک اور کھانے والے دس‘ گھر کا خرچہ چل رہا ہو تو کوئی’’ ویلا مسٹندا‘‘پرواہ نہیں کرتا کہ اسے بھی کوئی کام کرنا چاہئے ‘ بہن نوکری پر جاتی ہے ‘ بھائی گھر بیٹھ کر روٹیاں توڑ رہا ہے ‘ کوئی نوکری کرنے کا کہو تو جواب ملتا ہے کہ میں نے تو ٹی ایم او ہی لگنا ہے۔تیسری وجہ کوئی ہنر نہ سیکھنا‘ جتنے غریب بے روزگار لڑکے پھرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کوئی ہنر نہیں جانتے ‘ اور جو جانتے ہیں وہ اس میں مہارت پیدا نہیں کرتے ‘ آپ بازار میں اچھا الیکٹریشن ‘ پلمبر‘ موٹر مکینک یامستری ڈھونڈنے نکلیں تو شاید ہی آپ کو ایسا شخص ملے جو اپنے کام میں مکمل مہارت رکھتا ہو‘ ان کاموں کی پروفیشنل ڈگری دینے کے لئے حکومت منتیں کرتی ہے مگر لینے والے بہت کم ہیں ۔لوئر مڈل کلاس کے حصار سے باہر نہ نکل پانے کی چوتھی وجہ غلط سمت میں محنت کرنا ہے ‘ جس نوجوان کی میں نے شروع میں مثال دی ‘وہ محنتی اور قابل ضرور ہے ‘مگر وہ اس سمت میں محنت کررہا ہے جس میں اس کی مہارت نہیں ‘اسی لئے وہ اس دائرے سے باہر نہیں نکل پایا جس کے بعد زندگی میں سکون آ جاتا ہے۔ پانچویں وجہ (آخری نہیں ) بد قسمتی ہو سکتی ہے ‘ گو کہ بدقسمتی کی تعریف کرنا مشکل ہے اور عقلیت پسند بد قسمتی پر یقین بھی نہیں کرتے ‘مگر جمعہ کے روز ہونے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے کو دیکھ کر‘ جس میں دو سفیر وں اور دو سفیروں کی بیگمات سمیت تین پاکستانی جاں بحق ہوئے ‘ یہ لگتا ہے جیسے اس ملک پر کوئی نحوست چھا ئی ہوئی ہے‘ جو بد ترین بات ممکن ہو سکتی ہے وہ اس ملک میں ہو جاتی ہے ‘ غالباًاسی کو بد قسمتی کہتے ہیں۔
نوٹ: یہ کالم ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر لکھا گیا ہے ‘ اگر اس کالم سے کسی ایک غریب کا بھی بھلا ہو گیا تو میں سمجھوں گا کہ دنیا سے غربت ختم کرنے کے عوض اگلا نوبل انعام مجھے ملنا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *