ارشد انصاری ،تلخیاں در تلخیاں اور غلطیاں در غلطیاں....

" شاہد نسیم چودھری "
پچھلے دنوں علی احمد ڈھلوں کی کتاب تلخیاں کی تقریب رونمائی کی تقریب میں راقم الحروف کو بھی مدعو کیا گیا تھا،لیکن کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اس تقریب میں شرکت ممکن نہ ہو سکی،بحر حال تقریب رونمائی ہوئی،شاندار طریقے سے اور ڈنکے کی چوٹ پر ہوئی،جس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری مہمان خصوصی تھے،یہ تقریب ویسے تو خصوصی طور پر علی احمد ڈھلوں کے کالموں پر مشتمل کتاب کی رونمائی کے حوالے سے تھی،لیکن اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے نئی ،پیاری اور لاڈلی حکومت ریاست کے چوتھے ستون ،صحافیوں اور صحافتی حلقوں کے ساتھ آجتک جو کچھ کر رہی ہے،اسکی بھی" دبنگ رونمائی" لاہور پریس کلب کے ہر دلعزیز اور نڈر صدر ارشد انصاری کے ہاتھوں ہوئی،وفاقی وزیر اطلاعات کی موجودگی میں ارشد انصاری کاکہنا تھا کہ میں بطور صحافی پورے پاکستان میں جاتا ہوں،ہر صحافی یہ سمجھتا ہے کہ یہ جو گورنمنٹ آئی ہے، یہ صحافیوں کے خلاف ہے،جب سے آپ آئے ہیں ادارے بند کر رہے ہیں،تو چوہدری صاحب !آج میں یہ سمجھتا ہوں کہ صحافت کے حالات بہت خراب ہیں،ویج بورڈ ملتا نہیں،تنخواہیں ملتی نہیں، علی احمد کی کتاب کا نام ہے" تلخیاں"، تو اسی مناسبت سے آج کچھ تلخ باتیں بھی ہونگی،یہاں جتنے صحافی بیٹھے ہیں ان میں سے کسی کو بھی سٹیج پر بلا کر پوچھیں کیا حال ہے؟،تو وہ آپ کے سامنے رو پڑے گا،میں توخود اندر سے رو رہا ہوں، کیونکہ مجھے سارا علم ہے ،کہ کیا حالات ہیں،پتہ نہیں کل کو کیا ہونا ہے،یہاں میں نیوز ون چینل کی بات کروں گا، حکومت نے نیوز ون کے مالک کو پرائم منسٹر ہاؤس میں بٹھا لیا ہے، یہاں پر بیگ صاحب بھی بیٹھے ہیں،ان سے پوچھیں لیں کہ انکے ادارے نیوز ون میں پچھلے چار ماہ سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی گئیں،آپ دیکھیں کیا ہو رہا ہے،آپ تو ایسے لوگوں کو پرائم منسٹر ہاؤس میں بٹھائیں گے،جو تنخواہیں نہیں دے رہے،کم از کم ایسے لوگوں کو تو پرائم منسٹر ہاؤس سے باہر نکالیں،یہ معاملہ ایسے تو نہیں چلے گا ،مالکان کو آپ بٹھانا چاہتے ہیں تو بٹھائیں،کس جگہ پر کیا ہو رہا ہے، آپ ہمارے ساتھ بیٹھ جائیں،بلند و باگ دعوے نہ کریں،کہ ہمCPNE کوAPNS ،PFUJ اورپریس کو بٹھالیں گے،تو جناب بٹھائیں،ہم سے بھی پوچھیں اور ان سے بھی پوچھیں،کہ ہو کیا رہا ہے، میری آپ سے گزارش ہے کہ مجھے آج موقع ملاہے، آپ پریس کلب لاہورمیں بھی آئیے گا،آپ نیشنل پریس کلب اسلام آباد بھی جائیے گا،چودھری صاحب! نچلے لوگوں سے بھی ملیں،CPNE ،APNSسے آپ بہت ملتے ہیں،اور روز وزیر اعظم سے آپ ان کو ملاتے ہیں، وزیر اعظم کو ان لوگوں سے بھی ملائیں،تاکہ ان کو پتہ چلے کہ وزیر اعظم کاکیا ویژن ہے،اور چودھری فوادصاحب! آج یہ بات کرنے کی گنجائش اور موقع تو نہیں ،لیکن چونکہ میں صحافیوں کاترجمان ہوں،مجھے انکی ترجمانی کرنی ہے،مجھے وزیر اعظم ہاؤس بھی جانا پڑا...،خان صاحب کا راستہ بھی روکنا پڑا...، تو میں ان کاراستہ روک کر بھی صحافی بھائیوں کی ترجمانی کروں گا،میں آپ سے بھی کہ رہا ہوں،CPNE اورAPNS کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں، کہ برائے کرم ہمارے ملازمین کو جو ادارے تنخواہیں اور واجبات اد ا نہیں کر رہے وہ ادا کریں، چودھری صاحب یہ آپکی بھی ذمہ داری ہے،کہ جو ادارے بند ہو رہے ہیں،انکو کھولیں خدا کا واسطہ،یہ نہ ہو کہ کل کو صحافیوں کے حقوق کیلئے ہمیں دھرنے دینے پڑیں، اسمبلیاں بند کرنی پڑیں تو کریں گے، کیونکہ میڈیا شدید مشکلات کا شکار ہے،ورکرز پریشان ہیں،میں غریب ورکرز کا منتخب نمائندہ ہوں،اور جب میرے ورکرز کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہوگا،تو میں چین سے نہیں بیٹھوں گا،موجودہ حکومت کو میڈیا مالکان اورمیڈیا ورکرز کے مسائل کو سمجھنا ہو گا،اس سلسلے میں حکومت کچھ نہیں کر رہی،سابقہ حکومت کے سیاستدانوں کی مثال دیتے ہوئے ارشد انصاری نے کہا کہ وہ آج کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں،وقت کا کوئی پتہ نہیں،کہ آنے والا "کل "کس کا اورکیسا ہو گا؟،لیکن صحافت نے پھر بھی رہنا ہے،شکوہ جواب شکوہ کے طور پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس ضمن میں گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہوئے فقط اتناہی کہا کہ صحافیوں کے مسائل حکومت کی نظر میں ہیں،ہم کوشش کریں گے کہ اشتہارات کی ادائیگیوں کومیڈیا ورکرز کی تنخواہوں کے ساتھ مشروط کیا جائے، لیکن صحافیوں کی اس تقریب کو بھیموقع غنیمت جانتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات اپوزیشن پر روایتی تابڑ توڑ حملے کرنا نہ بھولے،مگر صحافیوں کو" طفل تسلی" بھی صحیح طریقے سے نہ دے سکے ، جہاں اشتہارات نہ ملنے کے باعث پاکستان کے ہر بڑے شہر سے سینکڑوں صحافی بیروزگار ہوئے ہیں ،وہاں بیشمار صحافتی پیشہ چھوڑنے کو تیار بیٹھے ہیں، صحافی برادری کے ساتھ حکومتی رویے اور بے حسی کی وجہ نہ جانے کس ایجنڈے کی تکمیل کا حصہ ہے،جبکہ یہ حکومت شاید بھول گئی ہے،کہ ا س حکومت کا وجود میں آنا بھی اسی "میڈیا" کے مرہون منت ہے، جس میڈیا کے کندھوں پر بیٹھ کر عمران خان نے وزیر اعظم کی کرسی حاصل کی ہے،آج اسی کندھے کو دانستہ طور پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے،حکومت اسی شاخ کو کاٹ رہی ہے،جس پر وہ خود بیٹھی ہے، ملک کے ناموروہ تجزیہ کار،اینکراورکالم نگار جو اس حکومت کی تشکیل کو نیک فعال قرار دینے میں دن رات ایک کر رہے تھے،صرف پانچ ماہ کی حکومتی کارکردگی پر وہ توبہ توبہ کر اٹھے ہیں،انکے تبدیلی والے غبارے سے ہوا نکلتی جا رہی ہے...،علی احمد ڈھلوں کی کتاب" تلخیاں" کی شاندارکامیاب تقریب رونمائی پر ہم مبارکباد دیتے ہیں،اور امید کرتے ہیں کہ" تلخیاں "کے خالق سمیت صحافتی حلقوں کے کرتا دھرتا ،"حکومتی تلخیاں" کم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں گے،آواز خلق نقارہ خدا کے مطابق فی ا لحال تو نئی حکومت میں"تلخیاں در تلخیاں" اور "غلطیاں در غلطیاں "ہی ہیں...،جسکے تدارک کیلئے حکومت کو ادراک کرنا ہوگا...،وگرنہ پھربقول ارشد انصاری کے سابقہ سیاستدان کوٹ لکھپت جیل میں ہیں،اور"وقت" کا کوئی پتہ نہیں کہ" کل" کس کا اور" کیسا" ہو گا....،
کون عاجز صلہء تشنہ دہانی مانگے
جہاں آگ اسے دیتا ہے جو پانی مانگے
دل بھی گردن بھی ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہوں
جانے کب کس کا لہو تیری جوانی مانگے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *