حکومت ہاری لیکن برطانوی وزیر اعظم جیتی

15؍ جنوری کو دنیا کی نگاہ برطانیہ کی پارلیمنٹ پر لگی ہوئی تھی۔اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ پچھلے دوسال سے(Brexit) بریکسٹ کی وجہ سے حکومت یوروپین یونین سے مسلسل مذاکرات کر رہی تھی تاکہ برطانیہ یوروپین یونین سے باہر ہو کر بھی یوروپین یونین کے ساتھ تجارت ، سیکورٹی اور دیگر معاملات میں مل کر کام کرے۔لیکن تھریسا مے ایک بعد ایک ہر معاملے میں ناکام ہوتی گئی۔
پارلیمنٹ ایم پی سے بھرا پڑا تھا اور شام ٹھیک سات بج کر چالیس منٹ پر تھریسا مے کی حکومت کی یوروپین یونین معاہدے پر ووٹنگ کے نتائج کا اعلان ہوا تو یوروپین یونین حمایتی لوگوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔حکومت کو 230ووٹ سے بھاری ہار کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم 1924کے بعد برطانوی پارلیمنٹ میں کسی حکومت کی یہ سب سے بڑی ہار ہے۔
تھریسا مے یوروپین یونین میں رہنا ہے یا نہیں رہناکے معاملے میں ریفرنڈم کی ہار سے اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے استعفیٰ دینے کے بعد وزیر اعظم بنی تھیں ۔ اس کے بعد انہوں نے الیکشن کرواکے حیران کردیااور ان کی پارٹی کنزرویٹیو کی پارلیمنٹ میں اکثریت کم ہو گئی۔ حکومت بنانے کے لئے انہیں ناردن آئیرلینڈ کی ایک چھوٹی پارٹی سے معاہدہ کرنا پڑا۔ اس کے بعد آئے دن تھریسا مے پارلیمنٹ کو سمجھا سمجھا کر عاجز آگئی کہ انہوں نے یوروپین یونین سے برطانیہ کے لئے ایک اچھا اور عمدہ معاہدہ کیا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ الٹا دیکھا گیا اور تھریسا مے کی کابینہ کے وزیریکے بعد دیگرے استعفیٰ دیتے رہے۔ لیکن تھریسا مے بھی ڈٹی ہوئی ہیں اور انہوں نے تمام دشواریوں کے باوجود اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔تھریسا مے جب سے وزیر اعظم بنی ہیں انہیں اپنی پارٹی کے ان ایم پی سے دشواری ہورہی ہے جو یوروپین یونین کے حامی ہیں اور وہ لگا تار تھریسا مے کے کسی بھی فیصلے پرکڑی تنقید کر تے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا اسٹرجن بھی تھریسا مے کے لئے دردِ سر بنی ہوئی ہیں اور لگاتار اسکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے الگ کرنے کی مانگ کر رہی ہیں۔
لیبر پارٹی کے لیڈر جریمی کوربین نے تھریسا مے کو چیلنج کرتے ہوئے تھریسا مے کے خلاف اعتماد کا ووٹ بلانے کی مانگ کی ہے۔بریکسٹ (Brexit)کے متعلق لیبر پارٹی نے ہمیشہ کہا ہے کہ ’ اگر ان کی حکومت بنی تو وہ تھریسا مے کے بریکسٹ پلان کو ختم کر دیں گے۔تین ملین یوروپین جو برطانیہ میں رہ رہے ہیں ان کو برطانیہ میں رہنے کے لئے قانونی درجہ دیا جائے گا۔ ایک ملین برطانوی شہری جو یورپ میں رہ رہے ہیں ان کے لئے یوروپین یونین سے گفت و شنید کی جائے گی۔ ایک ایسا معاہدہ کیا جائے گا جس میں برطانیہ سمیت یوروپین یونین کی بھی بھلائی ہو۔
23؍ جون 2016کو برطانیہ میں یورپ کے ساتھ رہنے اور چھوڑنے کے سوال پر اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کر وایا تھا۔ جس میں 52%فی صد لوگوں نے (Brexit)بر یکسٹ(یوروپین یونین چھوڑنے والوں کا گروپ) کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔
تب سے برطانیہ میں سیاسی اورمعاشی طور پر ایک زلزلہ آیا ہوا ہے جو کچھ حد تک تو تھم گیا ہے لیکن اب بھی (Brexit)بر یکسٹ کا بھوت گاہے بگاہے کسی نہ کسی بہانے نمودار ہو رہا ہے جس سے سیاستداں سے لے کر عام آدمی تک سب نروس اور پریشان ہیں۔
یوں تو برطانیہ کی سیاسی صورتِ حال کا فی دگرگوں ہے کیونکہ) (Brexitبر یکسٹ کے بعد تمام سیاسی پارٹیاں ریفرنڈم کے نتیجے سے برہم ہیں ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں ایک وجہ معیشت ہے جس سے بزنس کمیونٹی کافی نروس ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ ایک طبقہ اس بات سے پر امید ہے کے (Brexit)بر یکسٹ سے ملک کی حالت بہتر ہوگی اور امیگریشن پر کنٹرول ہوگا۔ابھی حالات اس حد تک ساز گار نہیں ہوئے ہیں ۔تاہم برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں کسی طرح برطانیہ کے لوگوں اور دنیا والوں کو یقین دلائیں کہ برطانیہ یورپ سے نکل کر بھی ایک مستحکم اور مضبوط معیشت والا ملک ہے ۔لیکن ان کی تمام تر کوشش پر اس وقت پانی پھر گیا جب ان کی پارٹی سمیت اپوزیشن پارٹی کے ایم پی نے بھی بھاری تعداد میں ووٹ دے کر ان کے بریکسٹ معاہدے کو رد کر دیا۔
16؍جنوری کو ایم پی سارا دن پارلیمنٹ میں اس بات پر بحث کرتے رہے کہ کیا وزیر اعظم تھریسا مے اپنے عہدے کی اہل ہیں یا نہیں ہیں۔ دن بھر ایم پی اس بات پر الجھے رہیں کہ بریکسٹ معاہدہ جو تھریسا مے کر رہی ہیں کیا وہ مان لیا جائے یا وہ ناقابلِ قبول ہے۔ لیکن بہت سارے ایم پی اور عوام کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم تھریسا مے کو ہٹانے سے اس کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔پارلیمنٹ کی بحث سے عام آدمی سخت پریشانی کے عالم میں الجھا ہوا ہے کہ آخر بریکسٹ کے بھوت کو کیسے بوتل میں بند کر کے ہمیشہ کے لئے قید کر دیا جائے۔
شام سات بجے کے بعد ایم پی کے دئیے ہوئے ووٹ کا اسپیکر نے اعلان کیا اور نتیجہ ایک بار پھر حیرت انگیز طور پر وزیر اعظم کے حق میں تھا۔ لیبر لیڈر جریمی کوربین کی مانگ پر اعتماد کا ووٹ کیا گیا اور 325ایم پی نے وزیر اعظم کی حمایت میں ووٹ ڈالا جبکہ 306ایم پی نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔ گویا ایک بار پھر وزیر اعظم عہدے پر قائم رہنے میں کامیاب ہوگئیں۔ لیکن عوام اب بھی اس بات سے پریشانِ ہیں کہ آخر بریکسٹ کو معاملہ کیسے حل ہوگا اور برطانیہ یوروپین یونین کے ساتھ کیسا معاہدہ کرے گا۔ویسے حالاتِ حاضرہ سے تو دور تک اس مسئلے کے حل ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔
مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ جب وزیر اعظم تھریسا مے نے اپنا عہدہ سنبھالا تھا تو انہوں نے کیوں نہیں بریکسٹ معاہدے کے لئے تمام پارٹیوں کی ایک کمیٹی بنا کر مسئلے کو حل کرنے کا مشورہ دیا۔کیوں وزیر اعظم تنہا اس کام کو نبھانے کے لئے بضد رہیں۔ کیوں وزیر اعظم دو سال تک بریکسٹ معاہدے کو طئے کرنے کے لئے وقت ضائع کرتی رہیں۔ شاید اس کا جواب وزیر اعظم تھریسا مے کے پاس بھی نہ ہو۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعظم برطانیہ کو دنیا بھر کی تجارت سے جوڑنے اور فروغ دینے میں اپنا وقت زیادہ صرف کرتیں اور ساتھ ہی ساتھ تمام پارٹیوں کے اتفاق رائے سے بریکسٹ معاہدے کو بھی حل کروانے کی کوشش کرتی رہتیں۔ جس سے کم از کم برطانیہ دنیا سے تجارت کرنے کے ساتھ ساتھ یوروپین یونین سے بھی معاہدہ کرتا ۔ تاہم یہاں یہ بات بھی درست ہے کہ برطانیہ کا یوروپین یونین سے باہر ہونا ایک بہت بڑا نقصان مانا جا رہا ہے۔کیونکہ برسوں سے برطانیہ یوروپین یونین کا ایک اہم ممبر ملک رہا ہے اور جس کی وجہ سے برطانیہ کے یوروپین یونین حمایتی عوام اور ایم پی اتنی آسانی سے بریکسٹ معاہدے کو تسلیم کرنے سے جھجھک رہے ہیں۔
ایک دن حکومت ہار گئی تو دوسرے دن وزیراعظم ہارتے ہارتے بچ گئیں۔ گویا برطانوی پارلیمنٹ ایک عجیب و غریب موڑ پر الجھ کر رہ گئی ہے۔ وزیر اعظم کبھی جمہوریت کو بچانے کی اپیل کر رہی ہیں تو کبھی ملک کی سلامتی اور بہبودی کے لئے لوگوں سے متحد ہونے کی اپیل کر رہی ہیں۔
لیکن فی الحال اپوزیشن ایم پی وزیر اعظم کی کسی بات کو ماننے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ بلکہ اپوزیشن نیاالیکشن کرانے کے لئے مسلسل وزیر اعظم پر دباؤ ڈال رہی ہے اور وزیر اعظم عام لوگوں کی ہمدردی بٹورنے کے لئے بار بار بریکسٹ معاہدے کو منظور کروانے کی اپیل کر رہی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر بریکسٹ کا بھوت کب بوتل میں بند ہوگا اور برطانیہ ایک بار پھر یوروپین یونین کے ساتھ مل کر تجارت ، سیکورٹی، اور سرحدی مسائل کا جلداز جلد حل نکال کر برطانوی عوام کوتشویش اور الجھنوں سے باہر نکالے گا۔ تاہم مجھے ابھی کچھ بھی ایسا ہوتا نہیں دِکھ رہا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *